Tuesday, April 07, 2026
 

امریکا کے ڈیڈلائن ختم ہونے سے قبل ہی ایران کے آئل ٹرمینل اور پُلوں پر حملے؛ 35 ہلاکتیں

 



امریکا اور اسرائیل نے ایران کے خارگ جزیرے پر مشترکہ حملے کیے جب کہ دارالحکومت سمیت متعدد بڑے شہروں میں انفرا اسٹریکچر کو بھی نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ ایرانی میڈیا کے مطابق امریکا اور اسرائیل نے خارگ جزیرے میں جس آئل ٹرمینل کو نشانہ بنایا ہے وہ ملک کا کلیدی تیل برآمدی مرکز ہے جہاں متعدد دھماکوں کی آوازیں سنی گئی ہیں۔ سوشل میڈیا پر باخبر صحافی باراک ریوڈ نے امریکی حکام کے حوالے سے دعویٰ کیا کہ خارگ جزیرے پر فوجی اہداف کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ تاحال ان حملوں میں ہونے والے جانی اور مالی نقصان سے متعلق کوئی معلومات سامنے نہیں آئی ہیں۔ البتہ جائے وقوعہ پر امدادی ٹیموں کو جاتے ہوئے دیکھا گیا ہے۔ خیال رہے کہ خارگ جزیرہ ایران کی تیل برآمدات کا سب سے بڑا مرکز ہے۔ جہاں سے ایران کا خام تیل بڑی مقدار میں عالمی منڈیوں تک پہنچتا ہے۔ دوسری جانب امریکا اور اسرائیل نے صدر ٹرمپ کی آبنائے ہرمز کو کھولنے کی ڈیڈ لائن ختم ہونے سے قبل ہی ایران کے شہری علاقوں میں انفرااسٹریکچر کو نشانہ بنانا شروع کردیا ہے۔ ان تازہ امریکی اور اسرائیلی فضائی حملوں میں پُلوں، ریلوے لائنوں اور ایک مرکزی شاہراہ کو شدید نقصان پہنچنے کی اطلاعات ہیں۔ سب سے زیادہ نقصان قم اور کاشان میں ہوا ہے۔ ایران کے سرکاری خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیل اور امریکا کے کاشان شہر کے وسطی علاقے میں ہونے والے حملوں میں 2 افراد جاں بحق اور 3 زخمی ہوگئے۔ ادھر شمالی ایران میں ایک اہم شاہراہ جو تبریز کو زنجان سے ہوتے ہوئے تہران سے ملاتی ہے جو امریکی حملے میں تباہ ہوگئی۔ دوسری جانب تبریز سے تقریباً 90 کلومیٹر دور ایک اور مقام پر بھی فضائی حملہ کیا گیا جس میں ایک اوور پاس پل تباہ ہوگیا۔ ایران کے کراج شہر میں امریکا نے ریلوے ٹریک کو بھی نشانہ بنایا جس میں متعدد افراد کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔ جن کی تصدیق کی جا رہی ہے۔ اس طرح صرف آج ایران پر ہونے والے امریکی و اسرائیلی حملوں میں جاں بحق افراد کی تعداد 35 ہوگئی جن میں سے 18 البروز صوبے، 9 شہریار، 6 پردیس اور 2 کاشان میں نشانہ بنے۔ واضح رہے کہ صدر ٹرمپ نے ایران کو دھمکی دی ہے کہ آبنائے ہرمز کو نہ کھولا گیا تو آج رات تک پوری تہذیب کو صفحہ ہستی سے مٹادیں گے جو دوبارہ پھر کبھی نہ اُٹھ پائے گی۔  

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل