Loading
موجودہ وفاقی حکومت نے اب تک عوام کو کوئی ریلیف نہیں دیا بلکہ عوام پر مسلسل ٹیکسوں کا بوجھ بڑھا جا رہے ہیں۔ لگتا ہے کہ حکومت عوام کو ریلیف نہ دینے کا فیصلہ کرچکی ہے جب کہ پنجاب میں صوبائی حکومت مسلسل ریلیف دینے میں مصروف ہے اور پنجاب کی پہلی خاتون وزیراعلیٰ نے اپنی دو سالہ بہترین کارکردگی سے سابقہ حکمرانوں کے تمام ریکارڈ توڑ دیے ہیں اور وہ پنجاب میں سب سے اچھی کارکردگی دکھا کر عوام میں مقبولیت حاصل کر رہی ہیں۔
سابق خادم اعلیٰ کی کارکردگی کو ملک میں جس طرح سراہا جاتا تھا دوسری بار وزیراعظم بن کر اپنی دو سالہ موجودہ حکومت میں ترقیاتی کاموں کے حوالے سے وہ ویسی کارکردگی نہیں دکھا رہے جتنی عوام کو ان سے امید تھی ۔ توقع ہے کہ وزیراعلیٰ پنجاب موجودہ کارکردگی کے باعث آیندہ وزیر اعظم بننے میں کامیاب رہیں گی۔
وہ عوام کو ریلیف دینے میں یقین رکھتی ہیں۔وفاقی حکومت عوام کو ریلیف دینے کی بجائے عوام پر ٹیکسوں کا بوجھ بڑھانے میں مصروف ہے جس کا حالیہ ثبوت اس نے مہنگی گیس پر فکس چارجز کی جبری وصولی کے بعد بجلی کے بلوں پر بھی فکس چارجز عائد کرکے دیا ہے جب کہ عوام پہلے ہی مہنگی بجلی مع متعدد ٹیکسوں کے استعمال پر مجبور ہیں جب کہ وفاقی حکومت پٹرولیم مصنوعات پر 160روپے فی لیٹر لیوی بھی عرصہ دراز سے وصول کرتی آئی ہے۔
پٹرول، بجلی اور گیس عوام کی بنیادی ضروریات ہی نہیں بلکہ ان کا استعمال عوام کی مجبوری ہے۔ حکومت نے بجلی کمپنیوں کو ماہانہ کروڑوں روپے کا فائدہ پہنچایا اور اس سلسلے میں موجودہ ن لیگی حکومت سے قبل پیپلزپارٹی اور پی ٹی آئی کی حکومتیں بھی ایسا کرچکی ہیں اور تینوں بڑی پارٹیوں نے اپنوں کو دل بھرکر نوازا اور بجلی کے گردشی قرضے بڑھائے جن کی ادائیگی کے لیے مسلسل بجلی مہنگی کی مگر گردشی قرضے کم نہیں ہوئے، جس پر تجزیہ کاروں نے گردشی قرضے کم نہ ہونے کو حکومتی ناکامی قرار دیا ہے ۔ تجزیہ کاروں نے کہا ہے کہ روزنامہ ایکسپریس کی نشاندہی پر حکومت 160روپے کی پٹرولیم لیوی وصولی پر دفاعی صورتحال میں چلی گئی اور کمی پر مجبور ہوئی ہے۔
گیس کے بعد بجلی بلوں پر فکس چارجز عائد کرکے بھی حکومت مطمئن نہیں اور بجلی مزید مہنگی ہونے کی اطلاعات ہیں اور حکومت موجودہ گیس بحران کی بنیاد پر گیس کے گھریلو صارفین کے لیے مزید کٹوتیوں پر غور کررہی ہے جو عوام کو مہنگی ادائیگی کے باوجود مل نہیں رہی اور دونوں گیس کمپنیوں کے اعلانات کے مطابق بھی گھروں کو گیس نہیں دی جارہی اور گیس کی بھی راشن بندی کا منصوبہ ہے اور سی این جی اسٹیشنوں کو بھی مطلوبہ گیس نہیں مل رہی اور گیس سلنڈر بھی مسلسل مہنگے کیے جارہے ہیں جس سے مہنگائی بڑھ رہی ہے۔
موجودہ حکومت عوام سے صرف زبانی ہمدردی دکھاتی ہے اور سہولت ایک ہاتھ سے دے کر دوسرے ہاتھ سے واپس لے لیتی ہے جس کا ثبوت حکومت سولر پالیسی میں تبدیلی کر چکی ہے ۔ بجلی کی قلت کو جواز بناکر بجلی کی کمپنیوں کو نوازنے میں تینوں بڑی پارٹیوں کی حکومتوں نے کوئی کسر نہیں چھوڑی تھی پھر سولر پالیسی کے تحت لوگوں کو سولرز لگانے کی ترغیب دی گئی جس سے بجلی کی پیداوار بڑھی جسے روکنے کے لیے موجودہ حکومت نے عوام کو اربوں روپے کا نقصان پہنچایا تاکہ بجلی کمپنیوں کو نقصان نا ہو کیوں کہ یہ بجلی کمپنیاں تینوں بڑی پارٹیوں کے سرمایہ داروں کی ہیں جن کا نقصان حکومت برداشت نہیں کرسکتی اور عوام کا نقصان کراکر مطمئن نہیں ہے۔
پٹرولیم مصنوعات، بجلی و گیس حکومتی آمدنی کا بڑا ذریعہ اور یہ تینوں عوام کی مجبوری ہیں جس کا بھرپور فائدہ ہر حکومت نے ماضی میں اٹھایا اور موجودہ حکومت سب سے زیادہ اٹھا رہی ہے۔ سیاسی وزرائے خزانہ کی حکومتی آمدنی بڑھانے میں ناکامی کے بعد دو سال قبل غیر سیاسی وزیرخزانہ لگایا گیا تھا۔
ایف بی آر کی پالیسی یہ بنی ہوئی ہے کہ جو افراد پہلے سے مسلسل ٹیکس ادا کررہے ہیں ان پر ہی مزید مالی بوجھ بڑھایا جاتا رہے کیوں کہ وہ ایف بی آر کے چنگل میں پھنس چکے ہیں اور حکومتی آفروں کے باوجود نئے لوگ اور نجی ادارے پھسنے کو تیار نہیں اور ایف بی آر کے اکثر افسران کے مشوروں سے فائدہ اٹھارہے ہیں اور حکومت کو ٹیکس دینے کی بجائے اپنے ان خیر خواہوں کی تجاویز مان رہے ہیں جس میں دونوں کا فائدہ ہے جس کے نتیجے میں ایف بی آر اپنے مقررہ اہداف حاصل نہیں کر پا رہا ۔
سندھ کے دیہی علاقوں کی صورتحال بہتر نہیں، وہاں کچھ علاقوں کے حالات تو یہ ہیں کہ روز روشن کی طرح غربت منہ کھلے نظر آتی ہے ۔ حکومت کی جانب سے ترقی کی کوششوں کے باوجود غربت، بنیادی ڈھانچے کی کمی اور بجلی کی عدم فراہمی جیسے بڑے مسائل بدرجہ اتم موجود ہیں۔
بعض گوٹھوں میں سرکاری اور نجی تعلیمی ادارے اور صحت کی سہولیات تو موجود ہیں، لیکن بجٹ کم ہونے کے باعث ان کا معیار نچلی سطح کا ہے۔ دیہی خواتین اکثر معاشی استحصال کا شکار دکھائی دیتی ہیں ۔ زراعت کی حالت میں کچھ زیادہ بہتر نہیں، زرعی ترقی کے لیے بہتر پالیسیوں کی ضرورت ہے۔ دیہی سندھ میں غربت ایک تلخ حقیقت ہے، جہاں کسان اور زرعی مزدور اکثر کمزور معاشی صورتحال کا سامنا کرتے ہیں۔ خواتین کی ایک بڑی تعداد زمینوں پر کام کرنے کے باوجود حقوق اور مناسب اجرت سے محروم ہے۔
ہر حکومت پچھلی حکومت کو ذمے دار قرار دے کر عوام سے قربانی طلب کرتی ہے مگر اشرافیہ کو اس قربانی میں برائے نام ہی شریک کیا جاتا ہے اور عوام ہی ہمیشہ قربانی دینے پر مجبور ہیں۔ حکومت عوام کی مجبوری سے بھرپور فائدہ اٹھاکر پٹرول، بجلی گیس مہنگی کرکے اپنے بڑھتے اخراجات پورے کرلیتی ہے مگر حکومت کی اشرافیہ اپنے اخراجات کم نہیں کررہی اور عوام کو مزید ٹیکسوں کی ادائیگی پر مجبور کیا جا رہا ہے مگر وزیراعظم ہاؤس اور ایوان صدر کے اخراجات کم ہونے کی بجائے مسلسل بڑھ رہے ہیں اور عوام کو صرف دلاسے دیے جارہے ہیں اور وزیراعظم نے ایک بار پھر کہا ہے کہ معاشی طور پر کمزور طبقے کو جلد سے جلد ریلیف فراہمی کے لیے کوشاں ہیں۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل