Thursday, April 09, 2026
 

آفات سے نمٹنے کیلیے ایک ارب ڈالر قرض لینے کا فیصلہ

 



حکومت نے ماحولیاتی آفات سے نمٹنے کیلیے ایک ارب ڈالر کا بجٹ سپورٹ قرض حاصل کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جبکہ مہنگی اشیاء کی خریداری پر اعتراضات کے باعث 40 ملین ڈالر کا منصوبہ مؤخر کر دیا گیا۔ سنٹرل ڈویلپمنٹ ورکنگ پارٹی نے ایشیائی ترقیاتی بینک سے کلائمیٹ ڈیزاسٹر ریزیلینس انہانسمنٹ پروگرام کے تحت ایک ارب ڈالر قرض لینے کی منظوری دید ی ہے، اس میں سے 500 ملین ڈالر فوری طور پر جاری کیے جائیں گے، جبکہ باقی رقم قدرتی آفات کی صورت میں استعمال کیلیے رکھی جائے گی۔ حکام کے مطابق یہ رقم جون سے پہلے موصول ہونے کی توقع ہے ، اس کا مقصد زرمبادلہ کے ذخائر پر دباؤ کو کم کرنا ہے،حکومت سعودی عرب اورعرب امارات سے مزید قرض کے حصول کیلیے بھی مذاکرات کر رہی ہے، تاکہ بیرونی ادائیگیوں کے اثرات کو کم کیا جا سکے۔ دستاویزات کے مطابق یہ قرض ادارہ جاتی صلاحیت بڑھانے، نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ پلان پر عملدرآمد، ایمرجنسی آپریشنز سینٹر کے قیام اور سیلاب سے بچاؤ جیسے منصوبوں پر خرچ کیا جائے گا۔ دوسری جانب ورلڈ بینک کے 40 ملین ڈالر کے پبلک ریسورس موبلائزیشن منصوبے کو مہنگے لیپ ٹاپ، کمپیوٹرز اور فرنیچر کی خریداری کے باعث مؤخر کر دیا گیا، منصوبے میں بعض آلات کی قیمتیں غیر معمولی طور پر زیادہ بتائی گئیں، جسمیں 3 ہزارڈالر کے لیپ ٹاپ اور مہنگے فرنیچر سیٹ وغیرہ شامل ہیں۔ وزیرمنصوبہ بندی احسن اقبال نے معاملے کی تحقیقات کیلیے کمیٹی تشکیل دیدی ، جو اخراجات اور خریداری کے عمل کا جائزہ لے گی۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل