Loading
شہر قائد کے علاقے نمائش چورنگی پر حکومت پاکستان کی ثالثی میں ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی کے باوجود اسرائیل کی جانب سے لبنان پر جاری حملوں کے خلاف احتجاجی جلسہ منعقد کیا گیا۔
جلسے میں مقررین نے اپنے خطاب میں کہا کہ وزیر اعظم شہباز شریف نے اپنے بیان میں خطے کے تمام محاذوں بشمول لبنان میں جنگ بندی کا ذکر کیا تھا تاہم سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ان بیانات کی پاسداری نہیں کی اور لبنان کے حوالے سے متنازع مؤقف اختیار کیا۔
علمائے کرام نے مزید کہا کہ ٹرمپ نے نہ صرف پاکستان کی ثالثی کی کوششوں کو نقصان پہنچایا بلکہ ایران کے ساتھ تجارت کرنے والے ممالک پر 50 فیصد ٹیرف کی دھمکی بھی دی، جس سے امریکا کے عزائم واضح ہوتے ہیں۔
مقررین کے مطابق پاکستان نے ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی میں اہم کردار ادا کیا، تاہم دوسری جانب اسرائیل نے لبنان پر شدید فضائی حملے جاری رکھے جس کے نتیجے میں اب تک معصوم بچوں اور خواتین سمیت تقریباً 300 افراد شہید ہو چکے ہیں، جن میں معروف عالم دین شیخ صادق نابلسی بھی شامل ہیں۔
جلسے سے خطاب کرنے والوں نے کہا کہ یا تو خطے کے تمام محاذوں پر جنگ بندی ہوگی یا پھر اسرائیل اور امریکا کو مزاحمت کا سامنا کرنا پڑے گا۔
خطاب کے دوران شرکا نے مقررین کے مؤقف کی تائید میں امریکا اور اسرائیل کے خلاف نعرے بھی لگائے۔
جلسے میں ملت جعفریہ کی مختلف تنظیموں کی ہنگامی کال پر بڑی تعداد میں علماء، معززین شہر، خواتین، بچوں اور نوجوانوں نے شرکت کی۔ مقررین میں مولانا ہادی ولایتی، مولانا قمبر رضوی، عباس بادامی، مولانا عقیل موسیٰ، علامہ صادق جعفری، مبشر رکن، مولانا ناظر عباس تقوی اور دیگر شامل تھے، جبکہ مرکزی خطاب مولانا حسن ظفر نقوی نے کیا۔
مظاہرین نے پلے کارڈز، قائدین مقاومت کی تصاویر اور جھنڈے اٹھا رکھے تھے اور احتجاجی جلسہ پرامن انداز میں اختتام پذیر ہوا۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل