Loading
دو سمندروں یا خلیجوں کو ملانے والی گذرگاہ آبنائے کہلاتی ہے۔گذشتہ مضمون میں انتالیس کیلو میٹرچوڑی آبنائے ہرمز کی اہمیت کا تذکرہ ہوا۔جزیرہ نما عرب کے مغربی کونے پر واقع گذرگاہ باب المندب بھی آبنائے ہرمز جتنی اہم ہے۔بحیرہ قلزم کو بحرہند سے ملانے والے باب المندب ( درِ اشک ) کی چوڑائی بتیس کلومیٹر ہے ۔اس کے ایک جانب یمن اور دوسری جانب جیبوتی ہے۔یہ گذرگاہ انیسویں صدی میں اس وقت بحری شاہ رگ کی صورت اختیار کر گئی جب بحیرہِ قلزم کو بحیرہ روم سے جوڑنے کے لیے نہر سویز تعمیر کی گئی۔ سویز کی تعمیر کے سبب ایشیا اور یورپ کے درمیان سفری دورانیے میں دس سے پندرہ دن کی کمی ہو گئی۔گویا بحری تجارت تیز رفتار اور سستی ہو گئی۔
باب المندب کی اہمیت کا یہ عالم ہے کہ سالانہ بارہ فیصد عالمی مصنوعات یہاں سے گذرتی ہیں۔ اگر آبنائے ہرمز کھلی ہو تو خلیجی ریاستوں کا چار ارب بیرل سالانہ ( چالیس لاکھ بیرل روزانہ ) سے زائد تیل باب المندب اور نہر سویز سے گذرتا ہے (یہ مقدار تیل کی کل عالمی رسد کا پانچ فیصد بنتی ہے )۔
آبنائے ہرمز کے ساتھ ساتھ باب المندب کی ٹریفک بھی معطل ہو جائے تو یوں سمجھئے کہ تیل اور گیس کی ایک چوتھائی عالمی تجارت ٹھپ ہو کے رہ جائے گی۔اس میں وہ دس فیصد کنٹینر جہاز بھی جوڑ لیں جو مغرب و مشرق کے درمیان باب المندب کے ذریعے سامان لاتے لے جاتے ہیں۔
آبنائے ہرمز بند ہونے کے سبب یورپ اور ایشیا کے لیے سعودی تیل کی برآمد کا سارا بوجھ اس وقت بحیرہ قلزم کی جانب یانبو آئل ٹرمینل پر منتقل ہو گیا ہے۔ سعودی عرب کے مشرقی ساحل سے مغربی ساحل تک آرامکو کی بارہ سو کیلومیٹر طویل ایسٹ ویسٹ پائپ لائن کے ذریعے روزانہ سات لاکھ ستر ہزار بیرل تیل کی ترسیل ہو سکتی ہے۔
غزہ پر سات اکتوبر دو ہزار تئیس کو اسرائیلی یلغار کے کچھ ہفتے بعد یمن کے بااثر ہوثی گروہ نے باب المندب کو بند کر دیا۔امریکا ، اسرائیل ، ہوثی مخالف خلیجی اتحاد اور ناٹو نے طاقت کا بھرپور استعمال کر کے بھی دیکھ لیا مگر باب المندب نہ کھلوا سکے۔چار و ناچار امریکا کو ہوثیوں کے ساتھ گذشتہ برس مئی میں جنگ بندی سمجھوتہ کرنا پڑا اور سعودی عرب کے ساتھ بھی جنگ روکنے کے لیے انڈرسٹینڈنگ ہوئی۔تب کہیں جا کے باب المندب کی ناکہ بندی سے گلو خلاصی ملی۔مگر اب خلیج کے جنگی بحران کے سبب امریکا اور ایران میں حتمی امن سمجھوتہ نہ ہونے کی صورت میں یا پھر لبنان پر اسرائیلی حملے نہ تھمنے کے نتیجے میں باب المندب کی راہ داری دوبارہ بند ہو سکتی ہے ( ہوثی ایران اور لبنانی حزب اللہ کے ہمراہ ’’ مثلثِ مزاحمت ‘‘ کا حصہ ہیں ) ۔ ایشیائی ممالک سے تجارت کے لیے بحیرہِ قلزم کی جانب کھلنے والی واحد اسرائیلی بندرگاہ ایلات پر گذشتہ تین برس سے ہو کا عالم ہے۔چنانچہ اسرائیل کا پورا بحری دار و مدار بحیرہ روم کے ساحل پر قائم دو بندرگاہوں حیفہ اور اشدود پر ہے اور یہ بندرگاہیں بھی مثلثِ مزاحمت کے حملوں کی زد میں رہتی ہیں۔
ویسے سمندری گذرگاہ بند کرنا زیادہ مشکل بھی نہیں۔یہ اس فلمی سین کی طرح ہے جس میں دو نوجوان موٹر سائیکل سوار بازار میں ہوائی فائرنگ کرتے اور چیختے گذر جائیں کہ بند کرو یہ سب اور پھر شٹر گرنے شروع ہو جائیں۔
ہوثی بھی چلتے جہازوں پر چار میزائل فائر کر دیں تو انشورنس کمپنیاں جہاز رانی کے بیمے سے ہاتھ کھینچ لیں گی اور ٹریفک کا رخ باب المندب کے بجائے راس امید ( کیپ ٹاؤن ) کی جانب مڑ کر افریقہ کا پورا چکر کاٹنے لگے گا ۔
فرض کریں آبنائے ہرمز اور باب المندب کھلے رہتے ہیں مگر کسی وجہ سے نہر سویز بند ہو جاتی ہے تو پھر بھی مصیبت ہے۔جون انیس سو سڑسٹھ کی عرب اسرائیل جنگ کے بعد سویز کینال آٹھ برس تک معطل رہی کیونکہ اس میں مصر اور اسرائیل نے ایک دوسرے کی جنگی کشتیاں ڈبو دی تھیں۔دو ہزار اکیس میں ایک کنٹینر جہاز پھنسنے کے سبب چھ روز تک نہری ٹریفک معطل رہی۔
اس نہر کے سبب یورپ اور اشیا کے درمیان بحری سفر میں آٹھ ہزار نو سو کلومیٹر کی کمی ہوتی ہے۔یہاں سے چاس لاکھ بیرل روزانہ تیل گذرتا ہے۔
سترہ نومبر اٹھارہ سو انہتر سے جاری اس ایک سو چورانوے کلومیٹر طویل نہر کی چوڑائی سات سو چالیس فٹ ( سوا دو سو میٹر) ہے۔یہاں سے سالانہ لگ بھگ اکیس ہزار جہاز گذرتے ہیں۔ نہر ستانوے برس ایک فرانسیسی کمپنی کی ملکیت رہی کیونکہ اس کے پہلے مالک فرڈیننڈ ڈی لاسپے نے نہر کی کھدائی کے لیے بنیادی سرمایہ کاری کی تھی۔اس کمپنی میں برطانوی سرمایہ کاروں اور خدیوِ مصر و سوڈان سعید پاشا کے بھی کچھ شئیرز تھے۔بیک وقت تیس ہزار مزدوروں کو کام پر لگایا گیا۔کل ملا کے دس برس میں کئی قومیتوں کے پندرہ لاکھ کارکنوں نے اس کی تعمیر میں حصہ لیا۔ایک لاکھ سے زائد مزدور ملیریا اور پیٹ کی بیماریوں میں لقمہِ اجل بن گئے۔
مصر کے صدر کرنل جمال عبدالناصر نے جیسے ہی چھبیس جولائی انیس سو چھپن میں نہر سویز کو قومی ملکیت میں لینے کا اعلان کیا تو فرانس ، برطانیہ اور اسرائیل نے نہر پر دوبارہ قبضے کے لیے حملہ کر دیا۔تاہم ایک ہفتے بعد امریکا اور سوویت یونین کی کوششوں سے جنگ بندی ہوئی اور نہر پر مصر کی حاکمیت تسلیم کر لی گئی۔تب سے اب تک اسے سویز کینال اتھارٹی چلاتی ہے۔دو ہزار چودہ پندرہ میں اس نہر کی چوڑائی میں توسیع کے بعد سے اوسطاً روزانہ ستر سے اسی جہاز گذر سکتے ہیں۔ نہر سے مصر کی سالانہ محصولاتی آمدنی نو سے دس بلین ڈالر کے درمیان ہے۔گذشتہ دو برس کے دوران غزہ کی جنگ کے سبب باب المندب کی ناکہ بندی سے مصر کو نہری آمدنی کی مد میں نو ارب ڈالر کا نقصان پہنچا۔
اگر ایران آبنائے ہرمز پر ٹول ٹیکس لگانے میں کامیاب رہا تو ہوثی بھی باب المندب پر ٹیکس وصول کرنے کے بارے میں سوچیں گے۔گویا بحران جلد ختم ہونے والا نہیں۔
(وسعت اللہ خان کے دیگر کالم اور مضامین پڑھنے کیلیے bbcurdu.com اورTweeter @WusatUllahKhan.پر کلک کیجیے)
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل