Loading
اسلام آباد میں ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی سے متعلق اہم مذاکرات کو خطے میں امن کے لیے ایک بڑی سفارتی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔ دوسری جانب وزیراعظم محمد شہباز شریف سے چیف آف آرمی اسٹاف و چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے ملاقات کی، ملاقات میں خطے میں پائیدار امن کے قیام کے لیے پاکستان کی ثالثی کی کوششوں کی پیش رفت کا جائزہ لیا گیا،سول عسکری قیادت نے تمام فریقوں کی جانب سے تحمل کے مظاہرے کو سراہا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ امن معاہدہ قریب ہو سکتا ہے اور پیش رفت مثبت سمت میں جاری ہے جب کہ اسرائیل بھی اپنے حملے کم کر دے گا۔مشرقِ وسطیٰ میں امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی کے بعد ایران نے آبنائے ہرمز کو جزوی طور پر کھولنے کا اعلان کیا ہے تاہم اس کے ساتھ سخت شرائط بھی عائد کر دی ہیں۔ایران کے نائب صدر محمد رضا عارف نے امریکا اور اسرائیل کی جارحیت روکنے کے لیے عبوری جنگ بندی ممکن بنانے پر پاکستان کی کاوشوں کو سراہا ہے۔اپنے بیان میں انھوں نے کہا کہ ایران اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات میں فعال طور پر شرکت کرے گا ۔
دنیا کی تاریخ میں کچھ لمحے ایسے ہوتے ہیں جب جغرافیہ محض سرحدوں کا نام نہیں رہتا بلکہ وہ انسانی شعور، عالمی ضمیر اور طاقت کے توازن کی نئی تعریف بن جاتا ہے۔ آج کا لمحہ بھی اسی نوعیت کا ہے، جہاں ایک طرف مشرق وسطیٰ کی زمین بارود، خوف اور غیر یقینی کے بوجھ تلے دبی ہوئی ہے اور دوسری طرف اسلام آباد ایک ایسے سفارتی مرکز کے طور پر ابھر رہا ہے جس کی طرف دنیا کی نظریں امید کے ساتھ اٹھ رہی ہیں۔ یہ محض ایک جنگ بندی یا مذاکراتی عمل نہیں بلکہ عالمی سیاست کے اس موڑ کی نمائندگی ہے جہاں پرانی صف بندیاں ٹوٹ رہی ہیں اور نئی ترجیحات جنم لے رہی ہیں۔پاکستان کی حالیہ سفارتی سرگرمیوں کو اگر تاریخی تناظر میں دیکھا جائے تو یہ ایک غیر معمولی ارتقاء کی نشاندہی کرتی ہیں۔
ایک ایسا ملک جو کئی دہائیوں تک داخلی چیلنجز، علاقائی کشیدگی اور عالمی دباؤ کا شکار رہا، آج نہ صرف ایک ذمے دار ریاست کے طور پر خود کو منوانے کی کوشش کر رہا ہے بلکہ ایک ایسے ثالث کا کردار ادا کر رہا ہے جس پر متحارب قوتیں بھی اعتماد کرنے پر آمادہ دکھائی دیتی ہیں۔ یہ تبدیلی اچانک نہیں آئی بلکہ اس کے پیچھے ایک طویل سفارتی ارتقاء، علاقائی حالات کی نزاکت کا ادراک اور عالمی نظام میں اپنی جگہ بنانے کی مسلسل کوشش شامل ہے۔ مشرق وسطیٰ کی موجودہ صورتحال اس لیے زیادہ خطرناک ہے کہ اس میں براہ راست عسکری تصادم کا عنصر شامل ہو چکا ہے اور اس کے ساتھ اسرائیل کی فعال شمولیت نے اسے ایک ہمہ گیر بحران میں بدل دیا ہے۔یہاں یہ سمجھنا ضروری ہے کہ اسرائیل کی سیکیورٹی پالیسی ہمیشہ پیشگی اقدامات پر مبنی رہی ہے۔
اس کے نزدیک خطرے کا انتظار کرنے کے بجائے اسے ابتدا میں ہی ختم کرنا زیادہ موثر حکمت عملی ہے۔ یہی سوچ اسے ایران کے خلاف جارحانہ اقدامات کی طرف لے جاتی ہے، خاص طور پر اس خدشے کے پیش نظر کہ ایران خطے میں اپنی عسکری اور جوہری صلاحیتوں کو بڑھا رہا ہے۔ اس تناظر میں بینجمن نیتن یاہو کی قیادت میں اسرائیلی پالیسی مزید سخت اور غیر لچکدار دکھائی دیتی ہے، جو کسی بھی قسم کے سمجھوتے کو اپنی سیکیورٹی کے لیے خطرہ سمجھتی ہے۔
دوسری طرف امریکا، جو طویل عرصے تک مشرقِ وسطیٰ میں ایک غالب طاقت رہا، اب ایک پیچیدہ صورتحال کا سامنا کر رہا ہے۔ افغانستان اور عراق کی جنگوں نے نہ صرف اس کے وسائل کو متاثر کیا بلکہ اس کی عالمی ساکھ کو بھی نقصان پہنچایا۔ ایسے میں ڈونلڈ ٹرمپ کا مذاکرات کے حوالے سے مثبت رویہ محض ایک سفارتی حکمت عملی نہیں بلکہ ایک ضرورت بھی ہے۔
امریکا اب براہ راست جنگ کے بجائے محدود مداخلت اور سفارتی حل کو ترجیح دینا چاہتا ہے، کیونکہ ایک نئی بڑی جنگ اس کے لیے سیاسی، معاشی اور عسکری لحاظ سے نقصان دہ ہو سکتی ہے۔ایران کی پوزیشن بھی کم پیچیدہ نہیں۔ ایک طرف وہ خطے میں اپنی عسکری برتری کو برقرار رکھنا چاہتا ہے، اور دوسری طرف اسے اپنی معیشت کو بھی سنبھالنا ہے جو طویل پابندیوں کی وجہ سے کمزور ہو چکی ہے۔ اس لیے وہ ایک ایسے معاہدے کی تلاش میں ہے جو اسے عالمی نظام میں دوبارہ شامل ہونے کا موقع دے، لیکن اس کے ساتھ ساتھ وہ اپنی خودمختاری اور اثر و رسوخ پر کوئی سمجھوتہ بھی نہیں کرنا چاہتا، یہی تضاد مذاکرات کو پیچیدہ بناتا ہے۔
ان تمام پیچیدگیوں کے درمیان پاکستان کا کردار ایک نازک توازن پر مبنی ہے۔ ایک طرف اسے امریکا کے ساتھ اپنے تعلقات کو برقرار رکھنا ہے، جو کہ معاشی اور عسکری لحاظ سے اہم ہیں اور دوسری طرف اسے ایران کے ساتھ اپنے ہمسایہ تعلقات اور مذہبی و ثقافتی روابط کو بھی مدنظر رکھنا ہے۔ اس کے علاوہ سعودی عرب اور دیگر خلیجی ممالک کے ساتھ اس کے تعلقات بھی اس کے فیصلوں پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ یہی وہ کثیر جہتی دباؤ ہے جس میں پاکستان کو اپنی سفارتی حکمت عملی ترتیب دینی پڑتی ہے۔
تاہم اس تمام سفارتی سرگرمی کے پیچھے جو انسانی المیہ چھپا ہوا ہے، وہ سب سے زیادہ اہم ہے۔ لبنان کے لاکھوں بے گھر افراد، جن کے گھر تباہ ہو چکے ہیں، جو بار بار اپنی زندگی کو نئے سرے سے شروع کرنے پر مجبور ہیں، وہ اس جنگ کی اصل قیمت ادا کر رہے ہیں۔ ان کے لیے یہ مذاکرات محض سیاسی عمل نہیں بلکہ بقا کا سوال ہیں۔ جب ایک بچہ بارود کی آواز میں پروان چڑھتا ہے تو اس کی نفسیات پر جو اثرات مرتب ہوتے ہیں، وہ آنے والی نسلوں تک منتقل ہوتے ہیں۔ یہی وہ خاموش تباہی ہے جو کسی بھی جنگ کو صرف ایک جغرافیائی تنازعے سے بڑھا کر ایک انسانی بحران بنا دیتی ہے۔آبنائے ہرمز کی صورتحال بھی اس بحران کا ایک اہم پہلو ہے۔
یہ محض ایک سمندری راستہ نہیں بلکہ عالمی معیشت کی شہ رگ ہے۔ ایران کی جانب سے اس پر جزوی کنٹرول اور محدود رسائی کی پالیسی اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ وہ اپنی اسٹریٹجک حیثیت کو کمزور نہیں کرنا چاہتا ہے۔ اگر یہ صورتحال برقرار رہتی ہے تو عالمی تیل کی قیمتوں میں اضافہ، سپلائی چین میں خلل، اور عالمی معیشت میں عدم استحکام پیدا ہو سکتا ہے۔ اس کا اثر ترقی یافتہ اور ترقی پذیر دونوں طرح کے ممالک پر پڑے گا۔ مستقبل کے منظرناموں کا جائزہ لیا جائے تو کئی امکانات سامنے آتے ہیں۔ ایک مثبت منظرنامہ یہ ہے کہ مذاکرات کامیاب ہو جائیں اور ایک جامع معاہدہ طے پا جائے جس میں نہ صرف جنگ بندی بلکہ اعتماد سازی کے اقدامات، اقتصادی تعاون، اور سیکیورٹی انتظامات شامل ہوں۔
اس صورت میں مشرقِ وسطیٰ ایک نئے دور میں داخل ہو سکتا ہے جہاں تنازعات کے بجائے تعاون کو ترجیح دی جائے۔ایک درمیانی نوعیت کا منظرنامہ یہ ہو سکتا ہے کہ مذاکرات جزوی کامیابی حاصل کریں۔ یعنی جنگ بندی برقرار رہے لیکن بنیادی مسائل حل نہ ہوں۔ اس صورت میں ایک نازک امن قائم ہوگا جو کسی بھی وقت ٹوٹ سکتا ہے۔ یہ صورتحال بظاہر مستحکم نظر آئے گی لیکن اس کے اندر مسلسل تناؤ موجود رہے گا۔ سب سے خطرناک منظرنامہ یہ ہے کہ مذاکرات ناکام ہو جائیں اور جنگ ایک نئے اور زیادہ شدید مرحلے میں داخل ہو جائے۔ اس صورت میں نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ پوری دنیا ایک بڑے بحران کا شکار ہو سکتی ہے۔ تیل کی قیمتیں آسمان کو چھو سکتی ہیں، عالمی تجارت متاثر ہو سکتی ہے، اور بڑی طاقتوں کے درمیان براہ راست تصادم کا خطرہ بھی بڑھ سکتا ہے۔
پاکستان کے لیے ضروری ہے کہ وہ ان تمام امکانات کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنی حکمت عملی ترتیب دے۔ اسے نہ صرف سفارتی سطح پر بلکہ داخلی سطح پر بھی خود کو مضبوط بنانا ہوگا۔ ایک مستحکم معیشت، مضبوط ادارے، اور قومی یکجہتی ہی اسے اس قابل بنا سکتے ہیں کہ وہ عالمی سطح پر ایک مؤثر کردار ادا کر سکے۔ عوامی حمایت بھی اس عمل میں ایک اہم عنصر ہے۔ جب عوام کی اکثریت امن کی کوششوں کی حمایت کرتی ہے تو یہ حکومت کے لیے ایک مضبوط بنیاد فراہم کرتی ہے۔ یہ اس بات کا بھی ثبوت ہے کہ پاکستانی معاشرہ جنگ کی تباہ کاریوں کو سمجھتا ہے اور ایک پرامن دنیا کا خواہاں ہے۔
آخر میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ اسلام آباد میں ہونے والے یہ مذاکرات محض ایک سفارتی عمل نہیں بلکہ ایک تاریخی موقع ہیں۔ یہ وہ لمحہ ہے جہاں سے نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ پوری دنیا کی سمت تبدیل ہو سکتی ہے، یہ اس بات کا امتحان بھی ہے کہ آیا انسانیت اب بھی مکالمے، برداشت اور تعاون پر یقین رکھتی ہے یا نہیں۔اگر یہ کوشش کامیاب ہوتی ہے تو یہ اس بات کا ثبوت ہوگی کہ دنیا اب بھی عقل اور دانش کی بنیاد پر فیصلے کر سکتی ہے، لیکن اگر یہ ناکام ہوتی ہے تو یہ ایک ایسی تنبیہ ہوگی جو آنے والی نسلوں کو یہ یاد دلائے گی کہ طاقت کے اندھے استعمال کا انجام ہمیشہ تباہی ہی ہوتا ہے۔ پاکستان اس موڑ پر کھڑا ہے جہاں اس کے فیصلے نہ صرف اس کے اپنے مستقبل بلکہ عالمی تاریخ پر بھی اثر انداز ہو سکتے ہیں۔ یہی اس لمحے کی اصل اہمیت ہے، اور یہی وہ ذمے داری ہے جسے نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل