Friday, April 10, 2026
 

معیشت کی شرح نمو ، جب معیشت نے کروٹ لی

 



پاکستان کی معیشت کے حوالے سے وفاقی حکومت نے جو تازہ اعداد و شمار پیش کیے ہیں وہ محض خشک ہندسوں کا مجموعہ نہیں بلکہ گرد آلود کھیتوں، دھواں چھوڑتی چمنیوں ، گندم کی بالیوں، کپاس کی روپہلی ریشوں کا وہ فسانہ ہے جو اعداد و شمار کی زبان میں بیان کیاگیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق مالی سال کی دوسری سہ ماہی یعنی اکتوبر تا دسمبر 2026 کے دوران معیشت کی شرح نمو 3.89 فی صد رہی۔ گزشتہ برس کی دوسری سہ ماہی کا آخری دن تھا اور جب رات ڈھلنے لگی اور نئے سال نے اپنے نرم قدموں سے پاکستانی معیشت کا دروازہ کھٹکھٹایا اور 3 ماہ کا حساب کتاب طلب کیا تو حکومتی اعداد و شمار نے3.89 فی صد کی فخریہ شرح نمو کی سانس لی۔ یہ نمو ایسے تھی جیسے یکم جنوری کی سرد صبح میں سورج کی پہلی کرن۔ جسے چند روز قبل حکومتی بیانے کا روپ دیا گیا تو ماہرین حیران تو تھے، ایسے میں میرے قلم نے اس حیرانگی کو امید کی دعا دیتے ہوئے یوں لکھا کہ ان اعداد و شمار میں ہر فیصد ایک خواب بھی ہے اور ہر اعشاریہ ایک دعا بھی۔ دعا ہے کہ ترقی کا یہ سفر جاری رہے۔ اس رپورٹ کا سب سے طاقتور کردار صنعت ہے اور صنعتی شعبے نے 7.4فی صد کی جو شرح نمو دکھائی ہے اب اسے معیشت کی دنیا میں دیکھنا ہوگا جب مارچ میں فروری کے مقابلے میں برآمدات میں 14 فی صد کی کمی ہوئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق بجلی گیس کے شعبے میں 15.11فی صد کا غیر معمولی اضافہ ایسا دکھائی دے رہا ہے کہ بجلی کے تاروں میں دوڑتی ہوئی توانائی، کارخانوں کے بوائلرز میں جلتی ہوئی گیس نے پیداواری عمل کو جلا بخشی ہے۔ تعمیراتی شعبے کی بلندیاں بیان کرتے ہوئے رپورٹ کا خیال ہے اس شعبے میں 10.53 فی صد کی نمو یہ بتا رہی ہے کہ شہروں کے افق پر نئی دیواریں کھڑی ہورہی ہیں۔ اینٹوں، بلاک، سیمنٹ، ریتی، بجری اور سریوں نے مل کر مستری کے ہاتھوں میں ہنر جگا دیا جو دیرپا استحکام اور مضبوطی کی بنیاد بن سکتی ہے۔ بڑے پیمانے کی صنعت نے 5.71 فی صد کی ترقی حاصل کی ہے۔ خدمات کا شعبہ جس کی باگ ڈور آئی ٹی کے ہاتھ میں ہے جس کو ملک کے نوجوان چلاتے ہیں۔ اس بار 3.69 فی صد کی نمو کے ساتھ سامنے آیا ہے۔ ہول سیل اور ریٹیل ٹریڈ میں 4.5 فی صد کا اضافہ ہوا ہے۔ تعلیم اور صحت کے شعبوں میں 4.9 فی صد اور 5.7 فی صد بالترتیب اضافہ یہ بتاتی ہے کہ ریاست اب اپنے طالب علموں پر سرمایہ کاری کی طرف مائل ہورہی ہے۔ یہ نمو اس بوڑھے استاد کی طرح ہے جو خاموشی سے نئی نسل کی آبیاری کرتا ہے یا اس معالج کی طرح ہے جو ٹوٹی ہوئی ہڈیوں کو جوڑتا ہے یا اس سرجن کی طرح ہے جو ڈوبتے ہوئے دلوں کو تیرا کر ہی چھوڑتا ہے۔  زراعت کا شعبہ ان تین ماہ میں کچھ رنجیدہ سا نظر آرہا ہے محض 1.76 فی صد کی مجموعی نمو میں وہ جوش و خروش نہیں تھا جو گزشتہ برسوں میں دیکھاگیا تھا یہ تو معلوم ہورہا تھا کہ کپاس کی فصل میں کمی ہوئی ہے لیکن گندم کی فصل کے بارے میں محکمہ شماریات کے حکام سے بار بار سوالات کیے گئے لیکن وہ مکمل اعداد و شمار آخر کس طرح سے پیش کرسکتے ہیں۔ جب بعض علاقوں میں ابھی کھیتوں میں گندم کی سنہری بالیوں نے درانتی کی شکل بھی نہ دیکھی ہو۔ جب فصل نے اپنی آخری سانس لے کر زمین سے رشتہ نہ توڑا ہو۔ یہ سوالات شاید حقیقت سے ناواقفیت تھی۔ کیا کبھی کسی نے سوچا کہ پی بی ایس کے وہ گمنام سپاہی دشوار گزار راستوں کا سفر کرکے بہت سے ایسے علاقے ہیں جہاں ان کو اپنی جان کا خطرہ بھی ہوتا ہے۔ کبھی کچی سڑکیں، کبھی سیلاب کے پانی سے گزر کر، کبھی ایسے کھیت جہاں تک پہنچنا ہی ایک امتحان ہو لیکن وہ اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر نکلتے ہیں تاکہ قوم کو درست تصویر دکھا سکیں، لہٰذا جب فصل ابھی کٹی نہیں تو حساب کتاب کس بات کا۔ ابھی چکوال، تلہ گنگ، اکوال ، تھوہا محرم خان کے علاقوں میں ژالہ باری کے باعث گندم کی فصل کو شدید نقصان پہنچا ہے لہٰذا ان تمام باتوں کو مدنظر رکھ کر ہی محکمہ درست تصویر دکھا سکتا ہے۔ معیشت کی یہ 3.9 فی صد کی نمو کوئی حتمی منزل نہیں بلکہ ایک طویل سفر کا ایک سنگ میل ہوسکتا ہے قطع نظر اس کے کہ عالمی ادارے اور بلومبرگ کیا کہتے ہیں مگر اصل حقیقت ان اعداد و شمار کے پیچھے چھپے ہوئے ان کروڑوں غریب انسانوں کی ہے جن کی زندگی میں یہ نمو روٹی ،کپڑے برسرروزگار ہونے کی صورت میں ڈھلنی چاہیے اب جو چیلنجز ہماری معیشت کے سر پر سوار ہیں ان میں بیرونی قرضوں کی ادائیگی ، پٹرول کی قیمت مہنگی سے مہنگی تر ہوئے چلی جارہی ہے۔ مہنگائی سر چڑھ کر بول رہی ہے لہٰذا میرا خیال ہے کہ معیشت کی شرح نمو 3.9 فی صد سے مزید کم بھی ہوسکتی ہے۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل