Friday, April 10, 2026
 

ایمنسٹی اسکیم کی اشد ضرورت ہے!

 



فیلڈ مارشل کی قیادت میں‘ پاکستان نے جو کامیاب سفارت کاری کی ہے ۔ اس سے ملکی اور غیر ملکی سطح پر ہماری توقیر میں گراں قدر اضافہ ہوا ہے۔ اسلام آباد میں‘ دو حد درجہ متحارب فریقین کو مذاکرات کی میز پر بٹھانا حد درجہ منفرد بات ہے۔ اس تمام محنت کا سہرا‘ عاصم منیر اوران کی ٹیم کوجاتا ہے۔ ذمے داری سے عرض کر رہاہو کہ اس دشوار اور نازک ترین کام کی براہ راست نگرانی اگر فیلڈ مارشل بذات خود نہ کر رہے ہوتے‘تو شاید کامیابی سمیٹنا ممکن نہ ہوتا۔ سیاسی ٹیم میں وزیر خارجہ کی بھاگ دوڑ‘ سب سے نمایاں نظر آتی ہے۔ دو ہفتے کی جنگ بندی کے بعد کیا حالات ہوں گے، اس پر کچھ بھی کہنا قبل از وقت ہے؟ گمان یہی ہے‘ کہ یہ عارضی صلح‘ مستقل بنیادوں پر ٹھوس معاہدوں کی بنیاد ضرور بن سکتی ہے۔ اس سفارتی کامیابی کے خلاف‘ ہمسایہ ملک میں جو سینہ کوبی کی جا رہی ہے ، وہ دیدنی ہے۔ سوشل میڈیا پر ہندوستان کے کئی سنجیدہ مبصرین ہمارے متعلق اتنی ادنیٰ گفتگو فرما رہے ہی کہ سن کر حیرت ہوتی ہے۔ بلکہ ان کے متعلق گمان ہوتا ہے کہ وہ بین الاقوامی معاملات کی نزاکت کوسمجھنے سے قاصر ہیں اور پاکستان دشمنی میں اندھے ہوکر جو جی میں آئے‘ فرمائے جا رہے ہیں جو اکثر لایعنی معلوم پڑتا ہے۔ ہندوستان میںپراون ساہنی جیسے مدبر ‘ تجزیہ کار انگلیوں پر گنے جا سکتے ہیں جو اس پورے معاملے کوغیر متعصب انداز پر دیکھتے ہیں۔ پراون ساہنی برملا کہہ رہے ہیں کہ پاکستان ‘ پورے ایشیاء میں ایک بہت کامیاب طاقت کے طور پر ابھرا ہے۔ اس نے ثابت کیا ہے ‘ وہ ایک مؤثر حکمت عملی اختیار کرنے کی بدولت ‘ ایک سفارتی گڑھ بن چکا ہے جس پر پوری دنیا کو اعتماد ہے۔ پراون تو یہاںتک کہہ رہے ہیں کہ پاکستان ایک ایسا زبردست ملک ہے  جس پر امریکا‘ چین‘ اور روس یعنی تمام عالمی طاقتیں بیک وقت اعتبار کرتی ہیں۔ طالب علم کی نظر میں یہ بالکل معمولی بات نہیں ہے، حد درجہ فخر اور شکر کا مقام ہے۔ اور یہ مرتبہ بہت ہی کم ممالک کی خوش بختی بنتا ہے۔ انشاء اللہ اگلے دوچار دن میں‘ ہمارے ملک کی سفارت کاری کی بدولت ‘ ہمیں مزید کامیابیاں نصیب ہوں گی۔ مگر یہ تصویر کا صرف ایک رخ ہے اور دوسرا رخ سامنے لانا بھی ضروری ہے۔ اس میں کوئی شبہ نہیں ‘ کہ ہماری معیشت کمزور ہے اور فی الحال کوئی ایسا قدم بھی نظر نہیں آرہا جو ہماری معیشت کا رخ کامیابی کی طرف موڑ دے۔ وزیر خزانہ اور ان کی معاشی ٹیم‘ کاروباری اور صنعتی شعبے کے بارے میں غیر معمولی فیصلہ نہیں کر سکے۔ کرپشن کی بات نہیں کر رہا، وہ تو ہر دور میں‘ ہرسطح پر موجود رہی ہے اور آئندہ بھی موجود رہے گی۔ اس وقت ‘ میرا موضوع‘ کرپشن نہیں ہے۔ اس لیے بھی کہ برصغیر کے عظیم فلسفی’’چانکیہ‘‘ نے اپنی کتاب ’’ارتھ شاستر‘‘ میں ہزاروں برس پہلے لکھا ہے کہ برصغیر میں سرکاری عمال کی مالی بے ضابطگیاں بے حد بڑھ چکی ہیں، یہ بیماری صدیوں میں ٹھیک نہیں ہو پائی۔ اسے ‘ آج کے ماحول کے ’’ سیاسی لوگ‘‘ کیا درست کر پائیںگے؟ لہٰذا اس نازک معاملہ کو کسی اور موقع کے لیے اٹھا رکھیے۔ بات معاشی صورتحال کی ہو رہی تھی۔ اس نکتہ پر سارا دن بات ہوتی رہتی ہے مگر اس کے مستقل حل کی طرف کم ہی توجہ دی جاتی ہے۔ طالب علم کی دانست میں‘ موجودہ حالات میں‘ اس کٹھن مشکل کوذہانت اور جرات سے حل کیا جا سکتاہے۔ غور فرمایئے ، یواے ای میں‘ پاکستانی سرمایہ کاروں کا مبینہ طور پر ایک سو بلین ڈالر بینکوںمیں موجود ہے۔ ٹاوراور رہائشی عمارتیں‘ ان کے علاوہ ہیں۔ یو اے ای میں اس وقت ہمارے شہریوں سے زیادتی ہو رہی ہے۔لوگوں کے ویزے منسوخ کر کے زبردستی پاکستان بھجوایا جا رہاہے۔ قواعد و ضوابط کو تھوڑی دیر کے لیے بالائے طاق رکھیے۔ ایک کاروباری ذہن کے ساتھ سوچیے، اگر یہ سرمایہ ‘ پاکستان آ جائے تو ہمارے ان گنت مسائل حل ہو سکتے ہیں۔ کرنا کیا ہے؟ یہ اہم ترین بات ہے۔ ایک بھرپور قسم کی ایمنسٹی اسکیم بنائی جائے۔ دوبئی یا خلیجی ممالک سے جو بھی پیسہ لانا چاہے اس پر کسی قسم کی کوئی قدغن نہیں ہونی چاہیے۔ کوئی پوچھ گچھ بھی نہیں ہونی چاہیے اور اس ایمنٹسی اسکیم پر ایک فیصد ٹیکس لگا دینا چاہیے۔ آئینی تحفظ دے دیا جائے تو کیا کہنے۔ اگر ایک سو بلین میں سے پچاس بلین ڈالر بھی اپنے ملک میں آتے ہیں تو اندازہ فرمائیے کہ ہمارے ملکی ذخائر کتنے بلند ہو جائیں گے اوراقتصادی مشکلات میںکتنی کمی واقع ہوجائے گی۔ مگر یہاںایک بات کرنا ضروری ہے۔ اس ایمنسٹی اسکیم کوایف بی آر اور دیگر اداروں ‘ عسکری قیادت کی کڑی زیر نگرانی میں سرانجام دیں تو ہی معاملہ آگے بڑھ سکتاہے۔ دعویٰ سے عرض کروں گا کہ اگر اس تجویز پر محنت کی جائے‘ تو ملک کی قسمت بدل سکتی ہے۔ ہمارے سیاستدانوں میں اتنی صلاحیت نہیںہے کہ کوئی حکیمانہ فیصلہ کرسکیں۔ ان کے حوالے سے کوئی نیا کام کرنا‘ ویسے بھی مناسب نہیں۔ ثبوت کے طور پر یہ عرض کروں گا کہ رئیل اسٹیٹ کے حوالے سے ٹیکس کم کرنے کی تجویز تھی۔غیر دانش مندی کی انتہا دیکھئے کہ وہ بھی مبینہ طور پرکچھ دن پہلے رد کر دی گئی۔ اس پیچیدہ صورتحال میں کیا کیا جائے۔ وہی جو میں نے پہلے عرض کیا کہ ایک ایمنسٹی اسکیم کو ترویج دیں۔ دبئی کا پیسہ اور پاکستان میں رئیل اسٹیٹ کی اٹھان دو ایسے قابل عمل کام ہیں جو معاشی طور پر ہمیں دوبارہ پیروں پر کھڑے کر سکتے ہیں۔ پی ٹی آئی کے کارکن اور راہنماؤں پر پرچوں کو ختم کیا جائے۔ اگر قیدی کی شخصیت سے کوئی اختلاف ہے تو بے شک اسے وزیراعظم نہ بنایاجائے۔ یقین ہے کہ سیاست دانوں کو اس تجویز سے شدید اختلاف ہو گا۔ اس کی وجہ سمجھ آتی ہے۔ ان میں سے کئی بلدیاتی الیکشن جیتنے کے قابل بھی نہیں۔ پاکستان کی ترقی اور استحکام سب سے زیادہ مقدم ہے اور اس پر کسی قسم کے کوئی اختلاف رائے کی گنجائش نہیں ہے۔ کسی بھی سیاسی گروہ کی وکالت نہیںکر رہا صرف اور صرف اپنے ملک کا وکیل ہوں۔ یہ ملک ہے تو سب کچھ ہے اور خدانخواستہ اگر اس کی سالمیت پر کوئی زد پڑتی ہے تو سوچ کر بھی دل کانپ اٹھتا ہے۔ہمارے پاس مشاورت کے لیے ہر ذریعہ موجود ہے۔ خفیہ ادارے پاتال کی تہہ سے سوئی ڈھونڈنے کی استطاعت رکھتے ہیں ۔ پھرکوئی وجہ نہیں کہ ہم اپنی نسلوں کے درخشاں مستقبل کے متعلق غور و فکر نہ کریں۔ کسی انقلاب کی بات نہیں کر رہا صرف درست حکمت عملی پر سوچ بچار کرنے کی درخواست کر رہا ہوں۔ جس شاندار طریقے سے عسکری حکام نے سفارت کاری کے میدان میں فتح کے جھنڈے گاڑے ہیں‘ اسی طرح ایک پر کشش ایمنسٹی اسکیم کو رائج کرنے کا درست وقت یہی ہے۔ ساتھ ساتھ سیاسی استحکام پیدا کرنا ہمارے ملک کے لیے بہت زیادہ سود مند ہو گا۔ ہو سکتا ہے کہ میری تجاویز گھڑسواروں تک پہنچ جائیں۔ اورشاید ان پر عمل بھی ہو جائے؟

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل