Thursday, April 16, 2026
 

پاکستان نے مشرقی کانگو میں فوری جنگ بندی اور مؤثر سفارتکاری کا مطالبہ کر دیا

 



نیویارک میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس میں پاکستان نے جمہوریہ کانگو کے مشرقی علاقوں میں بگڑتی ہوئی صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے فوری جنگ بندی اور تیز تر سفارتی اقدامات پر زور دیا ہے۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار احمد نے کہا کہ خطے میں جاری تشدد، انسانی بحران کی شدت اور بے گھر افراد کی بڑھتی تعداد اس امر کی عکاس ہے کہ امن کا قیام فوری ضرورت بن چکا ہے۔ انہوں نے سلامتی کونسل کی قرارداد 2773 پر مکمل عملدرآمد کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ پائیدار جنگ بندی ہی خطے میں دیرپا استحکام کی بنیاد فراہم کر سکتی ہے۔ پاکستان نے کشیدگی کم کرنے کے لیے جاری عالمی سفارتی کوششوں کا خیرمقدم کیا، جن میں افریقی یونین کی ثالثی، واشنگٹن پراسیس اور دوحہ فریم ورک شامل ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ اقدامات اقوامِ متحدہ کی کاوشوں کے ساتھ مل کر اعتماد سازی اور سیاسی حل کے امکانات کو مضبوط بنا سکتے ہیں۔ پاکستان نے مونوسکو کے کردار کی بھی حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ مناسب حالات میں جنگ بندی کے نفاذ میں اس کا کردار کلیدی اہمیت رکھتا ہے۔ سفیر عاصم افتخار احمد نے اس بات کی نشاندہی کی کہ مشرقی کانگو میں قدرتی وسائل کی غیر قانونی کان کنی اور اسمگلنگ بدامنی کی بڑی وجوہات میں شامل ہیں جن کے تدارک کے لیے علاقائی تعاون، شفاف سپلائی چین اور مؤثر حکمت عملی ناگزیر ہے تاکہ یہ وسائل عوام کی فلاح و بہبود کا ذریعہ بن سکیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگرچہ سفارتی سرگرمیوں میں تیزی آئی ہے، مگر زمینی حقائق میں نمایاں بہتری نہ آنا اس بحران کی پیچیدگی کو ظاہر کرتا ہے۔ اختتام پر پاکستان نے جمہوریہ کانگو کی خودمختاری، اتحاد اور علاقائی سالمیت کی مکمل حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے خطے میں پائیدار امن کے لیے مشترکہ اور مؤثر اقدامات کرے۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل