Loading
واشنگٹن: امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر کیتھولک مسیحیوں کے مذہبی پیشوا پوپ لیو کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے، جبکہ اٹلی کی وزیراعظم جارجیا میلونی پر بھی سخت بیانات دیے ہیں۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق صدر ٹرمپ نے اپنے حالیہ بیان میں کہا کہ پوپ لیو کو ایران کے ایٹمی خطرے کے بارے میں کوئی سمجھ نہیں ہے اور انہیں عالمی جنگی معاملات پر تبصرہ نہیں کرنا چاہیے۔ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ پوپ کو عالمی صورتحال کا درست ادراک نہیں۔
صدر ٹرمپ نے مزید کہا کہ مذہبی رہنماؤں کو بین الاقوامی تنازعات پر رائے دینے سے گریز کرنا چاہیے کیونکہ یہ معاملات انتہائی حساس اور پیچیدہ ہوتے ہیں۔
اسی دوران امریکی صدر نے اٹلی کی وزیراعظم جارجیا میلونی کو بھی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ان کے خیالات ناقابلِ قبول ہیں۔ ٹرمپ کے مطابق میلونی ایران کے ممکنہ ایٹمی خطرے کو سنجیدگی سے نہیں لے رہیں۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ اگر ایران کو موقع ملا تو وہ بہت کم وقت میں بڑے پیمانے پر تباہی پھیلا سکتا ہے، اس لیے عالمی رہنماؤں کو اس خطرے کو سنجیدگی سے لینا چاہیے۔
واضح رہے کہ ماضی میں صدر ٹرمپ جارجیا میلونی کی تعریف بھی کر چکے ہیں، تاہم حالیہ بیانات میں انہوں نے ان پر سخت تنقید کی ہے۔
دوسری جانب ایرانی صدر اور اٹلی کی وزیراعظم کی جانب سے بھی ٹرمپ کے پوپ لیو سے متعلق بیان کی مذمت کی گئی ہے، جس سے یہ معاملہ مزید حساس ہو گیا ہے۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل