Friday, April 17, 2026
 

حکومت سندھ کا نقل کرنے والے طلبہ اور ملوث عملے کے خلاف سخت کارروائی کا فیصلہ

 



حکومت سندھ نے میٹرک اور انٹرمیڈیٹ کے امتحانات میں نقل کی روک تھام کے لیے سخت ترین حکمت عملی تیار کر لی ہے اور امتحانات میں نقل کرنے والے طلبہ اور ملوث عملے کے خلاف بڑے فیصلے کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ ایسے طلبہ پر بورڈ کے امتحانات میں شرکت پر مستقل پابندی عائد کی جا سکتی ہے۔ صوبائی وزیر تعلیم سردار شاہ اور وزیر بورڈز اور جامعات محمد اسماعیل راہو نے ایک مشترکہ بیان میں نقل کے خلاف ‘زیرو ٹالرنس پالیسی’ نافذ کرنے کا اعلان کیا ہے اور نئے قوانین کے تحت نقل کرنے والے طلبہ کا مستقبل داؤ پر لگ سکتا ہے۔ صوبائی وزرا نے کہا کہ نقل کرتے ہوئے پکڑے جانے والے طالب علم پر بورڈ کے امتحانات دینے پر مستقل پابندی عائد کی جا سکتی ہے جبکہ نقل میں ملوث پائے جانے والے طالب علم کے تمام پرچے فوری طور پر منسوخ کر دیے جائیں گے۔ بیان میں کہا گیا کہ موبائل فون یا نقل کا مواد رکھنے والے طالب علم کو فوری طور پر امتحانی مرکز سے باہر نکال دیا جائے گا اور اسے جاری یا آئندہ کسی بھی بورڈ کے امتحان میں بیٹھنے کی اجازت نہیں ہوگی۔ صوبائی حکومت نے امتحانی عملے کو بھی وارننگ جاری کر دی ہے کہ اگر کوئی انویجیلیٹر، انٹرنل، ایکسٹرنل یا کوئی بھی انتظامی افسر نقل میں ملوث پایا گیا تو اسے محکمانہ کارروائی کے بعد نوکری سے فارغ کر دیا جائے گا۔ وزرا کی ہدایت پر امتحانی مراکز پر نگرانی کے نظام کو مزید سخت کیا جا رہا ہے تاکہ کسی بھی قسم کی بیرونی مداخلت کو روکا جا سکے۔ وزیر تعلیم سردار شاہ اور وزیر جامعات اسماعیل راہو نے کہا کہ امتحانات کی شفافیت پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا، تعلیمی معیار کو بہتر بنانے کے لیے نقل کلچر کا جڑ سے خاتمہ ضروری ہے اور جو بھی اس جرم میں شریک ہوگا اسے قانون کے مطابق سخت ترین سزا دی جائے گی۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل