Loading
ایران کے سابق سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی شہادت کو تقریباً دو ماہ گزرنے کے باوجود ان کی تدفین کے مقام کے حوالے سے تاحال کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا جا سکا۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق مشہد میں واقع امام رضا مزار کے انتظامات سنبھالنے والی مذہبی فاؤنڈیشن نے بتایا ہے کہ مزار کے احاطے میں تدفین کے حوالے سے ابھی تک حتمی فیصلہ نہیں ہوا۔
ادارے کے مطابق اس اہم معاملے پر مشاورت جاری ہے اور مختلف تجاویز زیر غور ہیں، تاہم سرکاری سطح پر اب تک کوئی واضح اعلان سامنے نہیں آیا۔
رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ تدفین کی جگہ کے تعین میں مذہبی، سیاسی اور عوامی پہلوؤں کو مدنظر رکھا جا رہا ہے، جس کی وجہ سے فیصلہ تاخیر کا شکار ہے۔
یاد رہے کہ 28 فروری کو ہونے والے حملوں میں علی خامنہ ای شہید ہو گئے تھے، جس کے بعد سے ان کی تدفین کے حوالے سے مختلف قیاس آرائیاں سامنے آتی رہی ہیں، تاہم اب تک کوئی باضابطہ اعلان نہیں کیا گیا۔
ماہرین کے مطابق سابق سپریم لیڈر کی تدفین کا مقام ایران میں ایک اہم علامتی اور سیاسی حیثیت رکھتا ہے، اسی لیے اس فیصلے میں احتیاط برتی جا رہی ہے۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل