Friday, May 01, 2026
 

گلستان جوہر میں شیشہ کیفے پر جھگڑے کے دوران فائرنگ سے مسلم لیگ ن کا عہدیدار جاں بحق

 



گلستان جوہر میں شیشہ کیفے میں جھگڑے کے دوران فائرنگ سے ایک نوجوان جاں بحق اور ایک زخمی ہوگیا۔ تفصیلات کے مطابق  گلستان جوہرکے علاقے بلاک 3 کانٹینینٹل بیکری کے قریب شیشہ کیفے میں فائرنگ سے 2 نوجوان زخمی ہوگئے، زخمیوں کو فوری طور پر عباسی شہید اسپتال منتقل کیا گیا جہاں ایک زخمی دوران علاج خون زیادہ بہہ جانے کے باعث زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے جاں بحق ہوگیا۔   واقعے کے بعد مشتعل افراد نے کیفے میں ہنگامہ آرائی اور تھوڑ پھوڑ کی اور گلستان جوہر تھانے کا گھیراؤ کر کے نعرے بازی کی، پولیس نے فائرنگ کے الزام میں کیفے کے سیکیورٹی گارڈ اور منیجر سمیت 3 افراد کو حراست میں لے کر تفیتش کا آغاز کر دیا ، جاں بحق ہونے والا نوجوان مسلم لیگ ( ن ) یوتھ ونگ کا عہدیدار تھا۔ ترجمان کراچی پولیس کے مطابق جاں بحق ہونے والے نوجوان کی شناخت 23 سالہ نجیب علی ولد نیاز علی کے نام سے کی گئی، مقتول بھٹائی آباد کا رہائشی تھا جبکہ اس کا آبائی تعلق اندرون سندھ  خیر پور میرس ( گمبٹ ) سے تھا جبکہ وہ رئیل اسٹیٹ کا کام کرتا تھا۔ فائرنگ کے واقعے کی اطلاع ملنے پر پولیس کی بھاری نفری موقع پر پہنچ گئی جبکہ مقتول کے درجنوں رشتے دار، دوست احباب اور علاقہ مکینوں کی بڑی تعداد بھی موقع پر پہنچ گئی اور سڑک بلاک کرکے احتجاج کیا۔ مقتول کے دوست صدر یوتھ ونگ ذوہیب نے بتایا کہ مقتول کا تعلق پاکستان مسلم لیگ ( ن ) یوتھ ونگ سے تھا، انہوں نے بتایا کہ علاقے کے بچے بچیاں شیشہ بار میں آتے تھے، شیشہ بار میں کیونکہ ہر قسم کی منشیات کا نشہ بھی فراہم کیا جاتا تھا اور کھلے عام نوجوان نشہ کرتے تھے اسی لیے مسلم لیگ ( ن ) یوتھ ونگ گلستان جوہر اور بھٹائی آباد کے کارکنان دیکھنے آئے تھے کہ کہیں علاقے کے بچے بچیاں تو یہاں نہیں ہیں کیونکہ انہوں نے نہ صرف علاقے کے لوگوں کو شیشے کیفے میں جانے سے منع کیا تھا بلکہ کیفے مالکان سے اس گھناؤنے کاروبار کو بند کرنے کا بھی کہا تھا تاہم وہ باز نہیں آئے۔ پی ایس 100 مسلم لیگ ( ن ) کے عہدیدار توفیق احمد منگی نے بتایا کہ نجیب احمد میمن پی ایس کا عہدیدار اور آرگنائزنگ کمیٹی کا ممبر تھا، ہمارے دوست کے چھوٹے بھائی اکثر گھر والوں سے چھپ کر شیشہ کیفے پر آتے تھے، کچھ دوست کیفے والوں سے بات کرنے آئے تھے کہ آپ اس کیفے اور منشیات کو بند کریں جس پر پہلے سیکیورٹی گارڈ نے بدتمیزی کی، نجیب نے اسے روکنے کی کوشش کی تو شیشہ کیفے کے مالک اور اس کے بیٹے سمیت تین چار لوگوں نے پستولوں کے چیمبر کھینچ لیے اور فائرنگ کی۔ توفیق احمد منگی نے کہا کہ گولی نجیب کے سینے میں لگی اور وہ موقع پر جاں بحق ہوگیا جبکہ دوسرا ہمارا کارکن نوجوان نجیب کو اٹھا رہا تھا تو اسے دھکے دیے اور پیر پر ایک گولی مار دی، شیشہ کیفے کا مالک کھلے عام بول رہا تھا کہ ہم پولیس کو 3 سے 4 لاکھ روپے بھتہ دیتے ہیں، میں ایس ایس پی کا بیٹا ہوں، ہمارا کوئی کچھ نہیں بگاڑ سکتا۔  توفیق منگی نے بتایا کہ شیشے کیفے کے مالک اور اس کے ساتھیوں نے اس سے قبل بھی متعدد بار فائرنگ کرکے متعدد افراد کو زخمی اور چانڈیو برادری کے جوان کو قتل کر چکا ہے، پولیس نے فائرنگ میں ملوث سیکیورٹی گارڈ اکرم ، کیفے کے منیجر سمیت تین افراد کو اسلحہ سمیت حراست میں لے کر تھانے منتقل کر دیا۔  پولیس حکام کے مطابق شیشہ کیفے میں مقتول نجیب، اس کے ساتھیوں  اور انتظامیہ میں تلخ کلامی پر جھگڑا ہوا، اسی دوران مقتول کے ساتھیوں نے ہنگامہ آرائی کی، سکیورٹی گارڈ کی فائرنگ سے مقتول مارا گیا، مقتول کے ورثا کے آنے کے بعد مقدمہ درج کر کے ملزمان کو باقاعدہ گرفتارکے شعبہ تفتیش کے حوالے کیا جائے گا۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل