Thursday, April 30, 2026
 

آج کا بچہ: محبت، توجہ اور درست تربیت کا منتظر

 



بحیثیت معلمہ مجھے شدت سے اس بات کا احساس رہتا ہے کہ آج کا بچہ جس توجہ، پیار اور اچھی تربیت کا مستحق ہے، وہ آہستہ آہستہ اس سے محروم ہوتا جا رہا ہے۔ ابتدا میں مجھے لگتا تھا کہ شاید یہ صرف میرا احساس یا مشاہدہ ہے، مگر ہر پیرنٹ ٹیچر میٹنگ میں والدین کی گفتگو اس حقیقت کی تصدیق کر دیتی ہے۔ اکثر والدین شکایت کرتے نظر آتے ہیں کہ بچہ ان کی بات نہیں سنتا، ضد کرتا ہے، یا موبائل کا حد سے زیادہ استعمال کرتا ہے۔ میرا والدین سے ایک اہم سوال ہے: کیا ہماری تربیت بھی اسی انداز میں ہوئی تھی؟ کیا ہمارے والدین نے ہمیں صرف سہولیات فراہم کیں یا ہمیں وقت، رہنمائی اور اخلاقی تربیت بھی دی؟ بچوں کی ضروریات پوری کرنا، اچھا کھانا کھلانا، مہنگے کپڑے دینا یا ہر آسائش مہیا کرنا یقیناً اہم ہے، مگر یہ والدین کی مکمل ذمے داری نہیں۔ اصل ذمے داری بچوں کی شخصیت سازی، اخلاقی تربیت اور جذباتی نشوونما ہے۔ بچہ سب سے پہلے اپنے گھر سے سیکھتا ہے۔ وہ الفاظ سے زیادہ رویوں کو سمجھتا ہے۔ اگر والدین خود موبائل میں مصروف رہیں، ایک دوسرے سے سخت لہجے میں بات کریں یا بچوں کو وقت نہ دیں، تو بچہ انہی رویوں کو اپنا لیتا ہے۔ ہمیں یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ بچے نصیحت سے کم اور مشاہدے سے زیادہ سیکھتے ہیں۔ اگر ہم نے آج اس مسئلے پر توجہ نہ دی تو ہم ایک ایسی نسل تیار کریں گے جو جذباتی طور پر کمزور، بے حس اور تنہائی کا شکار ہوگی۔ ہم اکثر بچوں کے رویوں کی شکایت کرتے ہیں، مگر شاید ہم یہ دیکھنا بھول جاتے ہیں کہ ان رویوں کی بنیاد کہاں رکھی جا رہی ہے۔ ہم بچوں کو سننا ہی نہیں چاہتے۔ آج کے دور میں اگر کوئی سب سے زیادہ ذہنی دباؤ اور الجھن کا شکار ہے تو وہ ہمارے بچے ہیں۔ انہیں والدین کے وقت کی کمی، اسکول کے دباؤ، نمبروں کی دوڑ، دوسروں سے موازنہ، اور جذباتی سپورٹ نہ ملنے کی پریشانی ہوتی ہے۔ بعض والدین یہ سمجھتے ہیں کہ مہنگے اسکول میں داخلہ دلوانا ہی بہترین تربیت کی ضمانت ہے، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ تربیت کا آغاز گھر سے ہوتا ہے، نہ کہ صرف اداروں سے۔ ہمیں یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ بچوں کی پرورش صرف ڈانٹ، غصے یا سزا سے نہیں ہوتی۔ ماضی میں بچوں کو محبت، نصیحت، مثال، اور مشاہدے کے ذریعے سکھایا جاتا تھا۔ آج ہم مصروفیات، تھکن اور ذہنی دباؤ کے باعث اکثر بچوں پر جھنجھلاہٹ نکالتے ہیں۔ ہم انہیں سننے کے بجائے صرف سمجھانے کی کوشش کرتے ہیں، جبکہ بچوں کو سب سے زیادہ ضرورت سنے جانے کی ہوتی ہے۔ آج معاشرے میں بڑھتی ہوئی بے چینی، عدم برداشت اور جذباتی فاصلے اس بات کا ثبوت ہیں کہ ہمیں اپنی ترجیحات پر دوبارہ غور کرنے کی ضرورت ہے۔ بچے صرف ہماری ذمے داری نہیں بلکہ ہماری آئندہ نسل، ہمارا مستقبل اور ہماری پہچان ہیں۔ اگر ہم نے آج انہیں محبت، اعتماد، وقت اور اچھی تربیت نہ دی، تو کل ہم ایک ایسی نسل کا سامنا کریں گے جو جذباتی طور پر خالی اور سماجی طور پر کمزور ہوگی۔ میری تمام والدین اور اساتذہ سے گزارش ہے کہ بچوں کو صرف تعلیم نہ دیں بلکہ انہیں وقت دیں، ان سے بات کریں، ان کے احساسات کو سمجھیں، ان کے دوست بنیں، اور ان کی شخصیت کو سنوارنے میں اپنا کردار ادا کریں۔ یہی بچے کل ہمارے معاشرے، ہمارے ملک، اور ہماری آنے والی دنیا کی بنیاد بنیں گے۔ اگر ہم آج ان کی تربیت میں محبت، برداشت اور شعور شامل کریں گے، تو کل ایک بہتر، بااخلاق اور مضبوط معاشرہ تشکیل پائے گا۔ نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 800 سے 1,200 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ blog@express.com.pk پر ای میل کردیجیے۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل