Loading
پاکستان اور جنوبی کوریا کے مابین مشترکہ تجارتی کمیٹی کے قیام اور سرمایہ کاری بڑھانے پر اتفاق ہوا ہے۔
وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان اور کورین وزیر تجارت ییو ہان-کو کے درمیان ورچوئل ملاقات ہوئی جس میں پاکستان اور جنوبی کوریا کے درمیان سیپا پر مشاورت شروع کرنے پر اتفاق کیا گیا۔
ملاقات میں دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ بھی کیا گیا۔
کورین وزیر تجارت نے پاکستان کی قیادت کو خطے میں امن کے فروغ پر خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے امریکا–ایران تنازع میں پاکستان کے کردار کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی امن کوششیں صرف خطے ہی نہیں بلکہ پوری دنیا کے لیے بہترین ہیں۔
انہوں نے کہا کہ بہت ساری کورین کمپنیاں پاکستان میں سرمایہ کاری کی خواہاں ہیں ، وہ پاکستان کو محفوظ ترین اور پُرکشش ملک سمجھتی ہیں۔ انہوں نے مزید بتایا کہ کورین کمپنیوں کو بالخصوص مینوفیکچرنگ اور توانائی کے شعبوں میں پاکستان میں سرمایہ کاری میں دلچسپی ہے۔
اس موقع پر جام کمال خان نے کہا کہ پاکستان نے ہمیشہ ایک ذمہ دار ریاست کے طور پر امن کو فروغ دیا ہے۔ انہوں نے سیپا مذاکرات کو تیز کرنے اور مقررہ مدت میں معاہدہ مکمل کرنے پر زور دیا۔
انہوں نے زراعت، ٹیکسٹائل، معدنیات اور اسپورٹس گڈز کے شعبوں میں موجود مواقع کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان وسطی ایشیا اور افریقہ کے لیے ایک اہم تجارتی گیٹ وے بن سکتا ہے۔
جام کمال خان نے اس بات کا اعادہ کیا کہ حکومت غیر ملکی سرمایہ کاروں کو سازگار ماحول فراہم کرنے کے لیے پرعزم ہے ۔ انہوں نے کورین کمپنیوں کو درپیش مسائل کے حل کی یقین دہانی بھی کرائی۔ ملاقات میں مشترکہ تجارتی کمیٹی کے قیام اور اسے فعال بنانے پر بھی اتفاق کیا گیا۔
سیکرٹری تجارت جواد پال نے اس موقع پر متوازن ٹیرف پالیسی کی ضرورت پر زور دیا جبکہ دونوں ممالک نے باہمی اقتصادی تعاون کو مزید فروغ دینے کے عزم کا اظہار کیا۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل