Tuesday, April 21, 2026
 

وزیراعظم کا ترقیاتی منصوبوں میں پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کے ذریعے تیزی لانے کا حکم

 



وزیراعظم شہباز شریف نے ملکی ترقیاتی منصوبوں میں پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کے ذریعے تیزی لانے کا حکم دے دیا۔ ملک میں پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے ذریعے ترقیاتی منصوبوں میں تیزی لانے کے لیے وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت  ایک اعلیٰ سطحکا  اجلاس منعقد ہوا جس میں اہم فیصلے کیے گئے۔ اجلاس کے دوران وزیرِ اعظم نے پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ اتھارٹی (P3A) اور اس سے متعلقہ نظام کو مزید مربوط بنانے کی اصولی منظوری دی۔ علاوہ ازیں اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ پی تھری اے کی کارکردگی کو جدید عصری تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے اور پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت ترقیاتی منصوبوں میں تیزی لانے کے لیے یہ ادارہ نجکاری ڈویژن کے تحت کام کرے گا۔ وزیرِ اعظم نے ہدایت کی کہ پبلک پرائیویٹ پارٹرنرشپ کے ذریعے ترقیاتی منصوبے شروع کرنے کے حوالے سے متعلقہ وزارتوں اور محکموں کی استعداد میں بہتری لائی جائے۔ وزیرِ اعظم نے مزید ہدایت دی کہ پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے ذریعے ترقیاتی منصوبوں کو وزارتوں اور محکموں کی کارکردگی جانچنے (KPIs) کا حصہ بنایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ پی تھری اے کے ذریعے پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے نظام کو مزید شفاف اور تیز بنایا جا رہا ہے۔ اجلاس کو خطے اور عالمی سطح پر مختلف ممالک میں رائج پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے ماڈلز کا موازنہ پیش کیا گیا جبکہ مجوزہ نئے نظام کے خدوخال پر بھی بریفنگ دی گئی۔ بریفنگ میں بتایا گیا کہ نئے نظام کے تحت پی تھری اے کی نگرانی کابینہ کمیٹی برائے نجکاری اور نجکاری ڈویژن کریں گے، جس پر وزیرِ اعظم نے نئے منظور شدہ نظام کے حوالے سے عملدرآمد پر پیش رفت تیز کرنے کی ہدایت کی۔ اجلاس میں وفاقی وزرا ڈاکٹر مصدق ملک، اعظم نذیر تارڑ، احد خان چیمہ، محمد اورنگزیب، احسن اقبال، مشیر وزیرِ اعظم محمد علی، وزیرِ مملکت بلال اظہر کیانی اور متعلقہ اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل