Loading
مسلم لیگ (ن) کے قائد میاں نواز شریف نے کہا ہے کہ 15 سال سے کے پی میں ایک الگ حکومت ہے کیا وہاں کا رہنے والا سکھ کا سانس لے رہا ہے؟ کیا وہاں کے لوگوں کو مفت تعلیم، اچھا اسپتال، مفت دوائی اور اچھی ٹرانسپورٹ میسر ہے؟ وہاں کی حکومت سے پوچھا جائے۔
یہ بات انہوں نے گلگت بلتستان پارلیمانی بورڈ کے مری میں منعقدہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ اس موقع پر وزیراعظم شہباز شریف، اسحاق ڈار، مریم نواز اور دیگر رہنما بھی موجود تھے۔
قائد مسلم لیگ ن نواز شریف نے کہا کہ گلگت بلتستان کی ترقی پر خصوصی توجہ دے رہے ہیں، ن لیگ نے جی بی میں عوام کی خدمت کی ہے، گلگت بلتستان میں سات ارب کی لاگت سے بننے والی سڑک کے سبب فاصلے کم ہوئے ہیں،یہ مجھے اتنا ہی عزیز ہے جتنا پنجاب، سندھ بلوچستان اور خیبرپختونخوا عزیز ہیں۔
اس موقع پر نواز شریف نے خیبرپختونخوا حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ پندرہ سال سے کے پی میں ایک الگ حکومت ہے وہاں کا رہنے والا کیا سکھ کا سانس لے رہا ہے؟ کسی کو اپنی توقع کے مطابق زندگی بسر کرنے کا موقع مل رہا ہے؟ کیا کسی کو مفت دوائی مل رہی ہے؟
انہوں نے کہا کہ کیا خیبرپختونخوا میں کسی کا علاج ہورہا ہے؟ کسی کو ٹرانسپورٹ مل رہی ہے؟ کیا اچھی تعلیم اور اسپتال مل رہے ہیں؟ میں تنقید نہیں کررہا ایک جائز بات کررہا ہوں، وہاں کی حکومت سے پوچھا جائے۔
ان کا کہنا تھا کہ گلگت بلتستان میں منتخب ہوئے ن لیگ کے نمائندے خدمت کرنے کے لیے منتخب ہوئے ہیں بادشاہت کرنے کے لیے نہیں، شہباز شریف کا جذبہ بالکل میری طرح ہے آپ انہیں بلائیں یہ کام کروائیں گے، فنڈز کی کمی بیشی کو شہباز شریف دیکھیں گے۔
نواز شریف کا کہنا تھا کہ حالات بہتر نہیں ہیں تیل مہنگا ہونے پر وفاق اور صوبوں نے اربوں روپے کا اپنا حصہ ڈالا ہے یہ ترقیاتی فنڈ تھا جو تیل کی سبسڈی میں چلا گیا پھر بھی ہم سے جو کچھ ہوسکا ہم دیں گے، شہباز شریف سے پیسے لے کر میں آپ کو دوں گا سب سے پہلا آپ کا سفارشی میں ہوں۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل