Loading
امریکی موسیقی کی دنیا سے تعلق رکھنے والے 21 سالہ گلوکار ڈیوڈ انتھونی برکی المعروف D4vd ایک ہولناک مقدمے میں پھنس گئے ہیں، جہاں ان پر 15 سالہ لڑکی کے قتل سمیت متعدد سنگین الزامات عائد کیے گئے ہیں۔
بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق ملزم پر سیلسٹے ریواس ہرنینڈز نامی لڑکی کے قتل کا باقاعدہ فردِ جرم عائد کیا جا چکا ہے، تاہم گلوکار نے عدالت میں تمام الزامات سے انکار کرتے ہوئے خود کو بے گناہ قرار دیا ہے۔
تحقیقات کے مطابق مقتولہ کی لاش گزشتہ سال ستمبر میں ایک ایسی گاڑی سے برآمد ہوئی تھی جو گلوکار کے نام پر رجسٹرڈ تھی۔ رپورٹ کے مطابق لاش بری طرح مسخ شدہ حالت میں تھی اور اس کے ٹکڑے کیے جا چکے تھے، جس نے کیس کو مزید سنگین بنا دیا۔
مقدمے میں صرف قتل ہی نہیں بلکہ کم عمر لڑکی کے ساتھ مبینہ جنسی زیادتی اور لاش کی بے حرمتی جیسے الزامات بھی شامل کیے گئے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ اگر جرم ثابت ہو جاتا ہے تو ملزم کو عمر قید یا سزائے موت کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
لاس اینجلس کے ڈسٹرکٹ اٹارنی نیتھن ہوچمین کے مطابق سزائے موت کی درخواست کے حوالے سے حتمی فیصلہ بعد میں کیا جائے گا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ مذکورہ لڑکی اپریل 2025 میں گلوکار کے گھر گئی تھی، جس کے بعد وہ لاپتہ ہو گئی تھی، جبکہ تحقیقات میں یہ بھی سامنے آیا ہے کہ وہ 2023 سے مسلسل زیادتی کا شکار رہی۔
دوسری جانب ملزم کے وکلاء نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ ان کا مؤکل بے قصور ہے اور عدالت میں اس کی بے گناہی ثابت کی جائے گی۔
یاد رہے کہ D4vd نے 2022 میں اپنے ایک گانے کے ذریعے شہرت حاصل کی تھی، تاہم اس کیس کے منظرِ عام پر آنے کے بعد انہوں نے اپنے تمام میوزک ٹورز بھی منسوخ کر دیے ہیں۔
یہ معاملہ سوشل میڈیا اور موسیقی کی دنیا میں شدید بحث کا باعث بن چکا ہے، جہاں مداح اور ناقدین دونوں اس کیس کے انجام کے منتظر ہیں۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل