Tuesday, April 21, 2026
 

پیٹ میں جلن، بھوک کی کمی؟ السر کی خاموش علامات سے ہوشیار رہیں

 



معدے کا السر ایک ایسا مرض ہے جو بظاہر عام تکلیف محسوس ہوتا ہے، مگر بروقت توجہ نہ دی جائے تو یہ سنگین پیچیدگیوں کا باعث بن سکتا ہے۔ اس بیماری میں معدے یا چھوٹی آنت کی اندرونی جھلی پر زخم بن جاتا ہے، جسے طبی زبان میں پیپٹک یا گیسٹرک السر کہا جاتا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ مسئلہ اکثر ایک مخصوص بیکٹیریا ہیلیکوبیکٹر پائلوری یا درد کش ادویات کے مسلسل استعمال کے باعث پیدا ہوتا ہے، جو معدے کی حفاظتی تہہ کو متاثر کر دیتا ہے۔ طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ ہماری روزمرہ عادات بھی اس بیماری کو بڑھانے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ زیادہ مرچ مصالحے والی غذا، فاسٹ فوڈ، ذہنی دباؤ، تمباکو نوشی اور الکحل کا استعمال معدے میں تیزابیت بڑھا کر السر کے خطرے کو کئی گنا بڑھا دیتا ہے۔  اسی طرح اسپرین یا آئبوپروفین جیسی ادویات کا طویل استعمال بھی معدے کی دیوار کو کمزور کر دیتا ہے، جس سے زخم بننے لگتے ہیں۔ السر کی علامات ابتدا میں معمولی محسوس ہوتی ہیں، اسی لیے اکثر لوگ اسے نظر انداز کر دیتے ہیں۔ پیٹ میں جلن یا درد، خاص طور پر خالی پیٹ یا کھانے کے فوراً بعد، تیزابیت، بار بار ڈکاریں، متلی اور بھوک میں کمی اس کی عام نشانیاں ہیں۔ بعض افراد میں وزن تیزی سے کم ہونے لگتا ہے، جو ایک خطرناک اشارہ ہو سکتا ہے۔ ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ اگر پاخانہ سیاہ یا خون آلود ہوجائے یا خون کی الٹی آئے تو یہ صورتحال انتہائی سنجیدہ ہوسکتی ہے اور فوری طبی امداد کی ضرورت ہوتی ہے۔ ماہرین صحت اس مرض سے بچاؤ کےلیے سادہ مگر مؤثر احتیاطی تدابیر اپنانے پر زور دیتے ہیں۔ متوازن اور کم مصالحے والی غذا، ذہنی دباؤ میں کمی، تمباکو اور الکحل سے پرہیز، اور ڈاکٹر کے مشورے کے بغیر ادویات کے استعمال سے گریز معدے کو محفوظ رکھنے میں مدد دیتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر علامات مسلسل برقرار رہیں تو خود علاج کے بجائے فوری طور پر ڈاکٹر سے رجوع کرنا ہی دانشمندی ہے، کیونکہ بروقت تشخیص ہی اس بیماری سے بچاؤ کا بہترین راستہ ہے۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل