Tuesday, April 21, 2026
 

جنگ بندی توسیع : عالمی استحکام کی کلید

 



امریکی صدر ٹرمپ نے کہا ہے کہ ’’ مذاکرات کامیاب ہوئے تو میں بھی ایرانی قیادت سے ملوں گا ‘‘ دوسری جانب امریکی وفد کے پاکستان روانگی کی تصدیق کے فوری بعد پاکستان کے نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی سے ٹیلی فون پر گفتگو کی، ا یران نے امریکا کے رویے کو سفارتکاری کے منافی قرار دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ وہ جنگ بندی کے مستقبل پر جلد فیصلہ کرے گا۔ دوسری جانب چین کے صدر نے سعودی ولی عہد محمد بن سلمان سے ٹیلی فون پر گفتگو کی اور مشرق وسطیٰ بالخصوص آبنائے ہرمز کی غیر یقینی صورت حال پر تبادلہ خیال کیا اور اپنی گفتگو میں آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کو معمول کے مطابق جاری رکھنے پر زور دیا۔ ایران نے آبنائے ہرمز کی مکمل ناکہ بندی دوبارہ نافذ کر دی، جس نے تیل کی قیمتوں کو تیزی سے اوپر کی طرف دھکیل دیا ہے ۔ماہرین ِ معاشیات نے خبردار کیا ہے کہ ایران کے ساتھ جنگ کے باعث امریکا میں مہنگائی کی جو لہر اٹھی ہے، وہ جنگ کے خاتمے کے بعد بھی طویل عرصے تک برقرار رہے گی، جس سے نومبر کے وسط مدتی انتخابات سے قبل امریکی عوام پر مزید دباؤ پڑے گا۔جنگ ختم ہونے کے بعد بھی امریکا میں مہنگائی جلد کم نہیں ہوگی، جنگ کے اثرات اگر کل جنگ ختم بھی ہو جائے تو راتوں رات ختم نہیں ہوں گے۔  اسلام آباد میں امریکا اور ایران کے درمیان متوقع مذاکرات کے دوسرے دور کو محض ایک سفارتی سرگرمی قرار دینا دراصل اس گہرے اور کثیرالجہتی بحران کی نوعیت کو کم کر کے دیکھنے کے مترادف ہے جس نے نہ صرف مشرق وسطیٰ بلکہ عالمی سیاسی و معاشی نظام کو ایک غیر یقینی کیفیت میں مبتلا کر رکھا ہے۔ یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آ رہی ہے جب عسکری تناؤ، باہمی عدم اعتماد اور متضاد بیانات نے سفارتکاری کی گنجائش کو محدود کر دیا تھا اور یہی وجہ ہے کہ پاکستان کی میزبانی میں ہونے والے یہ ممکنہ مذاکرات ایک نازک مگر فیصلہ کن موقع کی حیثیت اختیار کر چکے ہیں، اس موقع کو اگر دانشمندی، تحمل اور دور اندیشی کے ساتھ استعمال نہ کیا گیا تو اس کے نتائج نہ صرف خطے بلکہ پوری دنیا کے لیے تباہ کن ہو سکتے ہیں۔ امریکا اور ایران کے تعلقات کی تاریخ کو اگر وسیع تناظر میں دیکھا جائے تو یہ محض دو ریاستوں کے درمیان اختلاف کا معاملہ نہیں بلکہ نظریاتی، تزویراتی اور جغرافیائی مفادات کے تصادم کی ایک طویل داستان ہے۔ اس تاریخ میں کشیدگی کے ادوار بھی آئے اور مذاکرات کے مرحلے بھی، لیکن باہمی بداعتمادی کبھی مکمل طور پر ختم نہیں ہو سکی۔ حالیہ بحران نے اس بداعتمادی کو ایک نئی شدت دی ہے، جہاں ہر اقدام کو شک کی نگاہ سے دیکھا جا رہا ہے اور ہر بیان کے پیچھے ایک پوشیدہ مفاد تلاش کیا جا رہا ہے۔ ایسے ماحول میں مذاکرات کا آغاز ہی ایک بڑی پیش رفت تصور کیا جا سکتا ہے، لیکن اس پیش رفت کو نتیجہ خیز بنانا ایک کہیں زیادہ مشکل مرحلہ ہے۔  جنگ بندی کی اہمیت اس تمام صورتحال میں بنیادی حیثیت رکھتی ہے۔ کسی بھی بامعنی مذاکراتی عمل کے لیے ضروری ہے کہ میدان جنگ میں خاموشی ہو اور فریقین کو یہ یقین ہو کہ بات چیت کے دوران ان کے مفادات کو نقصان نہیں پہنچایا جائے گا۔ موجودہ حالات میں جنگ بندی نہ صرف نازک ہے بلکہ اس کی خلاف ورزی کے الزامات نے اسے مزید کمزور بنا دیا ہے۔ بحری تنازعات، جہازوں کی روک تھام اور عسکری نقل و حرکت نے اس تاثر کو تقویت دی ہے کہ فریقین مکمل طور پر مذاکراتی راستے پر آمادہ نہیں، اگر یہ صورتحال برقرار رہی تو اسلام آباد میں ہونے والی کسی بھی پیش رفت کے دیرپا نتائج حاصل کرنا مشکل ہو جائے گا۔ پاکستان کا کردار یہاں ایک اہم موڑ پر آ کھڑا ہوا ہے۔ ایک ایسے ملک کے طور پر جو ماضی میں بھی مختلف عالمی تنازعات میں سفارتی پل کا کردار ادا کرتا رہا ہے، پاکستان کے لیے یہ موقع اپنی سفارتی صلاحیتوں کو ایک بار پھر منوانے کا ہے۔ اسلام آباد کی کوششیں محض رسمی نہیں بلکہ ایک سنجیدہ سفارتی حکمت عملی کا حصہ ہیں، جس کا مقصد نہ صرف فریقین کو مذاکرات کی میز پر لانا ہے بلکہ انھیں اس عمل کو جاری رکھنے پر آمادہ کرنا بھی ہے۔ ایرانی قیادت کی جانب سے پاکستان کی کاوشوں کو سراہنا اس بات کا اشارہ ہے کہ یہ کردار تسلیم کیا جا رہا ہے، تاہم اصل امتحان اس وقت ہوگا جب عملی پیش رفت درکار ہوگی۔  آبنائے ہرمز کی جغرافیائی اہمیت اس بحران کے مرکز میں ہے۔ یہ آبی راستہ عالمی توانائی کی ترسیل کے لیے ایک کلیدی حیثیت رکھتا ہے، جہاں سے گزرنے والے تیل کی مقدار دنیا کی معیشت کو چلانے میں بنیادی کردار ادا کرتی ہے۔ اس راستے میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ یا غیر یقینی صورتحال عالمی منڈیوں کو فوری طور پر متاثر کرتی ہے۔ حالیہ واقعات نے یہ واضح کر دیا ہے کہ یہ راستہ کس قدر حساس ہے اور کس طرح ایک محدود بحری تنازع بھی عالمی سطح پر قیمتوں میں شدید اتار چڑھاؤ کا باعث بن سکتا ہے۔تیل کی قیمتوں میں اضافہ صرف توانائی کے شعبے تک محدود نہیں رہتا بلکہ اس کے اثرات معیشت کے ہر شعبے میں محسوس کیے جاتے ہیں۔ صنعتی پیداوار مہنگی ہو جاتی ہے، ٹرانسپورٹ کے اخراجات بڑھ جاتے ہیں اور زرعی شعبہ بھی متاثر ہوتا ہے۔ اس کے نتیجے میں مہنگائی میں اضافہ ہوتا ہے، جو عام آدمی کی زندگی کو براہ راست متاثر کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عالمی مالیاتی ادارے اس صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں اور خبردار کر رہے ہیں کہ اگر کشیدگی میں کمی نہ آئی تو مہنگائی کا دباؤ طویل عرصے تک برقرار رہ سکتا ہے۔امریکا کی اپنی معیشت بھی اس دباؤ سے محفوظ نہیں رہی۔ مہنگائی میں اضافے کے خدشات، ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ اور صنعتی لاگت میں بڑھوتری نے معاشی پالیسی سازوں کے لیے نئے چیلنجز پیدا کر دیے ہیں۔ یہ صورتحال سیاسی طور پر بھی حساس ہے، کیونکہ معاشی مشکلات کا براہ راست اثر عوامی رائے پر پڑتا ہے۔ اسی طرح یورپ اور ایشیا کی معیشتیں بھی اس غیر یقینی صورتحال سے متاثر ہو رہی ہیں، جہاں سرمایہ کار محتاط رویہ اختیار کر رہے ہیں اور مالیاتی منڈیاں اتار چڑھاؤ کا شکار ہیں۔  چین، سعودی عرب اور دیگر اہم ممالک کی جانب سے امن کی حمایت اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ یہ بحران ایک عالمی مسئلہ بن چکا ہے۔ چین کی جانب سے آبنائے ہرمز کو کھلا رکھنے پر زور دینا دراصل عالمی تجارت کے تسلسل کے لیے ایک اہم مطالبہ ہے، جب کہ سعودی عرب جیسے ممالک بھی اس کشیدگی کے براہ راست اثرات محسوس کر رہے ہیں۔ یہ تمام عوامل اس بات کو واضح کرتے ہیں کہ امریکا اور ایران کے درمیان تنازع اب دو طرفہ مسئلہ نہیں رہا بلکہ ایک وسیع تر عالمی چیلنج کی شکل اختیار کر چکا ہے۔سفارتکاری اس تمام صورتحال میں واحد قابل عمل راستہ نظر آتی ہے، لیکن اس کے لیے ضروری ہے کہ فریقین سنجیدگی اور لچک کا مظاہرہ کریں۔ یکطرفہ اقدامات، سخت بیانات اور عسکری سرگرمیاں اس عمل کو نقصان پہنچا سکتی ہیں۔ مذاکرات کو کامیاب بنانے کے لیے ضروری ہے کہ اعتماد سازی کے اقدامات کیے جائیں، جن میں جنگ بندی کی پاسداری، اشتعال انگیزی سے گریز اور مثبت بیانیے کو فروغ دینا شامل ہے۔  پاکستان کے لیے یہ ایک اہم موقع ہے کہ وہ نہ صرف ایک ثالث کے طور پر اپنا کردار ادا کرے بلکہ ایک ذمے دار عالمی ریاست کے طور پر بھی اپنی ساکھ کو مضبوط کرے۔ تاہم اس کے لیے ضروری ہے کہ پاکستان اپنی سفارتی حکمت عملی کو مستقل مزاجی کے ساتھ جاری رکھے اور کسی بھی ممکنہ دباؤ کے باوجود غیر جانبداری اور توازن کو برقرار رکھے۔ اگر مذاکرات ناکام ہو جاتے ہیں تو اس کے اثرات نہایت سنگین ہو سکتے ہیں۔ ایک نئی جنگ نہ صرف خطے کو عدم استحکام کا شکار کرے گی بلکہ عالمی معیشت کو بھی ایک نئے بحران میں دھکیل دے گی۔ توانائی کی قیمتوں میں مزید اضافہ، تجارتی سرگرمیوں میں کمی اور مالیاتی منڈیوں میں عدم استحکام ایک ایسا سلسلہ شروع کر سکتے ہیں جسے روکنا مشکل ہو جائے گا۔ اس کے برعکس اگر مذاکرات کامیاب ہوتے ہیں تو یہ ایک مثبت مثال قائم کرے گا کہ پیچیدہ تنازعات بھی سفارتکاری کے ذریعے حل کیے جا سکتے ہیں۔ یہ بھی پیش نظر رہنا چاہیے کہ امن کا قیام ایک طویل اور پیچیدہ عمل ہے۔ ایک معاہدہ اس کی شروعات ہو سکتا ہے، لیکن اس کے بعد بھی اعتماد سازی، نگرانی اور عمل درآمد کے مراحل درکار ہوتے ہیں۔ امریکا اور ایران کے درمیان اختلافات گہرے اور پیچیدہ ہیں، جنھیں حل کرنے کے لیے وقت اور مستقل مزاجی کی ضرورت ہوگی۔ تاہم موجودہ موقع ایک ایسا دروازہ کھول سکتا ہے جو مستقبل میں بہتر تعلقات کی بنیاد رکھ سکے۔ اسلام آباد میں ہونے والے یہ مذاکرات دراصل ایک امید کی کرن ہیں، لیکن یہ امید اسی صورت میں حقیقت میں بدل سکتی ہے جب تمام فریقین اس موقع کی نزاکت کو سمجھیں اور اسے ضایع نہ ہونے دیں۔ پاکستان کی کوششیں اس سمت میں ایک مثبت قدم ہیں، لیکن ان کی کامیابی کا انحصار فریقین کی سنجیدگی اور عالمی برادری کی حمایت پر ہے، اگر اس موقع کو درست طریقے سے استعمال کیا گیا تو یہ نہ صرف ایک بڑے تنازع کے خاتمے کی طرف پیش رفت ہوگی بلکہ عالمی استحکام کے لیے بھی ایک اہم سنگ میل ثابت ہو سکتی ہے۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل