Tuesday, April 21, 2026
 

ایک حیرت انگیز داستانِ حیات

 



چند ماہ پہلے سوشل میڈیا پر ایک تحریر نظر سے گذری، کسی صاحب نے ملائشیا کے عظیم راہنما ڈاکٹر مہاتیر محمد سے اپنی پہلی ملاقات کا احوال بیان کیا تھا، رائٹر کا نام اجنبی تھا مگر تحریر بہت دلچسپ تھی، تحریر کے نیچے میں نے کمنٹس میں اپنی پسندیدگی کا اظہار کیا تو محرّر (تھانے والا نہیں، تحریر لکھنے والے رائٹر) نے بڑی مسرّت کا اظہار کیا، اور بتایا کہ وہ ماشاء اللہ سی ایس ایس کے امتحان کے ذریعے سول سروس میں داخل ہوئے اور انکم ٹیکس سروس میں کمشنر کے عہدے تک پہنچے اور اب کئی کتابوں کے مصنّف بھی ہیں۔ یہ میرا ’’میاں چنوں سے ملائشیا تک‘‘ کے مصنف محترم محمد بوٹا انجم صاحب سے پہلا تعارف تھا۔ وہ آج کل ملائشیا کے دارالحکومت کوالالمپور میں مقیم ہیں، کچھ ہفتے قبل وہ اسلام آباد آئے تو میں نے انھیں کھانے پر مدعو کیا اور وہیں ہم نے ایک دوسرے کو اپنی کتابوں کے تحفے دیے۔ ان کی سوانح حیات ’’میاں چنوں سے ملائشیا تک‘‘ ایک حیرت انگیز داستان ہے۔ ایک ایسے نوجوان کی داستان کہ زمانے کی گردش نے جسے ان گنت مسائل اور مصائب سے دوچار کردیا، اس کے سامنے رکاوٹوں کے ہمالیہ کھڑے ہوگئے مگر اس نے مایوس اور ناامید ہونے سے انکار کردیا، اس نے دو چیزوں کا دامن کبھی نہ چھوڑا۔ امید اور حوصلہ۔ اس نے ایک ہاتھ میں امید کا چراغ تھام لیا اور دوسرے ہاتھ میں حوصلے کا تیشہ لے کر رکاوٹوں کے پہاڑ کاٹنا شروع کردیے۔ ایک پہاڑ کٹتا تو آگ کا دریا سامنے آجاتا۔ وہ عبور ہوتا تو بقول منیر نیازی ؎ اک اور دریا کا سامنا تھا منیر مجھ کو جب ایک دریا کے پار اترا تو میں نے دیکھا اسی لیے میں نے اپنی خودنوشت ’جہدِ مسلسل‘ انھیں بھیجتے وقت اس پر لکھا تھا ’’محمد بوٹا انجم صاحب کے لیے جو خود جہدِ مسلسل کی مجسّم تصویر ہیں۔‘‘ ان کے والد صاحب تین بھائی تھے جن کی دس ایکٹر زمین تھی، ظاہر ہے کہ اس سے پورے کنبے کا گزارہ مشکل تھا اور بیٹے کی اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کا خواب پورا نہیں ہوسکتا تھا، اس لیے سوا تین ایکڑ کے مالک والد کی خواہش تھی کہ بیٹا صرف آٹھویں جماعت تک پڑھے اور اس کے بعد وہ کاشتکاری میں ان کا ہاتھ بٹائے۔ مگر قدرت نے اپنا فیصلہ بیٹے کے حق میں لکھ رکھا تھا۔ بچپن سے ہی مصنّف کوتعلیمی اخراجات پورے کرنے کے لیے اپنے جیسے بچوں کو ٹیوشن پڑھانی پڑی اور تعلیم جاری رکھنے کے لیے بڑی مشکل سے والد صاحب کو منانا پڑا۔ پھران پر ایک ایسا وقت آیا کہ اپنوں نے نظریں پھیر لیں، اور زخم پر زخم لگاتے رہے، پھر کچھ دردِ دل رکھنے والے کام بھی آئے۔ یہ ساری داستان ایک دلچسپ ناول کی طرح ہے جو قاری ایک دو نشستوں میں ہی پڑھ ڈالتا ہے۔ مصنف جب میاں چنوں کے انٹر کالج میں داخل ہوئے توانھیں اخراجات پورے کرنے کے لیے میونسپل کمیٹی کی پارٹ ٹائم نوکری کرنی پڑی، جس کی روداد بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں’’مجھے میونسپل کمیٹی میاں چنوں کی جانب سے دس روپے ماہانہ اعزازیہ ملتا تھا جو اُس وقت پارٹ ٹائم جاب کرنے والے ایک طالبعلم کے لیے بڑے معقول پیسے تھے۔ علاوہ ازیں اُن دنوں میں ایک جگہ مزدوری بھی کرتا تھا۔ ہر روز فجر کی اذان کے ساتھ جاگ کر اپنے بزرگوں کے ساتھ کھیتوں میں جاتا جہاں سبزیاں چُنوانے میں اُن کا ہا تھ بٹانے کے ساتھ ساتھ ٹوکریوں کی صورت میں سبزیاں سر پر اُٹھا کر منڈی تک بھی پہنچانی ہوتی تھیں اور مجھے یہ مُشقّت اُٹھا کر اسکول کالج جانے سے پہلے واپس گھر پہنچنا ہوتا تھا۔ تب پورا دن محنت و مُشقّت میں گزرتا تھا۔‘‘ پھر ان کا سفینۂ حیات ان کے بقول ٹائی ٹینک کی طرح ایک ان دیکھے آئس برگ سے ٹکراگیا۔ ان کے والد صاحب حیدرآباد گئے ہوئے تھے جہاں وہ دل کا دورہ پڑنے سے وفات پاگئے جس کی اطلاع انھیں وہاں کے ایس ایچ او نے دی۔ اس موقع پر انھیں زندگی کی ناقابلِ یقین تلخ حقیقتوں کا سامنا کرنا پڑا۔ حیدرآباد سے میّت لانے کے لیے والد کے سگے بھائیوں اور بہنوں نے ساتھ دینے سے انکار کردیا۔ سگی پھوپھیوں نے سو سو روپیہ دیا جو انھوں نے بھائی کی تدفین کے فوراً بعد بھتیجے سے واپس لے لیا۔ اس وقت مصنف کو مجبوراً کالج کی تعلیم چھوڑنا پڑی کیونکہ سب سے بڑا مسئلہ والدہ کی کفالت تھی۔ انیس سال کے نوجوان نے ہمّت نہیں ہاری، کسی کے آگے ہاتھ نہیں پھیلائے اور وہ روزگار کی تلاش میں ان دیکھی منزلوں کی جانب نکل پڑے۔ وہ صرف دو سو روپے ماہوار (جو اس کی والدہ کی کفالت کے کافی تھے) کی نوکری یا مزدوری کے لیے دربدر ٹھوکریں کھاتا رہا، تلاشِ روزگار کے دوران وہ لاہور پہنچا، لوگوں کے سرونٹ کواٹروں میں سوتا رہا، کئی ہفتے صرف بھُنے ہوئے چنے کھاکر اور کارپوریشن کے نلکے سے پانی پی کر گذارا کرتا رہا ۔ مصنف کے بقول ’’اس دوران میں نے ایک روز کھانے پینے کے معاملے میں عیاشی بھی کی کہ چنے یا بھُٹے کھانے کی بجائے چھ آنے کی سبزی اور چار آنے کی دو روٹیاں لے کر کھائیں تو سورۂ رحمن کے ان الفاظ پر یقین محکم ہوگیا کہ ’’تم اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کو جھٹلاؤ گے‘‘ اسی تگ ودو میں مصنف اداکار محمد علی کے بنگلے پر بھی جاپہنچا اور ان سے بھی ملازمت کی درخواست کی۔ اس جدوجہد میں وہ لاہور سے واپسی کے کرائے یعنی صرف پانچ روپے کے لیے اِدھر اُدھر کی ٹھوکریں کھاتا رہا۔ یہ داستانِ عزیمت کم وسیلہ نوجوانوں کے لیے مینارۂ نور کی حیثیّت رکھتی ہے اور اس کا سب سے روشن پہلو یہ ہے کہ مشکل سے مشکل وقت میں بھی کتاب کے مصنف محمد بوٹا انجم صاحب نے ہمت اور حوصلے کا پرچم بلند رکھا۔ اعلیٰ تعلیم کا حصول مصنّف کا خواب تھا،اس کے لیے انھیں بے تحاشا پاپڑ بیلنا پڑے۔ انھوں نے مختلف جگہوں پر دن کو سخت قسم کی جسمانی مشقت اور مزدوری کی اور رات کو پڑھائی کرکے تعلیم کے زینے طے کرتے رہے، اس دوران انھوں نے سیلز مینی بھی کی اور بس کنڈکٹری بھی کی۔ ان کا خواب تھا انگریزی زبان وادب میں ایم اے کرنا۔ انھیں داخلہ ملتا رہا مگر تعلیم کے اخراجات نہ ہونے کے باعث ان کا خواب شرمندۂ تعبیر نہ ہوسکا۔ مگر انھوں نے مالی تنگدستی کو راستے کی رکاوٹ نہ بننے دیا اور جدوجہد جاری رکھی، ایک وقت میں وہ غلط سوسائٹی کے باعث گمراہ ہوتے ہوتے بچے اور بالآخر ایک پرائیویٹ کالج میں ایم اے انگلش کی کلاسز میں داخلہ لینے میں کامیاب ہوگئے۔ ان کے علاقے کا ایک نوجوان ملک بشیر احمد سی ایس ایس کے امتحان میں کامیاب ہوا تو اس کی کامیابی ان کے لیے مہمیز ثابت ہوئی کہ ملک بشیر کامیاب ہوسکتا ہے تو میں کیوں نہیں ہوسکتا۔ چنانچہ مصنف نے سی ایس ایس کے امتحان کی تیاری شروع کردی۔ اس کے لیے ان کے بقول ’’تیاری کا یہ عالم تھا کہ میں اگر رات کے وقت لاہور سے میاں چنوں جانے اور وہاں سے واپس آنے کے لیے بس میں سوار ہوتا تو اس میں ایسی نشست کا انتخاب کرتا جہاں پر روشنی کا انتظام ہوتا اور میں پانچ گھنٹے کے اس سفر میں بھی مطالعہ میں محو رہتا، اور گھر میں یہ حالت تھی کہ اپنے روم میٹ کے آرام کا خیال کرتے ہوئے رات کو اپنی چارپائی گلی کے اس حصّے میں ڈال لیتا جہاں پر بجلی کے ایک کھمبے پر لگے بلب کی روشنی میں پڑہائی کرتا۔‘‘ بالآخر ان کی محنت رنگ لائی اور وہ تحریری امتحان میں بہت اچھے نمبروں سے کامیاب ہوئے مگر انٹرویو میں فیڈرل پبلک سروس کمیشن کے اس وقت کے چیئرمین لیفٹینٹ جنرل (ر) عتیق الرحمن نے انھیں ’’کمزور فیمیلی بیک گراؤنڈ‘‘ ہونے کے سبب (یعنی آپ چونکہ کسی امیر گھرانے کے فرد نہیں ہیں) انٹرویو میں بہت کم نمبر دیے، مگر ان کی اس ناانصافی کے باوجود محمد بوٹا صاحب نے پورے ملک میں اٹھارویں پوزیشن حاصل کی۔ اس پر انھیں ڈی ایم جی یا پولیس سروس الاٹ ہونی چاہیے تھی مگر وہ پھر ناانصافی کا شکار ہوئے اور انھیں انکم ٹیکس سروس الاٹ کی گئی۔ وہاں وہ ترقی کرتے کرتے کمشنر کے عہدے پر پہنچے مگر وہاں بھی ناانصافی کا شکار ہوئے تو انھوں نے استعفیٰ دے دیا اور نئے کیرئیر کا آغاز اسی جوش وجذبے کے ساتھ کردیا جس سے انھوں نے سب سے پہلے اپنی سروس کا آغاز کیا تھا۔ افسر بن کر بھی وہ ایم بی انجم نہیں بنے اور محمد بوٹا ہی رہے۔ ان کا اندازِ تحریر بے حد دلچسپ اور دلنشین ہے۔ ’’میاں چنوں سے ملائشیا تک‘‘ میں ان کی سروس کے بڑے دلچسپ واقعات پڑھنے کو ملتے ہیں۔ ان کی غیر معمولی استقامت اور حوصلہ مندی قابلِ تحسین ہے، اللہ نے انھیں امید اور حوصلے کے ساتھ ساتھ بے پناہ انرجی دی ہے۔ جس کی بناء پر انھوں نے ملائشیا میں پوری جواں ہمتی کے ساتھ اپنا بزنس شروع کیا اور آج وہ وہاں کے ایک کامیاب اور معروف بزنس مین کے طور پر جانے جاتے ہیں۔ وہ اس ملک کے کروڑوں نوجوانوں کے لیے ایک مثال ہیں اور اس بے مثال محنت ، حوصلے ، جرأت اور استقامت کا مظاہرہ کرنے پر وہ ملک کے بڑے سول ایوارڈ کے مستحق بھی ہیں۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل