Loading
ڈر کے بارے میں تو ہم بتاچکے ہیں کہ کتنے کام کی بلکہ کثیر الفوائد اورکثیر المقاصد بلکہ کثیر الجہت چیز ہے کہ جس نے ’’ڈر’’ کو پالیا، اس نے سب کچھ پالیا۔گبرسنگھ تو پاگل تھا، احمق تھا، دیوانہ تھا ، جنگلی تھا ، شہرکا باسی ہوتا تو اسے پتہ ہوتا کہ ڈر کتنا قیمتی سرمایہ ہوتا ہے، اس لیے تو وہ مرگیا لیکن جوڈرگیا ،وہ بچ گیا اورقبر کے بجائے سیدھا اپنے گھر گیا، وہ بھی خیروعافیت کے ساتھ۔
لیکن آج ہم ڈر کی جڑواں بہن بزدلی کے بارے میں بتاناچاہتے ہیں کہ اگر وہ ہمیشہ ہمارے شامل حال نہ رہتی تو ہم آج وہاں ہوتے جہا ںسے ہمیں خود بھی اپنی خبر نہ آتی۔ ویسے تو اپنی اس بزدلی کے ہم پر بہت سارے احسانات ہیں کہ اس نے ہمیں کہاں کہاں ،کیسے کیسے ،بڑی بڑی مصیبتوں سے بچایا ہے لیکن آج صرف ایک واقعہ آپ کو سناتے ہیں ۔
امرتسر میں صوفی کانفرنس تھی، چودہ ممالک کے وفود آئے ہوئے تھے ، ہم پاکستانی وفد کے شرکاء میں تین خواتین اورتین مرد شامل تھے ،ان خواتین میں دو تو بڈھیاں تھیں لیکن ایک نوجوان حسین مہ جبین اوربڑی دل نشین تھی، جو ہم سے بے انتہا ’’متاثر‘‘ تھی ۔دراصل ہم جہاںبھی جاتے ہیں، وہاں اپنا ایک ’’الگ زاویہ‘‘ یا ’’نکتہ‘‘ بنا دیتے ہیں، پاسبان عقل کو کہیں دور باندھ دیتے ہیں اور دل کو بے مہار چھوڑ دیتے ہیں اور نہایت ہی بے معنی اور بیتکی باتیں شروع کردیتے ہیں۔ آفیشل ٹورز، تقریروں اورمقالوں کے بیچ بیچ میں ہم اپنا یہ ’’خصوصی سیشن‘‘ جمادیتے ۔
یہاں بھی حسب معمول ہمارا زاویہ چل نکلا جو ہم نے سنجیدگان، رنجیدگان کے جم غفیر سے خاصی دورایک درخت کے نیچے جمایا تھا چونکہ وہاں سے قہقہے اٹھتے تھے، اس لیے نوجوان کھچ کھچ کرچلے آتے تھے جن میں زیادہ ترلڑکیاں ہوتی تھیں، خوبصورت بھی، قبولصورت بھی ، اکثریت طالبات کی ہوتی ۔ان ہی میںہماری وہ ماہ جبیں بھی تھی، فرضی نام ہے اوریہ بھی بتانے کی ضرورت نہیں کہ کس شہر کی تھی، ہمیںصرف اس سے دلچسپی تھی کہ حسین بھی بلاکی تھی ، صاحبہ ذوق بھی تھی اورسب سے بڑھ کر یہ کہ ہماری فین ہوگئی تھی۔
کبھی کبھی تو مجھے غلط فہمی کا شکار بھی بنا دیتی تھی ، پورے سیشن میں ہماری اتنی جان پہچان ہوگئی کہ ڈھونڈتی پھرتی تھی ، ہال میں بھی ہمارے ساتھ بیٹھ جاتی تھی اور ہم جس شہر ، علاقے اور سماجی ماحول کے باسی ہیں، ہمارے لیے تو یہ انہونا بلکہ سلونا منظر ہے لہذا وہ ماہ جبیں تو ازراہ مروت اور تقاضہ مہمانداری ہمارے ساتھ والی نشست پر بیٹھ جاتی تھی لیکن ہمارے دل میں لڈو پھوٹتے رہتے تھے ۔ امرتسر میں ہمارے قیام کی آخری رات تھی، ہمارے دو ساتھی تو الگ کمرے میں تھے، ہمیں اکیلے پوراکمرہ ملا تھا ، بغل والے کمرے میں وہ تینوں خواتین تھیں ۔رات کے کوئی بارہ بجے ہوں گے، ہم لحاف میں نیم ایستادہ ایک کتاب پڑھ رہے تھے کہ دروازے پر ہلکی سی دستک ہوئی، دروازہ کھلاتھا۔ اس نے کہا آجاؤ، خیال تھاکہ ہوٹل کاکوئی ملازم ہوگا یا میزبانوں میں سے کوئی ہوگا یا ہمارے مرد ساتھیوں میں سے بھی کوئی ہوسکتا تھا لیکن دیکھا تو ذہن میں طاہرہ سید کی مترنم آواز گونجی ۔
کس شبابت کو لیے آیا ہے دروازے پہ چاند
اے شب ہجراں ذرا اپنا ستارہ دیکھنا
اپنے دمکتے چہرے کو کھلی زلفوں کے سائے میں لیے ’’وہی‘‘ تھی ، شب خوابی کے لباس میں اور قیامت ڈھارہی تھی اورہم ہواؤں میں اڑنے لگے ، وہ آئی اس نے دیکھا اورفتح کرلیا ، والی کیفیت تھی۔
بقول پروین شاکر
دروازہ جو کھولا تو نظر آئے کھڑے وہ
حیرت ہے مجھے آج کدھر بھول پڑے وہ
اپنی مترنم اورشہد آگین آواز میں خوش آمدید کے بعد وہ سیدھی آئی اورہماری پائنتی بیٹھ گئی ، ہم اپنے لحاف میں نیم ایستادہ ہوگئے ۔ پیر دبادوں آپ کے ، نہ صرف کہا بلکہ اپنا مرمریں ہاتھ ہمارے پیروں پر رکھ کر دبایا بھی جو لحاف کے نیچے تھے ۔ پھر بولی چائے یاکافی بنالوں آپ کے لیے ۔ ظاہرہے کہ ایسی پیش کش کاانکار کوئی احمق ہی کرسکتا ہے ، وہ چائے بنانے کے لیے کمرے کے سائیڈ میں گئی، جہاں چائے یاکافی کے سارے انتظامات موجود تھے اوربجلی کی کیتلی بھی ۔ وہ چائے بنارہی تھی اورہم اس کی تاکمر زلفوں میں لٹکے ہوئے تھے ، آثار و قرائن سب کچھ بتارہے تھے کہ ہم پر لٹو ہوچکی ہے، ورنہ اتنی رات گئے اور وہ بھی اکیلی… شاید اپنی ساتھیوں کو سلانے کے بعد۔۔گویا مکمل سپردگی کے ساتھ ۔۔ ٹھیک ہے! وہ ہماری سب سے چھوٹی بیٹی سے بھی کم عمر کی تھی، لیکن ہمیں ایسی کئی فلمیں اورڈرامے یاد تھے جن میں نوخیزونوجواں لڑکیاں عمررسیدہ بوڑھوں پر مرمٹی تھیں۔
سارے حالات بتارہے تھے کہ لڑکی خود کو ہمارے سپرد کرنے آئی ہے ،اس سے جو ہوسکتا تھا، وہ اس نے کیا، آدھی رات کو تن تنہا ہمارے کمر ے میں اورکس لیے آئی۔ اب میری پیش قدمی کی باری تھی، چائے پی چکے تو ہم نے حکمت عملی کاسوچا ، ایک سیدھا طریقہ تو یہ تھا کہ ہم جھپٹ کر اسے آغوش میں لے لیتے لیکن یہ کچھ زیادہ لگا، دوسرا یہ کہ ہم اس کی کمر میں ہاتھ ڈالتے ، یہ بھی ذرا زیادہ لگا ، اپنا ہاتھ اس کے کاندھے پر رکھ لیتے، فاصلہ ایک فٹ سے بھی کم تھا، اس لیے ہاتھ اٹھاناچاہا لیکن وہ ہل کر نہیں دے رہا تھا، دیکھا تو بزدلی ہاتھ سے چمٹی ہوئی تھی ، جھٹکنے کی کوشش کی، ہاتھ منزل مقصود پرپہنچاناچاہتے لیکن بزدلی ہاتھ سے پوری طرح چپک گئی تھی ، آخر زورسے جھٹک کر بزدلی کو دورپھینکا اورہاتھ کو ہدف کی طرف بڑھایا لیکن ہاتھ ابھی ہوا ہی میں تھا کہ وہ بول پڑی، ’’اچھا باباجی! آپ کابہت بہت شکریہ۔‘‘ ابھی ہم بابا اورشکریہ کے الفاظ پر غورکررہے تھے کہ اس نے کہا،’’ دراصل جب میں گھر پر ہوتی ہوں تو اس وقت دوکپ چائے بنا کر اپنے باباجان کے کمرے میں چلی جاتی ہوں، پھر ہم باپ بیٹی چائے کی چسکیاں لے کر گپ شپ کرتے ہیں ۔۔۔ لیکن ایک ہفتے سے میں اپنے بابا جان کو مس کررہی تھی ،آج سوچا وہ بابا نہ سہی یہ بابا سہی کیونکہ آپ بھی تو میرے بابا جیسے ہی ہیں، شکریہ ‘‘۔۔۔وہ چلی گئی تو ہم نے اپنی ناراض اورروتی ہوئی بزدلی کو اٹھایا، اسے گلے لگایا، خوب چوما اورپھر اپنے ساتھ لٹا کر لحاف کھینچ لیا ، آج اگر وہ نہ ہوتی تو میں رسوائے عالم ہوجاتا ۔ اب سمجھ میں آیا کہ یہ جو ہراسگی، ہراسانی کی حماقت کرتے ہیں، ان کے پاس بزدلی کی نعمت نہیں ہوتی۔ دلیری تو دشمن ہوتی ہے۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل