Loading
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے واضح کیا ہے کہ ایران کے ساتھ جاری جنگ سے امریکا جلد بازی میں پیچھے نہیں ہٹے گا کیونکہ ایسا کرنے سے مسئلہ دوبارہ سر اٹھا سکتا ہے۔
عالمی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق صدر ٹرمپ نے مزید کہا کہ امریکا اس بار ’’کام مکمل کیے بغیر‘‘ ایران سے نہیں نکلے گا تاکہ چند سال بعد دوبارہ ایران سے اسی نوعیت کے بحران کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
فلوریڈا میں گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے مزید کہا کہ اگر امریکا نے ایران جنگ سے جلدی میں انخلا کیا تو 3 سال بعد یہی مسئلہ دوبارہ پیدا ہوسکتا ہے۔ اس بار مکمل اور دیرپا حل ضروری ہے۔
صدر ٹرمپ کے بقول ایران جنگ کو امریکا درست طریقے سے حل کرنا چاہتا ہے اور وہ جنگ کے کسی بھی عارضی معاہدے یا حکمت عملی کو قبول نہیں کریں گے۔
گو صدر ٹرمپ نے اپنے خطاب میں یہ واضح نہیں کیا کہ امریکا کون سے کام کو مکمل کیئے بغیر واپس نہیں جائے گا؟ تاہم اس سے قبل وہ متعدد بار رجیم چینج کا عندیہ دے چکے ہیں۔
جنگ کے آغاز کے پہلے روز اسرائیلی حملے میں شہید ہونے والے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کی قیادت کو امریکا کے لیے خطرہ قرار دیتے ہوئے صدر ٹرمپ متعدد بار ایران میں نئی قیادت لانے کے عزم کا اظہار کرچکے ہیں۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل