Tuesday, May 05, 2026
 

کروڑوں سال پہلے آج کے شہر کہاں تھے؟

 



سائنس دانوں نے ایک نیا اور دلچسپ ڈیجیٹل ٹول پیش کیا ہے جو زمین کے براعظموں کی کروڑوں سال پرانی حرکت کو ظاہر کرتا ہے اور یہ بھی بتاتا ہے کہ موجودہ شہر ماضی میں کس مقام پر تھے۔ یہ نظام نیدرلینڈز کی اوتریخت یونیورسٹی کے ماہرین نے تیار کیا ہے اور اسے اس انداز میں ڈیزائن کیا گیا ہے کہ عام افراد اور محققین دونوں زمین کی قدیم تاریخ کو بہتر طور پر سمجھ سکیں۔ پروفیسر ڈووے فان ہنسبرگن کی سربراہی میں کام کرنے والی ٹیم نے ایک آن لائن ٹول بنایا ہے جو کسی بھی جگہ کی تقریباً 32 کروڑ سال پہلے کی پوزیشن دکھانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ یہ ایک ایسا وقت ہے جب زمین ایک ہی بڑے برِاعظم، پینجیا، کی شکل میں موجود تھی۔ سائنس دانوں کے مطابق زمین کی ٹیکٹونک پلیٹیں مسلسل حرکت کرتی رہتی ہیں، جس کے باعث براعظم وقت کے ساتھ اپنی جگہ بدلتے رہتے ہیں، اور اسی وجہ سے مختلف علاقے مختلف ادوار میں مختلف موسمی حالات کا حصہ بنتے رہے ہیں۔ یہ تحقیق صرف جغرافیائی معلومات تک محدود نہیں بلکہ یہ اس بات کی بھی نشاندہی کرتی ہے کہ زمین بظاہر ساکن ہونے کے باوجود حقیقت میں مسلسل حرکت اور تبدیلی کے عمل سے گزر رہی ہے۔ مثال کے طور پر، تقریباً 24 کروڑ 50 لاکھ سال پہلے نیدرلینڈز کا خطہ ایک گرم اور مرطوب ماحول میں واقع تھا، جو موجودہ خلیج فارس سے ملتا جلتا تھا۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وقت کے ساتھ زمین کے خطوں کے موسم اور ماحول میں نمایاں تبدیلیاں آتی رہی ہیں۔ اوتریخت یونیورسٹی کے مطابق یہ منصوبہ ایک پیلیوجیوگرافی ماڈل پر مبنی ہے، جس میں قدیم براعظموں اور پہاڑی سلسلوں کی تفصیلی تشکیل نو کی گئی ہے۔ اس ماڈل کی تیاری کے لیے سائنس دانوں نے قدیم چٹانوں میں موجود مقناطیسی شواہد کا تجزیہ کیا، جو قدرتی کمپاس کی طرح کام کرتے ہیں اور یہ بتاتے ہیں کہ یہ چٹانیں زمین کے مقناطیسی قطبوں کے حوالے سے کہاں بنی تھیں۔ ماہرین کے مطابق اس تحقیق کی اہمیت صرف معلومات فراہم کرنے تک محدود نہیں بلکہ اس کے عملی فوائد بھی حاصل کیے جا سکتے ہیں۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل