Loading
جمعیت علماء اسلام نے شیخ الحدیث مولانا ادریس کے قتل کے خلاف صوبے بھر میں احتجاج کا اعلان کردیا۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق جے یو آئی کے صوبائی امیر سینٹر مولانا عطاءالرحمان نے شیخ الحدیث مولانا ادریس پر حملے میں اس کی شہادت کی مذمت کرتے ہوئے صوبہ بھر میں احتجاج کا اعلان کیا۔
انہوں نے کہا کہ مولانا ادریس پر حملے میں ملوث ملزمان کو اگر تین دن میں گرفتار نہ کیا گیا تو اس کے ملک گیر احتجاج کیا جائے گا، اگر حکمران، ریاست قوم کو تحفظ نہیں دے سکتے پھر عوام پر مسلط رہنے کا کوئی حق نہیں۔
پشاور میں جے یو ائی مرکز میں ہنگامی پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سینٹر مولانا عطاء الرحمان کا کہنا تھا کہ ہم تو ریاست کے خیر خواہ ہے، کیا ریاست کے حق ملک کے تحفظ کے لیے بات کرنا جرم ہے؟ علما کی آواز کو ایسے نہیں بند کیا جا سکتا، ہمیں ان چیزوں سے خوفزدہ نہیں کیا جا سکتا۔
انہوں نے کہا کہ مولانا اردیس مدرسے میں تدریس کے بعد گھر آرہے تھے جب گاڑی پر فائرنگ کی گئی، جس میں وہ شہید جبکہ سیکیورٹی اہلکار زخمی ہوئے۔
جے یو آئی کے صوبائی امیر نے کہا کہ مولانا ادریس کی شہادت پورے پاکستان کے لیے ایک بہت بڑا نقصان ہے، اس بدامنی اور امن و آمان کے لیے صوبہ بھر احتجاج کیا جائے گا،ہم نے بہت برداشت کر لیا، مزید اس برداشت کرنے قابل نہیں ہے۔
مولانا عطا الرحمان نے کہا کہ ہم نے روز اول سے ان انتخابات کو تسلیم نہیں کیا،پتہ نہیں ہم پر حملے کیوں کئے جا رہے ہیں، سمجھ نہیں آ رہا قانون نافذ کرنے والے ادارے کیا کررہے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ علما کرام کو کیوں ٹارگٹ کیا جاتا ہے، صوبائی حکومت 13 سال سے ہم پر مسلط ہے، یہ بھی فارم 47 والے ہیں، یہ بھڑکیں مارتے ہیں، کام نہیں کرتے، انکا کام صرف مرکز کے خلاف تحریکں چلانا ہے، صوبائی حکومت نے خیبرپختونخوا کو کس کے رحم و کرم پر چھوڑا ہوا ہے۔
سینیٹر مولانا عطا الرحمان نے کہا کہ یہ حکومت اپنے لیڈر کو رہا کروانے کی بجائے مرکز کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں، اگر ہم مرکز کے خلاف نکل سکتے ہیں تو ہم ہھر صوبائی حکومت کے خلاف بھی نکل سکتے ہیں، صوبائی حکومت عوام کو امن فراہم کرنے میں ناکام ہو چکی ہے۔
سینٹر مولانا عطاءالرحمان کا کہنا تھا کہ اگر کارکنان کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو گیا تو پھر حکومت نہیں رہے گی، واقعے میں ملوث دہشت گردوں کو جلد گرفتار کیا جائے، ہمیں بھی پتہ چلے ہمارا دشمن کون ہے، ہمارا احتجاج پر امن ہو گا جس میں قیادت کی جانب سے اگلا لائحہ عمل دیا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ آپ جنوبی اضلاع کی بات کرتے ہیں، اسلام آباد بھی محفوظ نہیں ہے، اگر تین دن کے اندر ملزمان کو گرفتار نہ کیا گیا تو اس کے خلاف ملک بھر میں احتجاج کیا جائے گا۔
قبل ازیں چارسدہ کے معروف عالم دین مولانا محمد ادریس شہید کے ہائی پروفائل قتل کیس کی نگرانی و تحقیقات کے لیے 3رکنی پراسیکیوشن ٹیم تشکیل دے دی گئی ہے۔
پراسیکیوشن ٹیم پولیس کی تفتیشی ٹیموں کے ساتھ رابطے میں رہے گی اور اس ضمن میں روزانہ کی بنیاد پر پیشرفت رپورٹ بھی تیار کی جائے گی۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل