Tuesday, May 05, 2026
 

کراچی میٹرک بورڈ کے انتظامات میں بے ضابطگیوں سے متعلق تہلکہ خیز انکشافات

 



کنٹرولنگ اتھارٹی اور وزیر جامعات و تعلیمی بورڈز سندھ محمد اسماعیل راہو نے کراچی میٹرک بورڈ کے امتحانی مراکز میں بے نظمی اور بدانتظامی سے متعلق انکوائری رپورٹ کی منظوری دے دی۔ تفصیلات کے مطابق چند روز قبل میڈیا رپورٹس اور طلبہ کی شکایات پر محکمہ جامعات و بورڈز کی جانب سے انکوائری کمیٹی تشکیل دی گئی تھی۔ کمیٹی نے اپنی رپورٹ میں چیئرمین میٹرک بورڈ، کنٹرولر امتحانات اور دیگر افسران کو ذمہ دار قرار دیتے ہوئے ان کے خلاف فوری تادیبی کارروائی اور معاملہ اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ کو بھیجنے کی سفارش کی ہے۔ رپورٹ کے مطابق امتحانی مراکز کی فہرست میں بڑے پیمانے پر غیر قانونی ردوبدل کیا گیا۔ امتحانات کے آغاز کے باوجود امتحانی کیلنڈر کی خلاف ورزی کرتے ہوئے 147 مراکز منسوخ جبکہ 117 نئے مراکز قائم کیے گئے، اور یہ تمام تبدیلیاں بغیر کسی قانونی جواز یا مجاز اتھارٹی کی منظوری کے کی گئیں۔ کمیٹی نے نشاندہی کی کہ مراکز کے الاٹمنٹ میں مخصوص نجی تعلیمی اداروں کو نوازا گیا، جس کے باعث گنجائش سے زیادہ طلبہ کا دباؤ بڑھا اور نقل کے لیے سہولت کاری کے خدشات پیدا ہوئے۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ چیئرمین اور کنٹرولر امتحانات مؤثر نگرانی میں مکمل طور پر ناکام رہے، جس سے امتحانی نظام کی ساکھ کو شدید نقصان پہنچا۔ چیئرمین نے اہم انتظامی اور نگرانی کی ذمہ داریوں میں غفلت برتی، جس کے نتیجے میں امتحانی نظام میں بدانتظامی اور خلل پیدا ہوا۔ وہ اس قدر پیچیدہ ادارے کی قیادت کے لیے درکار صلاحیت سے محروم نظر آتے ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ چیئرمین میٹرک بورڈ کے کو عہدے  کے لیے موزوں نہیں ان کی بقیہ مدت ختم کی جائے یا کم انتظامی نوعیت کے عہدے پر تبادلہ کیا جائے جبکہ کنٹرولر امتحانات کو فوری معطل کرکے ان کے خلاف ای اینڈ ڈی رولز کے تحت کارروائی کی سفارش کی گئی ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سیکریٹری نوید گجر  نے اہم قانونی فیصلوں پر عملدرآمد نہیں کروایا ان کی پالیسیاں ان  کی ناکام گورننس کو ظاہر کرتی ہیں  بالواسطہ امتحانی نظام میں  بدانتظامی کا باعث بنے۔ اس کے علاوہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ڈاکٹر نوید احمد گجر انتظامی غفلت، قانونی فیصلوں کو چھپانے، اور بورڈ کی پالیسیوں پر عملدرآمد نہ کرانے کے حوالے سے ذمہ دار ہیں  ان کے خلاف تادیبی کارروائی شروع کی جائے اور معاملہ مجاز اتھارٹی ان کے  عہدے پر برقرار رہنے کی اہلیت کا جائزہ لے کمیٹی نے عمران طارق بٹ کو اس پورے معاملے کا مرکزی کردار قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ معطلی کے باوجود مبینہ کرپشن اور ایجنٹوں کے ساتھ ساز باز میں ملوث رہے، لہٰذا ان کا کیس فوری طور پر اینٹی کرپشن کو بھیجنے کی سفارش کی گئی ہے۔ وزیر جامعات محمد اسماعیل راہو نے رپورٹ میں پیش کی گئی تمام سفارشات کی منظوری دیتے ہوئے کہا کہ آئندہ امتحانی مراکز کی حتمی فہرست امتحانات سے ایک ماہ قبل جاری کی جائے گی۔ انہوں نے ہدایت کی کہ بورڈز میں خالی اسامیوں پر فوری مستقل تقرریاں کی جائیں اور امتحانی نظام کو شفاف بنانے کے لیے ڈیجیٹلائزیشن اور آٹومیشن کا عمل فوری شروع کیا جائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ امتحانی مراکز کے نگران کے لیے گریڈ 17 افسر کی تعیناتی لازمی قرار دی جائے گی، صوبائی وزیر کی منظوری کے بعد سیکرٹری جامعات و بورڈز نے تمام متعلقہ حکام کو رپورٹ پر عملدرآمد کے احکامات جاری کر دیے ہیں۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل