Loading
چارسدہ میں شیخ الحدیث مولانا محمد ادریس پر حملہ کرنے والے نیٹ ورک کے بارے تفتیشی ٹیموں نے سراغ لگا لیا گیا اور سی سی ٹی وی کیمروں کی مدد سے مبینہ حملہ آووروں کی تصاویر بھی حاصل کر لی گئی ہیں۔
آئی جی خیبرپختونخوا ذوالفقار حمید نے بتایا کہ ابتدائی شواہد کے مطابق واقعہ ٹارگٹ کلنگ ہے، ملوث عناصر کو جلد انجام تک پہنچایا جائے گا۔
جید عالم دین مولانا محمد ادریس پر آج صبح تقریباً آٹھ بج کر دس منٹ پر تھانہ اتمانزئی (چارسدہ) کی حدود میں حملہ کیا تھا جہاں نامعلوم دو موٹر سائیکل سوار4 دہشت گردوں نے مولانا کی گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کی تھی اور واقعے کے فوری بعد مولانا ادریس اور دونوں زخمی کانسٹیبلز کو اسپتال منتقل کیا گیا۔
مولانا محمد ادریس اسپتال منتقلی کے دوران راستے میں ہی زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے جام شہادت نوش کر گئے تاہم زخمی کانسٹیبلز کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔
واقعے کی اطلاع ملتے ہی ضلعی پولیس اور محکمہ انسداد دہشت گردی (سی ٹی ڈی) کی ٹیمیں جائے وقوع پر پہنچ گئیں، علاقے کو گھیرے میں لے کر سرچ آپریشن شروع کر دیا گیا ہے۔
پولیس کے مطابق سیف سٹی کیمروں کی مدد سے حملہ آوروں کی شناخت کے حوالے سے اہم پیش رفت ہوئی ہے اور ملزمان کی تصاویر حاصل کر لی گئی ہیں جن کی بنیاد پر ٹیمیں مختلف مقامات پر چھاپے مار رہی ہیں۔
پولیس نے مزید بتایا کہ ابتدائی تحقیقات کے مطابق یہ ایک منظم ٹارگٹ کلنگ کا واقعہ ہے۔
آئی جی خیبر پختونخوا ذوالفقار حمید نے واقعے کا فوری نوٹس لیتے ہوئے اعلیٰ سطح کی تحقیقاتی ٹیمیں تشکیل دے دی ہیں جو جدید سائنسی خطوط پر کام کر رہی ہیں۔
انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ ان سفاک قاتلوں اور ان کے سہولت کاروں کو بہت جلد قانون کے کٹہرے میں کھڑا کیا جائے گا اور علاقے میں امن و امان کی صورت حال کو برقرار رکھا جائے گا۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل