Loading
سابق چیئرمین ڈیپارٹمنٹ میڈیا اینڈ کمیونیکیشن سٹڈیز اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور
مشرق وسطی کی موجودہ غیر یقینی صورت حال میں نئے معاشی و سیاسی اتحاد بنتے اور پرانے ٹوٹتے ہوئے نظر آ رہے ہیں۔ عرب امارات نے اوپیک سے نکلنے کا اعلان کردیا ہے اور آزادانہ طور پر اپنے پٹرولیم مصنوعات کی برآمد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس سے قبل سعودی عرب تمام عرب ممالک کی پٹرولیم مصنوعات کی درآمدات کو کنٹرول کرکے انکی انٹرنیشنل مارکیٹ میں قیمتوں کا تعین کیا کرتا تھا۔ موجودہ بحران میں باہمی اختلافات کی وجہ سے عرب لیگ میں بھی دراڑیں واضح ہوگئی ہیں۔ ویسے بھی خلیج کے موجودہ حالات میں جی سی سی' عرب لیگ اور او آئی سی کا کوئی مؤثر کردار نظر نہیں آیا بقول جرنلسٹ طیب سیف " مشرقِ وسطیٰ کی سیاست ہمیشہ سے ریت پر لکھی ایک تحریر کی طرح رہی ہے—ہوا چلتی ہے، نقش بدل جاتے ہیں"۔ مگر اس بار جو نقش بن رہے ہیں، وہ عارضی نہیں لگتے۔ یہ نئے اتحاد، نئے بلاکس، اور نئی صف بندیاں اس بات کا اشارہ ہیں کہ دنیا ایک اور بڑی اسٹریٹجک ترتیب کی طرف بڑھ رہی ہے۔
ایک طرف وہ اتحاد کھڑا ہو رہا ہے جسے کچھ تجزیہ کار ‘‘Hexagon-Disruptive Alliance’’ کا نام دے رہے ہیں—متحدہ عرب امارات، اسرائیل اور بھارت جیسے ممالک اس کا مرکز ہیں، جبکہ یونان، قبرص اور مراکش جیسے ممالک اس کے گرد حلقہ بناتے نظر آتے ہیں۔ یہ اتحاد دراصل طاقت کے توازن کو روایتی خطوط سے ہٹا کر ایک نئی جہت میں لے جا رہا ہے، جہاں جغرافیہ سے زیادہ مفادات کی بنیاد پر فیصلے ہو رہے ہیں۔
دوسری طرف ایک ‘‘اسلامک نیٹو’’ جیسا تصور ابھرتا دکھائی دیتا ہے—سعودی عرب، پاکستان اور ترکی اس کے مرکزی ستون ہیں۔ یہ وہ ممالک ہیں جو نہ صرف عسکری صلاحیت رکھتے ہیں بلکہ سیاسی اثر و رسوخ بھی رکھتے ہیں۔ ان کے ساتھ قطر، مصر اور دیگر ریاستیں جڑتی نظر آتی ہیں، گویا ایک ایسا بلاک تشکیل پا رہا ہے جو اپنے مفادات کا دفاع بغیر کسی بیرونی سہارے کے خود کرنے کی صلاحیت رکھتا ہو
اور تیسرا بلاک—‘‘محورِ مزاحمت’’—ایران کی قیادت میں پہلے سے موجود ہے، مگر اب وہ بھی زیادہ منظم اور واضح شکل اختیار کرتا جا رہا ہے۔ حوثی، حزب اللہ، اور دیگر گروپس اس کے بازو ہیں، جو ایک غیر روایتی مگر مؤثر دفاعی حکمت عملی کا حصہ ہیں۔
سوال یہ ہے کہ یہ سب ہو کیوں رہا ہے؟اصل میں، پرانے سکیورٹی سسٹمز اپنی افادیت کھو چکے ہیں۔ ایک وقت تھا جب امریکہ واحد ضامن سمجھا جاتا تھا، مگر اب نہ وہ ہر جگہ موجود ہے، نہ ہر مسئلے کو حل کرنے کی پوزیشن میں۔ افغانستان سے انخلا، شام میں غیر یقینی حکمت عملی، اور خلیج میں بدلتی ترجیحات نے خطے کے ممالک کو یہ سوچنے پر مجبور کر دیا کہ اپنی حفاظت کا بندوبست خود کرنا ہوگا یہ نئے بلاکس اسی خلا کا نتیجہ ہیں۔ مزید یہ کہ خطرات بھی بدل گئے ہیں۔ اب جنگیں صرف ٹینکوں اور طیاروں سے نہیں ہوتیں—معیشت، توانائی، سمندری راستے، اور ٹیکنالوجی سب میدانِ جنگ بن چکے ہیں۔ ایسے میں ایک ملک اکیلا کھڑا نہیں رہ سکتا، اسے ہم خیال ممالک کی ضرورت ہوتی ہے۔ لیکن یہ اتحاد صرف دفاعی نہیں، بلکہ معاشی اور سیاسی بھی ہیں۔ مثال کے طور پر، توانائی کے راستے، تجارتی راہداریوں، اور اسلحہ سازی میں خود کفالت—یہ سب ان اتحادوں کے بنیادی محرکات ہیں۔ یعنی اب جنگ صرف جیتنی نہیں، بلکہ اسے برداشت کرنے کی صلاحیت بھی ضروری ہے۔
کیا موجودہ نظام ناکام ہو گئے؟
جزوی طور پر اس کا جواب، ’ہاں‘ ہے۔
پرانے اتحاد زیادہ تر ایک بڑی طاقت کے گرد گھومتے تھے، جبکہ نئے اتحاد ‘‘ملٹی پولر’’ دنیا کی عکاسی کرتے ہیں۔ اب ہر ملک چاہتا ہے کہ وہ صرف کسی کا اتحادی نہ ہو، بلکہ خود بھی ایک کھلاڑی بنے۔ یہی وجہ ہے کہ سعودی عرب، ترکی، اور حتیٰ کہ یو اے ای بھی اپنی الگ شناخت اور اثر و رسوخ قائم کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ یہ سب دیکھ کر ایک بات واضح ہوتی ہے—دنیا اب دو حصوں میں تقسیم نہیں رہی، بلکہ کئی دائروں میں بٹ چکی ہے۔ ہر دائرہ اپنے مفادات، اپنے خطرات، اور اپنی ترجیحات کے مطابق خود کو ترتیب دے رہا ہے۔ اور اس پوری بساط پر پاکستان جیسے ممالک کے لیے یہ وقت نہایت اہم ہے۔ کیونکہ اب سوال یہ نہیں کہ آپ کس کے ساتھ ہیں، بلکہ یہ ہے کہ آپ کس حد تک خود اپنے لیے کھڑے ہو سکتے ہیں۔ یہی نئی دنیا میں اپنے وجود کو منوانے اور قائم رکھنے کا اصول ہے اسی حوالے سے ایک طرف تو پاکستان' ایران امریکہ تنازعہ کے پائیدار حل کیلئے جنگی بنیادوں پر سفارت کاری میں مصروف ہے اور اس سلسلے میں وزیراعظم نے سعودی عرب ترکیہ اور قطر کا دورہ کیا ہے اور ایرانی و امریکی صدر سمیت کئی ممالک کی اعلیٰ قیادت سے رابطے میں ہیں۔ جبکہ فیلڈ مارشل اس سلسلے میں ایران کا تین روزہ دورہ کر چکے ہیں۔ پاکستان کی کوشش تھی کہ 22 اپریل کو ختم ہونے والی جنگ بندی کی ڈیڈ لائن سے پہلے مزاکرات کا دوسرا دور شروع ہو جائے اور اس میں کوئی معاہدہ یا میمورنڈم آف انڈر سٹینڈنگ طے پا جائے تاکہ دنیا کو ممکنہ تیسری عالمی جنگ کی تباہی وبربادی کے خطرے سے بچایا جاسکے لیکن اس میں کامیابی نہ ہو سکی، تاہم پاکستان کی درخواست پر ٹرمپ نے جنگ بندی میں توسیع کردی اور ایرانی وزیرِ خارجہ عراقچی نے پاکستان کا دورہ کرکے پاکستانی قیادت سے تبادلہ خیال کیا اور معاہدے کے حوالے سے اپنے نکات پاکستانی قیادت کے حوالے کئے جسے امریکہ بھجوادیا گیا۔ آخری خبریں آنے تک امریکی قیادت اس پر غور و خوض کرر ہی ہے۔عراقچی نے پاکستان کے بعد اومان اور روس کا دورہ بھی کیا ہے۔دوسری طرف ان حالات کے تناظر میں پاکستان، ترکیہ، سعودیہ اور مصری حکام 4 فریقی اتحاد کی تشکیل پر کام کررہے ہیں اور انطالیہ میں منعقدہ گزشتہ اجلاس میں نئے 4 فریقی اتحاد کے ڈھانچے کی حتمی تجاویز تیار کرلی گئی ہیں۔اس مقصد کیلئے ان چاروں ممالک کے وزرائے خارجہ کی سطح پر پہلا اجلاس ریاض میں ہوا تھا اور اس کے بعد پاکستان، ترکیہ، مصر اور سعودی عرب خاموشی سے لیکن مستقل مزاجی کے ساتھ ایک نئے 4 فریقی ڈھانچے کو باقاعدہ شکل دینے کی جانب بڑھتے چلے جا رہے ہیں، کیونکہ مشرقِ وسطیٰ میں تیزی سے ہونے والی تبدیلیاں اہم علاقائی ممالک پر سفارت کاری اور سیکیورٹی پر زیادہ قریبی ہمآہنگی پیدا کرنے کا دباؤ ڈال رہی ہیں۔ حکام اسے باقاعدہ اتحاد کہنے سے کترا رہے ہیں تاہم رابطوں کی رفتار اور تعداد یہ ظاہر کرتا ہے کہ 4 ملکی فورم ایک منظم گروپ میں تبدیل ہو رہا ہے جس کا مقصد غیر مستحکم خطے میں نتائج پر اثر انداز ہونا ہے۔ اس حوالے سے حالیہ قدم ترکی انطالیہ میں 17 اپریل کو منعقدہ ڈپلومیسی فورم کے موقع پر اٹھایا گیا جب ان چاروں ممالک کے وزرا خارجہ نے ملاقات کرکے فریم ورک کو حتمی شکل دی۔ ڈپلومیسی فورم میں پاکستانی وزیراعظم اور نائب وزیراعظم نے شرکت کی۔ڈپلومیسی فورم کے انعقاد کے موقع پر یہ مشاورت خطے میں ایران امریکہ اسرائیل جنگ کی وجہ سے سے پیدا شدہ تناؤ کی صورتحال میں منعقد ہوئی۔ اس سے قبل ان ممالک کے اعلی حکام نے اپنے وزرائے خارجہ کے درمیان ہونے والی سابقہ مشاورت کے تسلسل میں اسلام آباد میں ملاقات کی۔ پاکستانی وفد کی قیادت ایڈیشنل سیکریٹری خارجہ اور ترجمان سفیر طاہر انداربی نے کی۔ ترکیہ کے وفد کی سربراہی نائب وزیر خارجہ سفیر موسیٰ کولاکلیکایا نے کی، مصر کی نمائندگی اسسٹنٹ وزیر خارجہ سفیر نزیہ النگاری نے کی اور سعودی وفد کی قیادت وزارت خارجہ کے ڈائریکٹر جنرل شہزادہ ڈاکٹر عبداللہ بن خالد بن سعود الکبیر السعود نے کی۔ یہ مشاورت بالخصوص ایران اور امریکہ کے حالیہ فوجی تناو کے پس منظر میں ہو رہی ہے۔ اس فوجی تناو نے خطے میں سفارتی منظر نامے کو بدل کر رکھ دیا ہے اور کشیدگی کے مزید پھیلاو کو روکنے کے لیے فوری پسِ پردہ کوششوں کی ضرورت محسوس کی گئی ہے۔ ان چاروں ملکوں کا وزرائے خارجہ کی سطح پر پہلا اجلاس 19 مارچ کو ریاض میں اس وقت ہوا تھا جب تہران اور واشنگٹن کے درمیان کشیدگی عروج پر تھی۔ محض دس دن بعد وہ دوبارہ اسلام آباد میں جمع ہوئے جو اس اقدام کی فوری ضرورت اور سنجیدگی کو اجاگر کرتا ہے۔اب تقریباً ایک ماہ بعد انطالیہ میں ایک اور اجلاس منعقد ہونا اس مشترکہ اعتراف کا عکاس ہے کہ مشرقِ وسطیٰ اور دنیا میں میں تیزی سے ابھرتے ہوئے بحرانوں کا جواب دینے کے لیے روایتی سفارتی طریقے اب کافی نہیں رہے۔
سفارتی ذرائع کے مطابق اس بات چیت کا محور ایک ایسے تعاون پر مبنی فریم ورک کی تشکیل ہے جو تنازعات کی روک تھام، اقتصادی ہم آہنگی اور کلیدی علاقائی مسائل پر سیاسی ہمآہنگی کے گرد گھومتا ہے۔ ذرائع کے مطابق مربوط نقطہ نظر کی ضرورت پر چاروں دارالحکومتوں کے خیالات میں واضح ہم آہنگی پائی جاتی ہے۔ اگرچہ اس گروپ کے ڈھانچے پر ابھی کام ہو رہا ہے، لیکن یہ عارضی مشاورت سے آگے بڑھ رہا ہے۔ پاکستان کے دورے کے دوران وفود نے نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار سے بھی ملاقات کی جنہوں نے ان برادر ممالک کے درمیان تعاون کو ادارہ جاتی شکل دینے کی اہمیت پر زور دیا۔
اسحاق ڈار نے اس بات پر زور دیا کہ قریبی ہم آہنگی امن، استحکام اور اقتصادی ترقی کے مشترکہ اہداف کو آگے بڑھانے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔ خاص طور پر ایک ایسے وقت میں جب مشرقِ وسطیٰ میں جغرافیائی و سیاسی غیر یقینی کی صورتحال گہری ہو رہی ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اُبھرتا ہوا چار فریقی ڈھانچہ کسی باقاعدہ بلاک کے بجائے ایک عملی ہم آہنگی کی عکاسی کرتا ہے جس کا محرک علاقائی استحکام، توانائی کی سلامتی اور سفارتی اثر و رسوخ میں مشترکہ مفادات ہیں۔دریں اثنا پاکستانی ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق حالیہ اجلاس مقصد باہمی تعاون کو مزید فروغ دینا اور مشترکہ حکمت عملی وضع کرنا ہے۔ اس پوری بساط میں، پاکستان جیسے ممالک کے لیے یہ وقت نہایت اہم ہے۔ اُمید کی جا رہی ہے کہ اس ڈھانچے میں خطے کے دیگر مسلم ممالک بھی شامل ہوں گے اور یہ فورم او آئی سی کی طرح ایک غیر موثر فورم ثابت نہیں ہوگا اور مسلم ممالک کے مابین اور مسلم ممالک کے دنیا کے دیگر ممالک کے مابین تنازعات کو سفارتی سطح پر حل کرنے میں نتیجہ خیز کردار ادا کرسکے گا۔ پاکستان کی موجودہ سفارتی کامیابیوں اور امریکہ چین روس اور مسلم ممالک سے متوازن تعلقات کو دیکھتے ہوئے بظاہر یہی نظر آتا ہے کہ پاکستان اس گروپ کو لیڈ کرسکتا ہے جو اس گروپ کی کامیابی کے حوالے سے جہاں ایک ایک اہم ذمہ داری ہوگی وہیں پاکستان کیلئے سفارتی معاشی اور علاقائی مفادات کے حوالے سے مواقع پیدا کرنے کا باعث بھی بن سکتا ہے۔
پاکستان، ترکیہ، مصر اور سعودی عرب کے درمیان اس نئے چار فریقی سٹریٹجک تعاون یا اتحاد کی اطلاعات کو خطے اور دنیا کے دیگر ممالک بھی غور سے دیکھ رہے ہیں اور توقع ہے کہ قطر سمیت کئی دیگر ممالک اس کا حصہ بن جائیں گے جس کا حتمی خاکہ اپریل 2026 میں تیار کیا گیا ہے۔ اس مجوزہ اتحاد کا مقصد علاقائی امن، استحکام اور مسلم دنیا کے مسائل کا حل تلاش کرنا ہے۔
اس متوقع اتحاد کے اہم نکات کو مختصراً یوں بیان کیا جا سکتا ہے۔
چار فریقی ڈھانچہ: یہ چاروں ممالک مل کر ایک مستقل 4 فریقی ڈھانچے کو تشکیل دے رہے ہیں، جس کے تحت وزرائے خارجہ کی سطح پر مشاورتی اجلاس منعقد کیے جا رہے ہیں۔
علاقائی امن و استحکام: 18 اپریل 2026 کو سامنے آنے والی اطلاعات کے مطابق یہ ممالک علاقائی امن اور استحکام کے لیے مل کر کام کرنے پر متفق ہوئے ہیں۔
سفارتی شراکت داری: انطالیہ میں ہونے والے اجلاسوں میں ان ممالک نے باہمی شراکت داری کو وسعت دینے اور ہم آہنگی کو مزید مضبوط بنانے پر زور دیا ہے۔
مشرق وسطیٰ کی کشیدگی: اس اتحاد کا ایک بڑا ہدف مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کو کم کرنا اور ثالثی کے ذریعے ایران اور دیگر علاقائی تنازعات میں اپنا کردار ادا کرنا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اگر پاکستان، مصر، سعودی عرب اور ترکیہ کا یہ اتحاد کامیاب ہو جاتا ہے تو یہ مسلم دنیا کے لیے ایک بڑی پیشرفت ہوگی اور ان ممالک کے باہمی تعاون سے خطے کے بہت سے مسائل حل کیے جا سکتے ہیں۔n
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل