Tuesday, May 05, 2026
 

خیبرپختونخوا کو نظرانداز کرنے کا الزام، وزیراعلیٰ کا وفاق کے خلاف قلم چھوڑ ہڑتال کا اعلان

 



وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے وفاقی حکومت پر صوبے کو نظرانداز کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے کل 6 مئی کو صوبے بھر میں قلم چھوڑ ہڑتال کا اعلان کردیا۔ وزیراعلیٰ نے کہا ہے کہ خیبرپختونخوا میں پاکستان کے مقبول ترین رہنما عمران خان کی حکومت ہونے کے باعث وفاق دانستہ طور پر صوبے کو نظر انداز کر رہا ہے، این ایف سی ایوارڈ، بجلی اور گیس کی فراہمی سمیت اہم شعبوں میں صوبے کے ساتھ ناانصافی کی جا رہی ہے، جس کے باعث صوبے کے عوام شدید مشکلات کا شکار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ رویہ نہ صرف آئینی تقاضوں کے منافی ہے بلکہ وفاقی اکائیوں کے درمیان اعتماد کو بھی نقصان پہنچا رہا ہے۔ انہوں ںے اعلان کیا کہ 6 مئی کو صوبے بھر میں قلم چھوڑ ہڑتال کی جائے گی تاہم ایمرجنسی سروسز اس ہڑتال سے مستثنیٰ ہوں گی۔ وزیراعلیٰ نے عمران خان اور بشریٰ بی بی کو درپیش حالات پر بھی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ انہیں ذاتی معالجین کی نگرانی میں علاج کی سہولت فراہم نہیں کی جا رہی، جو کہ انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان کو اہل خانہ اور وکلا سے ملاقات کی اجازت نہ دینا غیر انسانی اور غیر قانونی اقدام ہے۔ انہوں نے آئین اور قانون کی بالادستی پر یقین رکھنے والے وکلا سے اپیل کی کہ وہ اس قلم چھوڑ ہڑتال میں بھرپور شرکت کریں تاکہ ظلم، ناانصافی اور امتیازی سلوک پر مبنی اس نظام کا خاتمہ کیا جا سکے۔ وفاق سے مذاکرات کے لیے 13 رکنی پارلیمانی کمیٹی تشکیل دریں اثنا اسپیکر خیبر پختونخوا اسمبلی نے صوبے کے قانونی و مالی اختیارات کے لیے وفاق سے مذاکرات کے لیے 13 رکنی پارلیمانی کمیٹی تشکیل دے دی، کمیٹی  مذاکرات کے لیے ٹی او آرز بھی بنائے گی۔ خیبر پختونخوا اسمبلی سیکرٹریٹ کے اعلامیے کے مطابق اسپیکر خیبر پختونخوا بابر سلیم سواتی نے اپنی سربراہی میں صوبے کے آئینی و مالی حقوق کے لیے حصول کے لیے 13 رکنی پارلیمانی کمیٹی تشکیل دی ہے۔ کمیٹی میں وزیر قانون آفتاب عالم، وزیر بلدیات مینا خان، وزیر خزانہ مزمل اسلم، اپوزیشن لیڈر ڈاکٹر عباد، صوبائی وزیر اکبر ایوب، نذیر عباسی، عبدالکریم، آصف خان، احمد کنڈی، مولانا لطف الرحمان، ارباب وسیم اور ارباب عثمان شامل ہیں۔ کمیٹی کو اختیار ہوگا کہ وہ ضرورت کے مطابق ماہرین کو کمیٹی میں شامل کرے، کمیٹی وفاق سے صوبے کے حقوق کے حوالے مذاکرات کے لیے ٹی او آرز بھی طے کرے گی۔۔ واضح رہے کہ وزیراعلی سہیل آفریدی نے گزشتہ دنوں صوبائی اسمبلی میں اسپیکر بابر سلیم سواتی کے ہمراہ اپوزیشن ارکان سے ملاقات کی تھی جس میں وفاق کے ذمے بجلی کے خالص منافع آئل اینڈ گیس اور دیگد مدات میں واجبات کی ادائیگی کے لیے مشترکہ جدوجہد پر اتفاق کیا تھا اسی تناظر میں پارلیمانی کمیٹی تشکیل دی گئی ہے۔ قلم چھوڑ ہڑتال ٹوپی ڈرامہ ہے، انجینئر امیر مقام قلم چھوڑ ہڑتال کے اعلان پر وفاقی وزیر اور صدر پاکستان مسلم لیگ (ن) خیبر پختونخوا انجینئر امیر مقام  نے سخت ردعمل دیتے ہوئے اسے “ٹوپی ڈرامہ” قرار دے دیا۔ اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ یہ اقدام عوام کی توجہ اصل مسائل سے ہٹانے کی ناکام کوشش ہے، صوبائی حکومت اپنی ناقص کارکردگی چھپانے کے لیے محض پوائنٹ اسکورنگ میں مصروف ہے، جبکہ عوام کو بنیادی سہولیات سے محروم رکھا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ باشعور عوام ایسے ہتھکنڈوں کو مسترد کریں گے، کیا ایک وزیر اعلیٰ صوبے کے معاملات پر توجہ دینے کے بجائے ہڑتالوں کی سیاست کرے گا؟ خیبرپختونخوا کے عوام اس غیر ذمہ دارانہ رویے سے تنگ آ چکے ہیں،  صوبہ پہلے ہی سرکاری امور میں تعطل کا شکار ہے اور مختلف شعبوں میں قلم چھوڑ ہڑتال جاری ہیں، جس کا براہِ راست نقصان عام شہریوں کو اٹھانا پڑ رہا ہے۔ انہوں نے این ایف سی کے حوالے سے بھی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ صوبے کو اس کا آئینی حصہ مل رہا ہے، اس کے باوجود عوام کو گمراہ کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے، جبکہ بجلی اور گیس کے معاملات کو سیاسی رنگ دیا جا رہا ہے، پوری قوم معرکۂ حق کی پہلی سالگرہ منا رہی ہے  تو کچھ عناصر کو ہضم نہیں ہو رہی۔ انہوں نے کہا کہ یہ وہی لوگ ہیں جو ہر قومی کامیابی کو متنازع بنانے کی کوشش کرتے ہیں، مگر ماضی کی طرح اس بار بھی ناکام ہوں گے۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل