Loading
ایران کے صدر مسعود پزیشکیان نے تصدیق کی ہے کہ حال ہی میں ان کی دوبدو ملاقات سپریم لیڈر مجتبی خامنہ ای کے ساتھ ہوئی ہے۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق مجتبیٰ خامنہ ای کے مارچ میں ایران کے رہبر اعلیٰ منتکؓ ہونے کے بعد کسی بھی شخصیت کے ساتھ یہ پہلی ملاقات ہے جس کا زکر منظرعام پر کیا گیا۔
ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق صدر مسعود پزیشکیان نے بتایا کہ رہبراعلیٰ سے ملاقات یہ تقریباً ڈھائی گھنٹے تک جاری رہی۔ جس میں ان کا برتاؤ انتہائی دوستانہ، پُراعتماد اور عاجزانہ تھا۔
صدر مسعود پزیشکیان نے مزید کہا کہ سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کے طرزِ گفتگو اور رویے نے اس ملاقات کو براہِ راست مکالمے، اعتماد اور ہم آہنگی کی فضا میں بدل دیا۔ وہ پُرعزم اور متحرک نظر آئے۔
یہ بیان ایک ایسے وقت سامنے آیا ہے جب ایران کے نئے سپریم لیڈر کی صحت اور زندگی سے متعلق متضاد دعوے سامنے آئے تھے،
امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے بھی کہا تھا کہ 29 فروری کو جس اسرائیلی حملے میں آیت اللہ علی خامنہ ای کی شہادت ہوئی تھی اُس میں ان کے بیٹے اور موجودہ سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ بھی زخمی ہوئے تھے اور تاحال نامعلوم مقام پر ہیں۔
ایرانی حکام نے بھی دعویٰ کیا تھا کہ نئے سپریم لیڈر کی ٹانگ میں چوٹ آئی ہے لیکن وہ تیزی سے روبہ صحت ہیں اور مکمل ہوش و حواس کے ساتھ امور مملکت کی سرگرمیاں چلا رہے ہیں۔
تاہم مارچ میں نئے سپریم لیڈر منتخب ہونے کے بعد سے تاحال مجتبیٰ خامنہ ای کبھی کسی مقام پر نظر نہیں آئے اور نہ ہی ان کی کوئی ویڈیو بیان یا تازہ تصویر سامنے آئی ہے۔ ان کے تمام بیانات سرکاری ٹی وی پڑھ کر سنائے گئے ہیں۔
بعض رپورٹس میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا تھا کہ ایرانی حکومت کے کئی اہم عہدیداروں کو بھی مجتبیٰ خامنہ ای تک رسائی حاصل نہیں اور ان کے گرد پاسدارانِ انقلاب کے سینئر کمانڈرز نے سخت سیکیورٹی حصار قائم کر رکھا ہے۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل