Thursday, May 07, 2026
 

سعودی عرب کیلئے جو خطرہ ہے وہ ہمارے لیے بھی خطرہ ہے، ڈی جی آئی ایس پی آر

 



پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) لیفٹننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا ہے کہ سعودی عرب اور پاکستان کے تعلقات بہت گہرے، برادرانہ اور جذبات پر مبنی ہیں اور باہمی معاہدے کے تحت سعودی عرب کے لیے کوئی خطرہ ہوا تو وہ ہمارے لیے بھی خطرہ ہے۔ ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹننٹ جنرل احمد شریف چوہدری سے پریس کانفرنس کے دوران سوال کیا گیا کہ اگر بھارت کل کو دوبارہ جارحیت کرتا ہے تو سعودی عرب کی کیا پوزیشن ہوگی کیا سعودی عرب پاکستان کی مدد کرے گا، جس پر انہوں نے کہا کہ پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات بہت گہرے ہیں، کئی جہتیں ہیں، برادرانہ اور جذبانی تعلقات ہیں، اسٹریٹجک میوچل ڈیفنس معاہدہ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دہائیوں سے جاری تاریخی اور گہرے تعلقات کا مظہر ہے اور اس کے کئی پہلو ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایک چیز واضح ہونی چاہیے کہ محفاظین حرمین شریفین کا اعزاز پاکستان کے ہر بچے اور ہر مسلمان کے لیے بہت بڑا اعزاز ہے کہ اللہ تعالیٰ پاکستان اور اس کی افواج کو حرمین شریقین پر کوئی خطرے ہوتا ہے تو اس کے دفاع کے لیے چنا ہے اور حرمین شریفین کی حفاظت سعودی عرب کی قومی سلامتی کے ساتھ جڑی ہے۔ لیفٹننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا کہ سعودی عرب کے لیے کوئی خطرہ ہمارے لیے بھی خطرہ ہے، اسی طرح ہمیں سعودی عرب کی سیکیورٹی اور سلامتی عزیز ہے اسی طرح سعودی عرب کو بھی پاکستان کی سلامتی عزیز ہے، اس کی دونوں ممالک کے لیے دو طرفہ اہمیت ہے، اس کا نتیجہ کیا ہوگا یہ معاہدے کا حصہ نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں بڑا واضح ہے کہ اللہ کا حکم ہے کہ اپنا عہد پورا کرو کیو نکہ آپ کو عہد کے بارے میں سوال کیا جائے گا تو ہم اپنا عہد پورا کرنے والے ہیں ہم نے جو وعدہ کیا ہے وہ پورا کرنے والے ہیں۔ ڈی جی آئی ایس پی آر نے ایک سوال پر کہا کہ جتنی شہادتیں ہم نے دیں اور جتنا جنگ کے لیے ہم تیار ہیں دنیا میں کوئی نہیں ہے، ہمیں خود پر اور قوم پر بھروسہ ہے اور قوم کو بھی ہم پر بھروسہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بھارت کو غلط فہمی تھی پاک فوج اور عوام کے درمیان دوری ہے۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل