Loading
عنوان دیکھ کر چونکنے یا حیران ہونے کی ضرورت نہیں کہ یہ نہ تو کتابت کی غلطی ہے نہ پروف ریڈنگ کی اورنہ ہی ہم نے ’’گھوڑے‘‘ کو گاڑی کے پیچھے باندھا ہے بلکہ عنوان ’’العلاج والامراض’’ ہی ہے، کیوں کہ ہماری نظر میں واقعی ایک ایسا ’’موذی علاج‘‘ ہے جس کو ہزار ہزار امراض لاحق ہوتے رہے ہیں یاکیے جاتے رہے ہیں لیکن وہ سارے امراض اس علاج کا کچھ بھی بگاڑ نہیں پائے ہیں چنانچہ جس طرح بہت سارے اخبارات ورسائل یا ریڈیو، ٹی وی پر کسی مرض کاذکر کرتے ہیں اورپھر اس کے لیے علاج ڈھونڈتے اوربتاتے ہیں، اسی طرح ہم بھی اس علاج کے امراض ڈھونڈیں گے ۔
دراصل ہم نہ ایلوپیتھ میں نہ ہومیو پیتھ نہ یونانی پتھ نہ آئیورویدک اورنہ ہی چائناپیتھ ، اکوپنکچرپیتھ اوراکوپریشر پیتھ بلکہ ’’میکو پیتھ ‘‘ ہیں اوریہ طریقہ علاج بلاشرکت غیرے خالص ہماری اپنی ایجاد ہے اورہمیں اپنے اسی ’’پیتھ‘‘ کے ذریعے اس علاج کے امراض ڈھونڈنا ہیں جو اس وقت ہی نہیں ابتدائے آفرینشں سے تاریخ کے صفحے صفحے ، جغرافیے کے چپے چپے اورجنرل نالج کے کھپے کھپے پر موجود رہا ہے ، حکیم حکما، طبیب اطباء اس کے لیے امراض پیدا کرتے ہیں اوریہ ان امراض کو جذب اوربرداشت کرتا رہا ہے ۔ویسے تو علاج کا اپنا خاندانی نام ’’عوام کالانعام‘‘ ہے لیکن اگلے وقتوں میں لوگ اسے رعیت اور رعایا بھی کہتے رہے ہیں ،آج کل انھیں پبلک اورپیار سے ووٹ یا نوٹ بھی کہا جاتا ہے اورپیار اگر جذبے سے بڑھ جائے تو ’’اسٹوپڈ‘‘ بھی کہے جاتے ہیں یعنی
پیار جب حد سے بڑھا سارے تکلف مٹ گئے
آپ سے تم، تم سے تو ، پھرتو کا عنواں ہوگئے
ہم اس ملٹی پرپز ،کثیرالامراض ،کثیر الاغراض اورکثیر التعداد علاج یعنی عوام کالانعام کے بارے میں کیا بتائیں، اس کے اندر اتنے گن ، اتنی صفات اوراتنی خوبیاں ہیں کہ
دامان نگہ تنگ وگل حسن تو بیسار
آج تک دنیا میں ایسا کوئی مرض پیدا نہیں ہوا نہ پیدا کیا جا سکا ہے، نہ ایجاد کیا جا سکا ہے جس نے اس ’’علاج‘‘ کا بال بھی بیکا کیا ہو ،خود ہمارے ملک میں ایسے کتنے ’’امراض‘‘ ہیں لیکن اسے کچھ بھی نہیں ہوا ہے۔ پرانے زمانے میں اسے شاہ شہنشاہ ، شہزادے شہزادیاں، راجا،رانیاں، ملکائیں ،وزیر ،سپہ سالار ،قاضی کوتوال جیسے امراض بہت بڑی تعداد اورنہایت تسلسل کے ساتھ بلکہ وبائی صورت میں لاحق ہوتے رہے یاکیے جاتے رہے جن کے سائیڈ ایفیکٹ بھی مندروں، پجاریوں اوردیوتاؤں کی صورت میں ہوا کرتے تھے لیکن وہ مرگئے اوریہ ابھی زندہ ہیں اورشرمندہ بھی نہیں ،آج کل نام اوراصطلاحات کچھ بدل گئے ،زبانیں اورالفاظ بھی اورہوگئے ہیں لیکن’’کام‘‘ وہی ہے بلکہ آج کل تو ’’امراض‘‘ کے کارخانے اورفیکٹریاں تک قائم ہوچکی ہیں جنھیں جدید مروجہ زبان میں پارٹیاں ، حکومتیں ، وزارتیں محکمے ادارے کہا جاتا ہے جو دھڑا دھڑا نئی نئی پراڈکٹس لانچ کررہی ہیں ، صدور ،وزراء خواتین اول مرد اول مشیر معاون اورجمہوری شہنشاہ بلکہ ڈکٹیٹر بھی منتخب نمائندے کمیٹیاں بورڈز ٹریبونل وغیرہ ۔
امراض کا ایک اورشعبہ بھی ہے لیکن ان کا نام نہیں لے سکتے کہ نہ تو ابھی ہمارا سر اپنے کاندھوں پر بھاری ہوا ہے نہ ہماری گردن اورگلے میں مرغا مرغی کے بال اگے ہیں اورنہ ابھی شہادت کے مرتبے پرفائز ہونے کاارادہ ہے ،اس لیے معذرت ۔۔نام نہ لینا زندہ باد۔۔اور۔۔ بے نام لیے تیرا ہم تجھ کو پکارآئے ۔
ہمیں یہ تجسس تھا کہ آخر اس العلاج یعنی عوام کالانعام میں ایسی کیا ’’مرض کھینچ‘‘کشش ہے کہ دنیا بھر کے امراض اس کی طرف کھچ کھچ کر آتے ہیں
یہ کیا کشش ہے سمندر کی سبز آنکھوں میں
کہ ہر ’’چشمہ ‘‘ اسی کی طرف روانہ ہے
پھر ہمیں اس میں نیلوفر کی سی خوبیاں اورنشانیاں نظر آگئیں ۔نیلوفر جسے اہل ہند ’’کنول‘‘ کہتے ہیں،بڑا ہی کثیر الفوائد بوٹا ہے ۔ سب سے پہلے خوبی تو اس کی یہ ہے کہ کیچڑ میں اگتا ہے نہ کھاد مانگتا ہے، نہ گوڈی نہ نلائی نہ کچھ اور۔ کیچڑ اور پانی پر گزارہ کرتا ہے اوراس کی جڑیں پکائی جاتی ہیں اورایک مہنگی اورمقبول سبزی ہے ، اس کے پتے مختلف چیزیں باندھنے کے کام آتے ہیں ، پلاسٹک کے زمانے سے پہلے دکانداروں ، ریڑھی بانوں اورچھابڑی فروشوں کا واحد ذریعہ دکانداری نیلوفر کے پتے ہوتے تھے جو کپڑے اورکاغذ سے بھی سخت ہوتے تھے بلکہ پڑوسی ملک میں تو اس سے ڈسپوز ایبل پلیٹ بھی بنائے جاتے تھے۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل