Friday, May 08, 2026
 

بندرگاہ کے ساکت پانیوں میں ڈوبتی ہوئی برآمدات کی پکار

 



اعداد و شمار کے دفتر سے نکلنے والی گرد نے فضا کو بوجھل کر دیا ہے۔ یہ وہ بوجھ نہیں جوکہ بارش سے قبل بادلوں کا ہوتا ہے بلکہ تجارتی خسارے کا بوجھ ہے جو ایک خاموش مسافر کی طرح نصف صدی سے پاکستان کی معیشت و صنعت کی گلیوں میں ڈیرے ڈالے ہوئے ہے۔ ہم نے آئی ایم ایف کے مشوروں اور شرائط پر عمل کرکے اور اس کی طرف سے فراہم کردہ قرض کا جام پی کر ایسی معاشی بدحالی کا شکار ہوئے کہ کردار وہی المیہ وہی بس وقت بدل جاتا ہے اور اسے میں معاشی موت کا نوحہ نہ کہیں تو اور کیا کہیں، جہاں اکثر برآمدات میں کمی درآمدات میں بے تحاشا اضافہ اور نتیجے میں تجارتی خسارے میں ہوش ربا اضافہ، بس تاریخیں بدل دی جاتی ہیں۔ لیجیے تجارت خارجہ سے متعلق پی بی ایس کی فراہم کردہ تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق مالی سال کے پہلے 10 ماہ کی داستان کسی المیے سے کم نہیں۔ جولائی سے اپریل 2026 تک تجارت خارجہ ایسی بھول بھلیوں میں بھٹکتی رہی جہاں سے ہم ہر بار نکلنے کا عزم کرتے کرتے کئی دہائیاں گزر گئیں اور اس مرتبہ پھر ہم وہیں آ کھڑے ہوئے ہیں۔ اعداد و شمار کے مطابق 10 ماہ کا تجارتی خسارہ 31.98 ارب ڈالر تک جا پہنچا جب کہ گزشتہ سال اسی عرصے میں تجارتی خسارہ 26.59 ارب ڈالر تھا۔ اس لیے محض 20.28 فی صد اضافہ سمجھ کر پہلے کی طرح پی گئے۔ وجہ کچھ یوں بنی کہ برآمدات کا حجم گزشتہ مالی سال کے 10 ماہ کے 26.89 ارب ڈالر کے مقابلے میں محض 25.21 ارب ڈالر پر آ کر ٹک گیا جوکہ 6.25 فی صد کمی کو ظاہر کرتا ہے۔  پھر کچھ ایسا بھی ہوا کہ ماہ اپریل 2026 صرف ملک بھر میں گرمی کی لہر ہی نہیں لے کر آیا بلکہ درآمدات کی گرمی بھی ایسی ظاہر ہوئی جس نے در و دیوار ہلا کر رکھ دیے یعنی 28.41 فی صد اضافہ۔ تصور کریں ایک طرف برآمدات کے پاؤں میں بیڑیاں ہیں اور دوسری طرف درآمدات کا جن بوتل سے باہر کس نے نکالا۔ دراصل آئی ایم ایف کے ساتھ حالیہ مذاکرات کے نتیجے میں درآمدی ایل سیز پر عائد پابندیوں میں نرمی کی گئی جس سے ماہ اپریل میں درآمدات میں اضافہ ہوا۔ اس طرح مارچ 2026 کی درآمدات 5.10 ارب ڈالر کے مقابلے میں اپریل 2026 میں درآمدات کا حجم 6.55 ارب ڈالر کے باعث اپریل میں 28.41 فی صد کا اضافہ نوٹ کیا گیا۔  معاشی ماہرین کی رپورٹیں خبردار کرتی ہیں کہ اگر یہ اضافہ اسی رفتار سے جاری رہا اور برآمدات میں جیساکہ اپریل میں محض 2.35 ارب ڈالر رہی ہیں اسی طرح خاطر خواہ اضافہ نہ ہوا تو تجارتی خسارہ مالی سال کے اختتام تک زرمبادلہ کے ذخائر پر شدید دباؤ ڈال سکتا ہے۔ میرا خیال ہے کہ حکومت اس بات کو بھی سنجیدگی سے لے کہ کس طرح سے پاکستانی دبئی سے ڈی پورٹ ہو رہے ہیں۔ وزیر اعظم پاکستان ابوظہبی کے ساتھ اپنے خصوصی تعلقات کو کام میں لاتے ہوئے دبئی سے پاکستانیوں کو متحدہ عرب امارات کی دیگر ریاستوں میں کھپت کے لیے لائحہ عمل بنانے کے لیے اقدام اٹھانے کی ضرورت ہے، کیونکہ اس مرتبہ ترسیلات زر کی بے ساکھی کمزور پڑنے والی ہے، لہٰذا حکام اس بات کا حل ڈھونڈیں کہ کس طرح سے ترسیلات زر میں مزید اضافے کو ممکن بنایا جاسکتا ہے۔  صرف ماہ اپریل میں 4.07 ارب ڈالر کا تجارتی خسارہ ہوا جو کہ 46 ماہ کی بلند ترین سطح ہے جس کے کارن 28.41 فی صد کا ماہانہ درآمدات کا اضافہ انتہائی قابل تشویش ہے۔ یہ اعداد و شمار محض بیرونی تجارت کی کہانی نہیں بلکہ ہماری پیداواری صلاحیتوں کا زوال ہے۔ ہماری صنعتوں کے پہیوں میں لگی وہ زنگ آلود مٹی ہے جو ہمیں آگے بڑھنے سے روک رہی ہے۔ اس مرتبہ کہا جا رہا ہے کہ پٹرول کی قیمتوں کو بڑھنے سے نہ روکا جائے، سبسڈی نہ دی جائے، بجلی گیس کے نرخوں میں اضافے کو برقرار رکھا جائے، رہی بات پانی کی تو وہ واٹر ٹینکرز والے قیمت اتنی زیادہ بڑھا رہے ہیں کہ صنعتکاروں اور عوام دونوں کے ہوش اڑتے چلے جا رہے ہیں۔  اگر ہم نے اپنی درآمدات کی فہرست سے غیر ضروری اشیا ، اشیائے تعیشات و دیگر کو نہ روکا اور برآمدات میں اضافے کو جنون میں نہ بدلا ، دبئی کے ملازمین کا بیرون پاکستان بھی بندوبست نہیں کیا تو ترسیلات زر میں زبردست کمی اور بندرگاہ کے ساکت پانیوں میں ڈوبتی ہوئی برآمدات کی پکار کی طرف نہ لپکے تو ایک بار پھر تجارتی خسارے کا اضافہ، ڈالر کو اونچی اڑان پر مجبور کر دے گا۔ آج بھی کراچی کی بندرگاہ پر کھڑے خالی جہاز برآمدات کے منتظر ہیں کہ اپنے جہازوں کو بھر کر اپنی منزل کی جانب روانہ ہوں، لیکن بندرگاہ پر تو ایسے جہاز لدے پھندے چلے آ رہے ہیں جو طرح طرح کے ضروری غیر ضروری سامان سے بھرے ہوئے ہیں اور برآمدات کے منتظر جہاز ایک کونے میں چپکے کھڑے اپنی باری کا انتظار کر رہے ہیں اور برآمدات کی راہ دیکھ رہے ہیں۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل