Saturday, May 09, 2026
 

برطانیہ میں بلدیاتی الیکشن کے حیران کن نتائج؛ حکمراں جماعت کے خواب چکنا چُور ہوگئے

 



برطانیہ میں ہونے والے حالیہ بلدیاتی اور علاقائی انتخابات میں حکمران جماعت لیبر پارٹی کو بڑے سیاسی دھچکے کا سامنا کرنا پڑا ہے جبکہ قوم پرست جماعتوں اور دائیں بازو کی جماعت ریفارم یوکے نے نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق کورائی ڈن کونسل نے اپنے انتخابی نتائج کا اعلان کردیا تاہم یہاں بھی کوئی جماعت اکثریتی تعداد یعنی 36 نشستیں حاصل نہیں کرسکی۔ اس کونسل کی 70 میں سے 64 نشستوں کے نتائج میں لیبر پارٹی نے 27 نشستیں حاصل کرکے سب سے آگے ہے تاہم اسے اپنی 4 یقینی نشستوں پر شکست ہوئی ہے۔ اپوزیشن جماعت کنزرویٹو پارٹی بھی اس کونسل میں 25 نشتوں پر فاتح رہی البتہ اسے بھی گزشتہ الیکشن کے مقابلے میں 5 نشستوں میں خسارہ برداشت کرنا پڑا۔ اس کونسل میں گرین پارٹی نے نمایاں کامیابی حاصل کرتے ہوئے 6 اضافی نشستوں کے ساتھ 8 حلقوں میں کامیابی کے جھنڈے گاڑے جبکہ لبرل ڈیموکریٹس اور ریفارم یوکے نے دو دو نشستیں حاصل کیں۔ اس کے علاوہ انگلینڈ کی 134 کونسلوں کے نتائج سامنے آچکے ہیں جبکہ مزید دو کونسلوں لیوشام کونسل اور ٹاور ہیملیٹس کے نتائج آج شام تک متوقع ہیں۔ انگلینڈ میں سب سے بڑا سیاسی جھٹکا حکمراں جماعت لیبر پارٹی کو لگا جہاں ریفارم یوکے نے متعدد علاقوں میں غیرمتوقع کامیابیاں حاصل کرکے روایتی سیاسی جماعتوں کے لیے خطرے کی گھنٹی بجادی۔ دارالحکومت لندن میں بھی لیبر پارٹی کو شدید نقصان اٹھانا پڑا جہاں پارٹی کئی برس بعد لیمبتھ کونسل کا کنٹرول کھو بیٹھی، جبکہ گرین پارٹی نے نمایاں پیش رفت کرتے ہوئے شہری حلقوں میں اپنی حمایت بڑھالی۔ غیرمتوقع انتخابی نتائج کے بعد وزیراعظم کیئر اسٹارمر نے پارٹی کے اندر اپنی گرفت مضبوط کرنے کے لیے سابق برطانوی وزیر اعظم گارڈن براؤن اور سینئر لیبر رہنما ہریئٹ ہرمان کو مشیر مقرر کردیا۔ یہی صورتحال گزشتہ انتخابات میں بھی تھی جب نہ لیبر پارٹی اور نہ ہی کنزرویٹو واضح اکثریت حاصل کرپائی تھی۔ البتہ حکمراں جماعت کو ان انتخابات میں خلاف توقع نہایت کم سیٹیں ملی ہیں۔ جس پر وزیر اعظم کیئر اسٹارمر نے اعتراف کیا کہ لیبر حکومت نے اقتدار کے ابتدائی دو برسوں میں غیر ضروری غلطیاں کیں اور عوام کو مستقبل کے حوالے سے مطلوبہ امید فراہم نہیں کرسکی۔ بی بی سی کو دیے گئے انٹرویو میں وزیراعظم کیئر اسٹارمر نے کہا کہ حکومت بعض معاملات میں عوامی توقعات پوری کرنے میں ناکام رہی۔ جس سے ووٹرز میں مایوسی بڑھی۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ لیبر پارٹی اب اپنی پالیسیوں اور حکومتی انداز کا ازسرنو جائزہ لے گی تاکہ عوام کا اعتماد بحال کیا جاسکے۔  

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل