Loading
اگر دیکھا جائے تو بظاہر یہ ایک سادہ سا سوال ہے۔ سوالات اور تحقیقات کی دنیا کے لوگ جانتے ہیں کہ سوالات دو اقسام کے ہوتے ہیں۔ کھلے سوالات اور بند سوالات۔ کھلے سوالات آپ کو کھل کر اپنا نقطہ نظر پیش کرنے کا موقع دیتے ہیں اور بند سوالات کا جواب ہاں یا نہیں کی صورت میں ہوتا ہے۔
اس لحاظ سے کیا پاکستان کو ٹھیک کیا جاسکتا ہے؟ یہ ایک بند سوال ہے لیکن اس کا کھلا جواب دینے سے جواب دینے والے کے اپنے بند ہونے واضح اور روشن امکانات ہیں۔ اس لیے اس سوال کا جواب بلاواسطہ دینے کے بجائے بالواسطہ دینے کی سعی کریں گے۔ زیادہ کوشش تو یہی ہوگی کہ قاری خود اپنا جواب اور نتیجہ قائم کرے۔
کسی بھی چیز، فرد، یا ملک کو ٹھیک کرنے کےلیے ضروری ہے کہ پہلے اس کی خرابی کا اعتراف کیا جائے۔ اس لحاظ سے جب ہم سرکاری اور عوامی آراء کا جائزہ لیتے ہیں تو اس میں تضاد ہے۔ اس میں سب سے دلچسپ بات یہ ہے کہ جب کوئی عوام سے نکل خواص میں شامل ہوتا ہے تو یکایک اس کی رائے بدل جاتی ہے۔ کل تک جو اس کو مسائل کے انبار نظر آرہے ہوتے ہیں اب وہاں دودھ اور شہد کی نہریں بہنے لگتی ہیں اور وہ دودھ اور شہد کو بوتلوں میں ڈال ڈال کر اس کی خرید و فروخت کا کام شروع کر دیتا ہے۔
ہمارے یہاں نہروں کی صفائی کو جو حال یے تو اس وجہ سے قاضی القضاہ بھی اس کو شہد نہ ہوتے ہوئے بھی شہد ماننے پر مجبور ہوتا ہے، کیونکہ لیبارٹری کی رپورٹ یہی بتا رہی ہوتی ہے۔ ہمارے یہاں ہر قسم کی لیبارٹری موجود ہے کہ جس میں انواع و اقسام کی طبی اور غیر طبی رپورٹس تیار کی جاسکتی ہے اور تیار کی جاتی ہیں۔ خاص کرکے طبی سرٹیفکیٹ بنانے میں تو ہمارا کوئی ثانی نہیں ہے۔ اب آپ ہی بتائیں کہ جب تک یہ ثابت نہیں ہوتا کہ پاکستان کو ٹھیک ہونے کی ضرورت ہے کوئی اس کو ٹھیک کرنا بھلا کیسے شروع کر سکتا ہے؟
لوگ سمجھتے ہیں کہ شیخ چلی ماضی کا کوئی کردار ہے جو خیالی پلاؤ پکاتا تھا۔ ہم نے تو اب خیالی ادارے، خیالی سڑکیں، خیالی منصوبے اور پتہ نہیں کیا کیا خیالی بنالیا ہے۔ سڑکوں پر چاہے کنکریٹ ہوں یا نہ ہوں، ان منصوبوں کےلیے وسائل اور فنڈز کنکریٹ کی مضبوطی سے وصول کرنے کا انتہائی موثر نظام ہے، چاہے ایک دفعہ فنڈز وصول ہونے کے بعد پورا منصوبہ ریت کی دیوار کی طرح کیوں نہ بیٹھ جائے۔ اس کا بیٹھنا بھی اشد ضروری ہوتا ہے تاکہ اگلے سال یہ کاروائی دوبارہ دہرائی جاسکے۔
ہمارے ٹھیک ہونے کے جنون کا اس سے بڑا کیا ثبوت ہوگا کہ ہم ہر سال سڑکیں بناتے ہیں اور اگلے بجٹ میں دوبارہ ان ہی سڑکوں کی تعمیر اور مرمت کے لیے فنڈ مختص کرتے ہیں اور یہ کام بلا کسی تعطل کے دہائیوں سے جاری ہیں۔ ایسی مثال آپ کو پوری دنیا میں کہیں اور نہیں ملے گی۔
جن لوگوں نے خود یا ان کے والدین نے سرکار میں خدمات سرانجام دی ہوں تو کراچی ان کےلیے پیرس اور پاکستان فرانس بن جاتا ہے کہ جہاں کا منرل واٹر بہت مشہور ہے اور کراچی تو اپنے پانی کےلیے ویسے بھی بہت مشہور ہے۔ کراچی کا پانی نلوں میں نہیں آتا کیونکہ نلوں میں آنے سے پانی کی اپنی کوئی وقعت نہیں رہتی، اسی لیے پانی جب بھی آتا ہے بہت بڑی قیمت لے کر ٹینکر میں آتا ہے تاکہ لوگ پانی کی اہمیت، افادیت اور قیمت سمجھیں اور یاد رکھیں لیکن اگلی دفعہ اس قیمت پر بھی ٹینکر نہیں ملتا اور پانی مزید قیمتی ہوجاتا ہے۔
ہماری طرح ایک بادشاہ کو بھی اپنا ملک سدھارنے کا بہت شوق تھا۔ اس نے ایک بہت بڑا حوض بنوایا اور حکم دیا کہ تمام شہری آج رات اس میں ایک لوٹا دودھ ڈالیں اور صبح جب پورا حوض دودھ سے بھرا ہوگا تو بادشاہ دودھ کو ٹیٹرا پیک میں بیچ کر ملک کو سدھارنے کا عمل شروع کرے گا۔ اب جہاں لوٹا ہو وہاں کام کیسے ٹھیک ہوسکتا ہے۔ اسی لیے عوام نے ایک ایک لوٹا پانی حوض میں ڈالا اور صبح تک پورا حوض پانی سے بھر گیا۔ اب بادشاہ پانی بیچ بیچ کر اپنا گزارا کررہا ہے۔
مجھے امید ہے کہ یہ کہانی پڑھ کر آپ کو بھی جواب پتہ چل گیا ہوگا کہ پاکستان کو ٹھیک کیا جاسکتا ہے یا نہیں۔ اگر پتا چل گیا ہے اور اگر آپ اپنی اور اپنے اپنوں کی بہتری چاہتے ہیں تو جواب کو میری طرح اپنی حد تک ہی رکھیے گا ورنہ کچھ اور ٹھیک ہو نہ ہو، آپ ضرور ٹھیک ہوجائیں گے، یعنی آپ کا سافٹ ویئر اپڈیٹ ہوجائے گا اور اگر ایک دفعہ سافٹ ویئر اپڈیٹ ہوجائے تو بندے کو صحرا بھی نخلستان نظر آتا ہے۔
نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔
اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 800 سے 1,200 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ blog@express.com.pk پر ای میل کردیجیے۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل