Loading
واشنگٹن: امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان ابھی حتمی معاہدہ نہیں ہوا، تاہم دونوں ممالک ایک ممکنہ معاہدے کے بہت قریب پہنچ چکے ہیں۔
صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے جے ڈی وینس نے کہا کہ ایران امریکا کے ساتھ معاہدہ کرنا چاہتا ہے اور جنگ بندی میں توسیع کے حوالے سے دونوں ممالک کے درمیان ہونے والی بات چیت میں نمایاں پیش رفت ہوئی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ ابھی چند اہم نکات پر مذاکرات جاری ہیں اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ فی الحال مجوزہ معاہدے کی منظوری دینے کیلئے تیار نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ مزید پیش رفت کے بعد ہی صدر ٹرمپ معاہدے کی توثیق کی پوزیشن میں ہوں گے۔
امریکی نائب صدر کے مطابق امریکا اس پوزیشن میں ہے کہ ایران کے جوہری پروگرام کو مزید پیچھے دھکیل سکے، تاہم اس مقصد کیلئے تفصیلی مذاکرات اور واضح شرائط ضروری ہیں۔
جے ڈی وینس نے یہ بھی کہا کہ اس وقت یہ کہنا مشکل ہے کہ صدر ٹرمپ ایران کے ساتھ مجوزہ مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) پر کب دستخط کریں گے۔
اس سے قبل امریکی نیوز ویب سائٹ ایگزیوس نے دعویٰ کیا تھا کہ امریکی اور ایرانی مذاکرات کار جنگ بندی میں توسیع اور ایران کے جوہری پروگرام پر مذاکرات شروع کرنے کیلئے 60 روزہ مفاہمتی یادداشت پر متفق ہوچکے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق اس مفاہمتی یادداشت پر دستخط جنگ شروع ہونے کے بعد سب سے بڑی سفارتی پیشرفت تصور کیے جا رہے ہیں، تاہم ایران کے جوہری پروگرام، پابندیوں اور علاقائی سکیورٹی معاملات پر حتمی معاہدے کیلئے مزید سخت مذاکرات درکار ہوں گے۔
ایگزیوس نے ذرائع کے حوالے سے یہ بھی بتایا تھا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ابھی تک اس معاہدے کی باضابطہ منظوری نہیں دی۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل