Sunday, May 10, 2026
 

مذاکرات ہتھیار ڈالنے کے مترادف نہیں، ایرانی صدر کا دوٹوک اعلان

 



ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے واضح کیا ہے کہ مذاکرات کا مطلب ہرگز ہتھیار ڈالنا نہیں بلکہ ایران اپنے قومی مفادات اور عوام کے حقوق کے تحفظ کے لیے مضبوط مؤقف کے ساتھ بات چیت جاری رکھے گا۔ ایرانی صدر نے یہ بیان جنگ کے باعث ہونے والے نقصانات کی بحالی سے متعلق ایک اجلاس کے دوران دیا۔ انہوں نے کہا کہ ایران کا بنیادی مقصد ایرانی عوام کے حقوق کا حصول اور قومی مفادات کا طاقت اور وقار کے ساتھ دفاع کرنا ہے۔ صدر پزشکیان کا کہنا تھا کہ ایران ہمیشہ اپنے اصولی مؤقف پر قائم رہے گا اور کسی بھی مذاکراتی عمل میں قومی خودمختاری اور عوامی حقوق کو مقدم رکھا جائے گا۔ ان کے مطابق موجودہ صورتحال میں مذاکرات کو کمزوری یا پسپائی کے طور پر نہیں دیکھا جانا چاہیے۔ انہوں نے جنگ کے بعد بحالی کے عمل پر بھی زور دیتے ہوئے کہا کہ حکومت متاثرہ علاقوں کی تعمیر نو اور عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے تمام وسائل بروئے کار لا رہی ہے۔ ایرانی صدر کا یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب ایران اور امریکا کے درمیان ممکنہ جنگ بندی معاہدے اور وسیع مذاکرات سے متعلق عالمی سطح پر قیاس آرائیاں جاری ہیں۔ تہران مسلسل اس بات پر زور دے رہا ہے کہ کسی بھی معاہدے میں ایرانی مفادات، پابندیوں کے خاتمے اور علاقائی استحکام کو یقینی بنایا جانا ضروری ہے۔ سیاسی مبصرین کے مطابق صدر پزشکیان کا بیان داخلی سطح پر عوامی اعتماد برقرار رکھنے اور عالمی برادری کو ایران کا واضح پیغام دینے کی کوشش سمجھا جا رہا ہے۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل