Tuesday, May 12, 2026
 

1927-29 کی عالمی کساد بازاری کے بحران میں ہٹلر جرمنی میں برسراقتدار آگیا

 



قسط نمبر15  پہلی جنگ عظیم نو آبادیا تی نظام کے نقطِ عروج پر رونما ہو ئی اور پوری دنیا کے کروڑوں انسانوں کو سائنس و ٹیکنالوجی ابتدائی ترقی کی بنیاد پر نگل گئی۔ اس جنگ نے آتش و بارود سے صدیوں پرانے تاریخی شہروں کو کھنڈر میں تبدیل کر دیا۔ پہلی عالمی جنگ دنیا کی تین بڑی سلطنتوں کے خاتمے کا سبب بنی۔ اس جنگ سے ایک سال پہلے روس میں اشتراکی انقلاب نے جنم لیا۔ جنگ نے بر طانیہ اعظمیٰ کے مسائل کو دیوقامت کردیا۔ جنگِ عظیم اوّل نے امریکہ کو مزید ترقی یافتہ ،امیر ، جدید اور طاقتور بنا دیا۔ اسی جنگ کے زمانے میں ہندوستان میں بر طانوی نو آبادیا تی نظام کو ابتدائی طور پر عدم تشدد اور شائستگی کے ساتھ چیلنج کر نے کا سلسہ شروع ہوا۔ امریکہ جمہوریت ،آزاد مارکیٹ اور اظہار کی آزادی کے تسلسل سے بہتے دریا کی مانند شفافیت پید ا کر تا رہا ہے اس دوران امریکی معاشرے اور اس کے سرکاری نیم سرکاری اور آزادادارے غلطیاں اور اصلاحات کے نشیب و فراز سے گذرتے رہے۔ آزاد معیشت اور مارکیٹ ، جمہوریت اور فکر و اظہار کی آزادی میں تواز ان اور استحکام ہی امریکہ کی اصل قوت رہی۔ اس عمل کو ایک بار پھر1927 ء سے دنیا میں سر اٹھانے والی عالمی کساد بازاری یعنی Global Great Depression نے چیلنج کیا۔ امریکہ میں1929 ء میں اسٹاک مارکیٹ کریشن کر نا اس سے بھی بڑا چیلنج تھا۔ امریکہ میں اسٹاک مارکیٹ کے کریشن کر جانے سے عوامی اعتماد کو شدید نقصان پہنچا، سر مایہ کاری رک گئی، بینکوں کے دیواالیہ ہونے کا ایک نہ رکنے والا سلسلہ شروع ہوا، اس کی وجوہا ت یہ تھیں کہ 1920 ء کی دہائی میں سٹہ بازوں نے اسٹاک ایکسچینج میں مصنوعی طور پر حصص کی قیمتوں میں اتنا نفع بڑھا دیا کہ لوگوں نے ادھار لے لے کر حصص خریدے جس سے ایک معاشی بلبلہ بنا اور پھٹ گیا۔ بنکوں کے پاس ڈیپازٹ انشورنس نہیں تھی اب لوگوں نے خوفزدہ ہو کر اپنی رقوم بینکوں سے نکلو انی شروع کیں۔ امریکہ کے ایک تہا ئی بینک دیوالیہ ہو گئے اس موقع پر موثر مانیٹری پالیسی نہیں تھی ، فیڈرل ریزرو بروقت کاروائی کرنے میں ناکام رہا جس کی وجہ سے 1929 ء سے1933 ء کے درمیان رقوم کی گردش میں 31 فیصد کمی واقع ہو ئی۔ اس کے عالمی اثرات نمودار ہو ئے ،،گولڈ اسٹنڈرڈ ،، کی وجہ سے اس معاشی مالیاتی بحران نے پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ اس اسٹاک مارکیٹ کریش اور عظیم عالمی کساد بازاری نے دنیا میں بد ترین معاشی مندی کو جنم دیا، پوری دنیا میں بے روزگاری اور معاشی بدحالی پانچ چھ سال یعنی دوسری جنگ عظیم تک جاری رہی۔ پہلی عالمی جنگ کے بعد شکست خوردہ جرمنی سے ذلت آمیز معاہدے وارسائی پر دستخط کروائے گئے تھے ، جس نے جرمن قوم پرستی کے جذبے کو اجاگر کیا اور رد عمل میں نازی پارٹی اورایڈولف ہٹلر سامنے آئے۔ 1933 ء میں ایڈو لف ہٹلر جرمنی کے چانسلر بن گئے خود کو ’’فیورر‘‘ کہلوا کر آمریت قائم کی۔ جرمن قوم کو سپر ریس ،، اعلیٰ ترین نسل اور قوم قرار دکر اپنی توسیع پسند پالیسیوں کے تحت منصوبہ بندی شروع کی۔ یہی دور عالمی کساد بازاری Global Great Depression کا تھا جس کو امریکہ بر طانیہ اور دوسرے ملک کنٹرول کر نے کی کوشش کررہے تھے۔ ہٹلر نے جرمن نیشنلزم بلکہ فاشزم کی بنیاد پر آمرانہ طرز سے کساد بازاری پر کنٹرول حاصل کیا ، سابق سوویت یونین میں اسٹالن نے کیمونسٹ سسٹم کی سخت پالیسی سے کساد بازری پر قابو پایا۔ امریکہ کے صدر فرینکلن دی روز ویلٹ نے آزاد معیشت اور مارکیٹ کے وجود کو برقرار رکھا ۔کساد بازری اور مارکیٹ کریش کو ’’ New Deal ‘‘ کے عنوان سے کی جانے والی اصلاحات سے 1933 ء میں کنٹرول کر نا شروع کیا۔ اُنہوں نے اس مالیاتی اقتصادی بحران کا مقابلہ کر نے کے لیے قوم سے خطاب کیا۔ اُنہوں نے اپنی تقریر میںجو خاص جملے کہے وہ آج بھی امریکی عوام کے لیے اہمیت کے حامل ہیں اُنہوں نے کہا’’ The only thing we have to fear is fear itself ‘‘ یعنی ہمیں جس واحد چیز سے ڈرنے کی ضرورت ہے ، وہ خود خوف ہے۔ اُنہوں نے اصلاحات پیش کیں جن کے تین بنیادی نکات تھے۔ نمبر1 Relief ۔ بے روز گاروں اور غریبوں کو فوری طور پر روزگار اور مالی امداد فراہم کرنا۔ نمبر2 ۔ ریکوری Recovery ۔ معیشت کو دوبارہ پٹری پر لانے کے لیے زراعت وصنعت کی مدد۔ نمبر3 اصلاحات Reforms ۔ مالیاتی نظام میں ایسی اصلاحات اور تبدیلیاںکر ناکہ دور بارہ اور مستقبل میں کبھی ایسا مالیاتی بحران پیدا نہ ہو سکے۔ جہاں کساد بازاری کو سوویت یونین اور جرمنی نے آمرانہ قوت سے کنٹرول کیا وہیں ا مریکہ میںاس عالمی کساد بازاری کو آزاد معیشت آزاد مارکیٹ کے تسلسل کے ساتھ قابو کیا گیا۔ یہاں سی بسکٹ نامی گھوڑے اور 1930 ء کی دہائی کی عالمی کساد بازاری Great Depression کے دوران اس سی بسکٹ نامی گھوڑے نے ذرائع ابلاغ پر اپنی کار کردگی سے لاکھوں کروڑوں امریکیوں کو حوصلہ اور امید دلائی گھوڑ دوڑ میں عالمی سطح پر حصہ لینے والے اعلیٰ نسل کے گھوڑوں کا شجرہ نسب دیکھا جا تا ہے ، اس Seabiscut سی بسکٹ نامی گھوڑے کے باپ کا نام Hard Tack ہارڈ ٹیک تھا یعنی بحری جہازکے ملاحوں کا ایک سخت بسکٹ تھا اس گھوڑے نے کامیابی کے جھنڈے گاڑے اس کے بیٹے کا نام سی بسکٹ رکھا گیا ، جیسے ہی یہ گھوڑا ریس کے لیے ریس کو رس میں آیا شائقین نے اس کے باپ کی اعلیٰ کار کردگی کی وجہ سے اس پر بھاری رقوم کی شرطیں لگائیں۔ سی بسکٹ نے سب کو مایوس کیا اور متواتراٹھارہ ریسیں ہار گیا، یہاں تک کہ اس کو ریس سے باہر کر دیا گیا۔ سی بسکٹ نامی اس گھوڑے کو ایک نامور سائیس ( گھوڑے کی تربیت کر نے والا) نے لے لیا ، سائیس نے گھوڑے پر محنت کی اور پھر اس گھوڑے نے اپنے باپ Hard Tack سے بھی زیادہ کامیابیاں حاصل کیں۔ امریکہ کے ماہرین معاشیات نے Seabiscut سی بسکٹ کی اصطلاح کو اپنایا اور کامیابی سے عالمی کساد بازار ی کو شکست دی۔ اس گھوڑے پرمشہور کتاب ،،Seabiscut; An American Leagend لکھی گئی۔ 2003 ء میں سپر ہٹ ہالی وود فلم Seabiscut بھی بنائی گئی جو لوگ آج کی جدید معاشیات اقتصادیات اور عالمی مالیاتی اداروں اِن کی پالیسیوں پر نظر رکھتے ہیں وہ اچھی طرح جانتے ہیں کہ آج کی دنیا میں معاشیات اقتصادیات کی کتنی اہمیت ہے۔ 1933 ء کے مقابلے میں آج گلو بل اکانومی عالمی معاشیات و اقتصادیات کمپوٹرئراڈ بھی ہے اور آرٹفیشل انٹیلی جینس سے ہم آہنگ بھی ہو چکی ہے۔ آج پھر امریکہ کو اس اعتبار سے عالمی چیلنجوںکا سامنا ہے ، یہاں اسی لیے1927-29 ء میں امریکہ میں اسٹاک کے کریش ہو نے اور شدید کساد بازری کے مسائل سے نبر د آزما ہونے کی تعریف کی گئی ہے ، یہ اُس وقت کے امریکہ کا بہت بڑا کارنامہ تھا۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل