Loading
کراچی میں سڑکوں کا انفراسٹرکچر تاریخ کی بدترین صورتحال سے دوچار ہے جبکہ مرکزی سڑکوں کے ساتھ اندرونی گلیوں کا تو تصور ہی ختم ہوگیا۔
تفصیلات کے مطابق ایک دور میں بہترین انفراسٹرکچر کے طور پر جانے والے شہر کراچی کی صورت حال اب بدترین ہوگئی ہے اور شہری روزانہ اذیت سے دوچار ہورہے ہیں۔
شہر کی ٹوٹی پھوٹی سڑکیں جگہ جگہ گڑھے پڑے ہوئے ہیں جس کی وجہ سے روانہ شہریوں کو اذیت صورتحال سے دوچار ہونا پڑتا ہے جبکہ اندرونی گلیوں کا تصور ختم ہوگیا۔
دوسری جانب رہی سہی کسر بغیر کسی حکمت عملی کے ایس ایس جی سی نے پورے شہر کی مرکزی سڑکوں کے ساتھ ساتھ اندرونی گلیوں کھود کر پوری کردی ہے۔
ایس ایس جی سی سے ترقیاتی کام کی وجہ سے نئی بنے والی سڑکیں بھی محفوظ نہ رہ سکیں جبکہ کراچی میں اداروں کیے درمیان رابطوں کا فقدان واضع طور پر نطر آرہا ہے اور جب جس کا من کیا وہ سڑک کھود دی گئی۔
شہر میں شہریوں کی آمد وروفت روازنہ کی بنیاد پر اذیت کا سبب بن رہی ہے، شہری ذہی دباؤ کا شکار ہو گئے ہیں۔
4 کے چورنگی، ناگن چورنگی اور ناگن چورنگی سے بورڈ آفس تک مرکزی سڑکیں ٹوٹ پھوٹ کاشکار ہے جبکہ ان کی سروس روڈ پر تو بڑے بڑے گڑھے پڑے ہو ئے ہیں جہاں شادی ہالز بھی ہیں لیکن سالوں سے ان کا مرمتی کام نہیں کیا گیا۔
نارتھ ناظم آباد، ناظم آباد کی مرکزی سڑکوں کے ساتھ اندرونی گلیاں ٹوٹ پھوٹ کاشکار ہیں اسی طرح لیاقت آباد کی اندرونی گلیاں ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں جبکہ مرکزی سڑکوں پر بھی جگہ جگہ گڑھے پڑے ہوئے ہیں۔
شریف آباد، گلبرک ، حسین آباد، فیڈرل بی ایریا کے تمام ہی بلاکس کی اندرونی گلیاں کھنڈرات کا منظر پیش کر رہی ہیں۔ اسی طرح کورنگی ، لانڈھی ، ملیر، شاہ فیصل کالونی کی اندرورنی گلیوں کا تو نام ونشان ہی ختم ہوگیا ہے۔
گلستان جوہر گلشن اقبال کی اندرونی گلیاں ٹوٹ پھوٹ کاشکار ہیں اسی طرح محممود آباد، منظور کالونی ، اعظم بستی ، اختر کالونی کی گلیوں کی سڑکیں ٹو پھوٹ کاشکار ہیں۔
کورنگی کراسنگ میں اندورنی گلیوں کا تصور ہی ختم ہوگیا ہے جبکہ اولڈ سٹی ایریا کے شوما رکیٹ، لیاری، رنچھولائن کی گلیاں بھی ٹوٹ پھوٹ کاشکار ہیں اور سیوریج کا پانی جگہ جگہ موجود ہے جس کی وجہ سے شہریوں کو آمد ورفت میں شدید مشکلا ت کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔
بلدیہ ٹاون ، اورنگی ، سعید آباد، گڈاپ ، کی حدود میں گلیوں کی سڑکیں تباہ وبرباد ہوچکی ہے، دو سال سے بلدیاتی حکومتیں بھی موجود ہے لیکن سڑکوں کی تعمیر کے حوالے سے کوئی کام نہیں نظر نہیں آرہا ہے۔
اسی طرح مرکزی سڑکوں میں یونی ورسٹی روڈ ساڑھے سال سے شہریوں کے عذاب بنا ہوا ہے جہاں شہریوں کا گزرنا محال ہے جبکہ ایم اے جناح روڈ پر گرین لائن کے ترقیاتی کام کی وجہ سے شہریوں کو گزرنا محال اور اب یہاں کا سفر اذیت ناک ہوگیا ہے۔
مرکزی سڑکوں میں ابوالحسن اصفہانی روڈ کو ایس ایس جی سی نے کھود ڈالا جس کی وجہ سے ٹریفک کی روانی بر طرح متاثر ہے اسی طرح اب راشد مہاس روڈ کو کھودا جا رہا ہے۔
ڈکسو بیکری سے گلشن چورنگی تک سڑک خستہ حال ہے اس کے ساتھ تجاوزات کی بھر مار ہے، اسی طرح مرکزی سڑک نارتھ کراچی باب موڑ سے انڈا موڑ تک کی سڑک ٹوپھوٹ کا شکار ہے اور اُس بڑے بڑے گڑھے پڑے ہوئے ہیں۔
اسی طرح مرکزی سڑک کے عین درمیان جگہ جگہ بڑے گڑھے پڑے ہوئے لیاقت آباد دس نمبر، تین ہٹی، کی حالات بھی انتہائی خستہ ہے۔
کراچی کے دل صدر کی صورتحال بھی تباہ حال ہے۔
شہر میں ایک جانب تو بلدیاتی ادارے ہاتھ پر پاتھ رکھے بیٹھے تو دوسری جانب چند شہر میں جو سڑکیں تعمیر ہوئی ان کو ایس ایس جی سی نے کھود ڈالا جبکہ ایس ایس جی سی نئی لائنوں کے حوالے ے پورا شہر ہی کھود ڈالا ہے۔
گلیوں کے اندر کھدائی کی وجہ سے جو رہی سہی سڑکیں تھی وہ تباہ وبرباد ہوچکی ہے کراچی میں بغیر کسی منصوبہ بندی کے کام کیا جا رہا ہے ایس ایس جی سی نے شہر کی اندرونی اورمرکزی سرکیں کھودی ہے اس کی مد میں اربوں روپے ٹاونز کو دئیے کے ایم سی کو بھی روڈ کٹنگ کی مد بھی بڑی رقم دی لیکن سڑکیں تعمیر نہیں ہوسکی جس کی وجہ ملک کا سب سے بڑ شہر اس وقت کھنڈرات میں تبدیل ہوگیا ہے۔
کراچی کی ایک یوسی ایک ٹاون ایسا نہیں جس کو رول ماڈل کہہ سکے جبکہ شہر کی چند سڑکیں بہتر حالات میں اور حکومتی نمائندے انہی سڑکوں پر دورہ کرتے ہوئے نظر آتے ہیں کراچی میں سڑکوں کی ابتر صورتحال پر شہری روانہ کی بنیاد پر ذہنی کوفت کا شکار ہوتے ہے اور آنے والے دنوں میں بھی یہ صورتحال بہتر ہوتی نظر نہیں آتی ہے۔
شہریوں نے ایکپسریس سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے کراچی میں جو اس وقت صورتحال ہے سڑکوں کی پہلے کبھی نہیں دیکھی چند سالوں میں شہر کا حشر نشر ہوکر رہے گیا ہے جگہ جگہ گڑھے ٹوٹی پھوٹی سڑکیں لگتا ہے ہمارا مقدر بن گئی ہے حکومت کو چائیے کہ فوری طور سڑکوں کی حالت بہتر کرے۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل