Wednesday, May 13, 2026
 

ایک زبردست تصویر

 



ڈونلڈٹرمپ کی بڑی اچھی تصویر آئی ہے، اسے خوبصورت تو نہیں کہہ سکتے کیوں کہ ٹرمپ یا اس کی تصویر پر خوبصورتی کا’’الزام‘‘ لگانا ایسا ہے جیسے کوئی کسی ہیرو پر ولن الزام لگائے ۔ایک بہت پرانا اخباری مضمون یاد آیاہے ،کسی نے ایک فلمی اداکار کے بارے میں لکھا تھا کہ وہ اداکاری کرتے ہوئے اتنا چہرہ بگاڑنے کی کوشش نہ کرے کیوں کہ قدرت نے پہلے ہی اس کے چہرے میں بگاڑ کی کوئی صورت باقی نہیں چھوڑی ہے۔  البتہ ٹرمپ کی اس تصویر کو ہم فصیح وبلیغ کے سارے نمبر دے سکتے ہیں کیوں کہ اس کے سیاسی پس منظر کے لیے اگر الفاظ استعمال کیے جائیں گے تو بہت بڑا طومار باندھنے کی ضرورت ہوگی، کہ اس نے کون کون سے’’ کارنامے‘‘انجام دیے ہیں اور وہ کن کن امور کے ماہرہیں۔ پھر امریکا میں کاؤ بوائے زمانے کی تاریخ بھی پڑھنا پڑے گی کہ یورپ سے آنے والے تارکین وطن سفید فاموں میں کہاں کہاں کیا کیا کارنامے سرانجام دیے تھے جب کہ اس تصویر کی ایک جھلک دیکھ کر اس کا سارا جغرافیہ اور پس منظر سمجھ میں آجاتا ہے کہ براعظم شمالی امریکا کے اصل باشندوں کے ساتھ کیا کچھ کیا گیا ہے۔  اس تصویر میں موصوف بندوق ہاتھ میں پکڑے کھڑا ہے اورنیچے لکھا ہے ، ٹرمپ ایران سے مخاطب ہے۔ تصویر کی بلاغت دیکھ کر وہی کیفیت ہوجاتی ہے کہ ؎  آپ کو دیکھ کر دیکھتا رہ گیا  کیا کہوں اورکہنے کو کیا رہ گیا  کہنے سننے اورسوچنے سمجھنے کی بات ہی ختم ہوگئی ہے ، بندوق ہاتھ میں پکڑ کر ایران سے بات کر رہا ہے تو وہ ’’بات‘‘ صاف صاف سمجھ میں آجاتی ہے ۔تصویر دیکھ کر ہمیں ایسا لگا جیسے وہ ابھی ابھی پکار اٹھے گا کہ ارے او سامبا… پچاس پچاس کوس تک جب کوئی بچہ روتا ہے تو ماں اسے کہتی ہے کہ سوجا ورنہ گبر سنگھ آجائے گا ۔ حیرت ہوتی ہے کہ اتنے بڑے، اتنے امن پسند، اتنی انسانیت دوستی کا دعویٰ کرنے والا، خود کو عقل کل سمجھنے والے اور جمہوریت پسند ملک کا سربراہ کاؤ بوائے کی طرح بندوق دکھاتا ہے اورذرا بھی نہیں گھبراتا لیکن بات چلتے چلتے وہیں جا کر رکے گی کہ کئی ہزارگن اور ہوں لیکن ایک دوگن آباؤ اجداد کے ضرور ہوتے ہیں۔ کاؤبوائے کی اولاد بھلے ہی اب گھوڑے کی بجائے ہوائی جہاز میں سوار ہو چکی ہے اور کوئی نہ کوئی گن تو اس میں خاندانی ہونا چاہیے اور وہ سفید فام امریکیوں میں آج بھی موجود ہے اور تسلسل سے چلا آ رہا ہے۔ امریکا کے صدر ٹرمپ بھی یورپ سے آنے والے ان تارکین وطن کا تسلسل ہے جنھوں نے کاؤ بوائے کے روپ میں ریڈ انڈینز کا شکار کیا اور پھر خود کو براعظم امریکا کا اصل مالک بھی قرار دے دیا ہے۔ٹرمپ کی یہ مثالی بلکہ ماسٹر پیس اوربندوق بردار تصویر دیکھ کر ہمیں اپنے ہاں کے ایک دورکی یاد آگئی ، کیمرہ تازہ ترین ایجاد ہوا تھا ،عام لوگوں کی رسائی سے دورتھا تو لوگ فوٹو گرافروں کے ہاں جا کر تصاویر بنواتے تھے ۔پشاور میں ایک روڈ کابلی میں تین سنیما تھے ان سنیماؤں کے بیچ بیچ فوٹو گرافروں کی دکانیں تھیں وہ کیمرے بھی عجیب ہوتے تھے۔  ایک بڑا سا بکس ہوتا تھا جس کے پیچھے کالا کپڑا ہوتا تھا، فوٹو گرافر اس کالے کپڑے میں سر گھسا کر تصویریں کھینچتا تھا ، ان فوٹو گرافروں کے پاس کچھ اوربھی لوازمات ہوا کرتے تھے جو فوٹو کھنچوانے والے استعمال کرکے خاص تصویر بنواتے تھے ۔ مثلاً ایک پستول کی خالی پیٹی۔ جس میں کارتوس لکڑی کے ہوتے تھے اورپستول کے قاش میں رومال رکھا ہوا ہوتا تھا ، خالی قاش میں کوئی پستول نہیں ہوتا تھا لیکن لگتا ایسا تھا جیسے تصویر والے نے پستول لٹکایا ہو، ایسی تصویریں کھنچوا کر لوگ اپنے گھروں اورکمروں میں لگواتے تھے، ایک ٹین کی تلوار بھی اکثر تصاویر کھچوانے والے استعمال کرتے تھے اورلکڑی کی بندوق بھی ، جسے کوئی کاندھے پر رکھتا تھا اورکئی پشت تک اسے استعمال کیا جاتا تھا۔ فوٹو گرافر کے پاس معروف فلمی ہیروئنوں کی قد آدم تصاویر بھی ہوتی تھیں، جن کے ساتھ صاحب تصویر کوئی رومانٹک قسم کاپوز بنا کر تصویر کھچواتا تھا۔ بہت سے لوگوں نے نرگس، مدہوبالا ،ثریا اور وجنتی مالا کی تصاویر کے ساتھ ایسی تصاویر بنوائی تھیں، اس پر ہمارے محلے کے ایک شخص نے اپنی بیوی کوبھی رام کیا ہوا تھا ، ہوا یوں کہ اس کی بیوی کو اپنی خوبصورتی پر بڑا نازتھا اور اس نے واجبی صورت والے شوہر کو جوتی کی نوک پر رکھا ہوا تھا، اس نے وجنتی مالا کے ساتھ ایک بڑی رومانٹک تصویر فوٹو گرافر سے بنوائی جس میں وہ راج کپور کے ساتھ والہانہ اندازمیں کھڑی تھی راج کپور نے اس کے کاندھے پر ہاتھ رکھا ہوا تھا اور وجنتی مالا ہنستی ہوئی اس سے لپٹی ہوئی تھی لیکن فوٹو گرافر نے بڑے کمال کے ساتھ راج کپور کی جگہ اس شخص کو وجنتی مالا سے لپٹا دیا تھا۔وہ تصویر اس نے اپنے بٹوے میں رکھی تھی اورایک دن دانستہ اپنا بٹوا تکیے کے نیچے ’’بھول‘‘ گیا۔ بیوی نے بٹوے میں وہ تصویر دیکھی تو حیران اورپریشان ہوگئی اوراس سے اس تصویر کے بارے میں پوچھا تو بولا ہاں یہ شہر میں ایک خان کی بیٹی ہے ، مجھ سے شادی کرنا چاہتی ہے ، سوچتا ہوں کہ کر ہی لوں ، تم نے تو ویسے بھی میری زندگی اجیرن کررکھی ہے ، اس کے ساتھ شادی کرکے اس کے بنگلے میں عیش کروں گا ، اس دن کے بعد اس کی بیوی اس کی غلام بن گئی۔ ٹرمپ کی تصویر سے بات کہاں سے کہاں پہنچ گئی ، ویسے ہم نے بڑے غورسے تصویر دیکھی ہے ٹرمپ کے ہاتھ میں جو بندوق ہے وہ اصلی لگتی ہے ، لکڑی کی نہیں ہے ۔اس لیے ایران اوردوسرے لوگوں کو بھی ڈرناچاہیے، ویسے ہی جیسے امریکا کے لوگ کاؤ بوائے بدمعاشوں سے ڈرتے تھے یا پچاس پچاس کوس تک لوگ گبر سے ڈرتے تھے ۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل