Wednesday, May 13, 2026
 

روس اور یوکرین میں جنگ بندی ختم ہوتے ہی پھر حملے شروع، کیف اور روسی علاقوں میں دھماکے

 



روس اور یوکرین کے درمیان تین روزہ جنگ بندی ختم ہونے کے بعد دونوں ممالک نے ایک دوسرے پر دوبارہ حملے شروع کر دیے ہیں، جس کے نتیجے میں یوکرین کے مختلف علاقوں میں جانی اور مالی نقصان کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ غیر ملکی خبر رساں اداروں کے مطابق روسی ڈرون حملوں کے باعث یوکرین کے دارالحکومت کیف سمیت کئی علاقوں میں خطرے کے سائرن بجا دیے گئے، جبکہ مشرقی یوکرین کے علاقے دنیپروپیٹروسک میں ایک شخص ہلاک اور متعدد افراد زخمی ہوگئے۔ یوکرینی فوجی انتظامیہ کے سربراہ تیمور تکاچینکو نے ٹیلیگرام پر جاری بیان میں کہا کہ روسی ڈرونز کیف کی فضاؤں میں داخل ہو گئے تھے، جس کے بعد شہریوں کو محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کی ہدایت دی گئی۔ حکام کے مطابق فضائی دفاعی نظام نے کئی ڈرونز کو تباہ کیا۔ دوسری جانب روسی وزارت دفاع نے دعویٰ کیا ہے کہ جنگ بندی ختم ہونے کے بعد روسی فضائی دفاعی نظام نے 27 یوکرینی ڈرون مار گرائے۔ روس کے مطابق یہ ڈرون حملے بیلگوروڈ، وورونژ اور روستوف کے علاقوں میں کیے گئے تھے۔ واضح رہے کہ امریکی صدر ٹرمپ نے گزشتہ ہفتے روس اور یوکرین کے درمیان تین روزہ جنگ بندی کا اعلان کیا تھا۔ ٹرمپ نے امید ظاہر کی تھی کہ یہ جنگ بندی چار سال سے جاری جنگ کے خاتمے کی شروعات ثابت ہوگی۔ تاہم جنگ بندی کے دوران بھی دونوں ممالک ایک دوسرے پر شہری علاقوں کو نشانہ بنانے کے الزامات لگاتے رہے۔ یوکرینی صدر زیلنسکی نے کہا کہ جنگ بندی کے باوجود محاذ پر لڑائی جاری رہی اور مکمل خاموشی دیکھنے میں نہیں آئی۔ ادھر کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے کہا ہے کہ روس یوکرین جنگ کے خاتمے سے متعلق بات چیت کے لیے تیار ہے، لیکن ابھی کسی حتمی معاہدے کی تفصیلات دینا قبل از وقت ہوگا۔ روسی صدر ولادمیر پیوٹن نے حالیہ بیان میں کہا تھا کہ یوکرین جنگ اپنے اختتامی مرحلے کی جانب بڑھ رہی ہے تاہم روسی حکام نے واضح کیا کہ فوجی آپریشن بدستور جاری رہے گا جب تک یوکرین روسی شرائط قبول نہیں کرتا۔ روس مسلسل مطالبہ کرتا رہا ہے کہ یوکرین مشرقی ڈونباس کے ان علاقوں سے دستبردار ہو جائے جو اب بھی کیف کے کنٹرول میں ہیں، تاہم یوکرینی حکومت اس مطالبے کو مسترد کر چکی ہے۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل