Wednesday, May 13, 2026
 

ڈیجیٹل حکومت اور تنہا انسان

 



بارش اُس رات بھی ہو رہی تھی،مگر یہ عام بارش نہیں تھی،یہ اسکرینوں کی بارش تھی۔ نیلی روشنی کی بارش، اطلاعات، نوٹی فکیشنز، چیختی ہوئی سرخیوں اور خاموش نگرانی کی بارش۔کراچی کے ایک فلیٹ کی بارہویں منزل پر بیٹھا سترہ سالہ نوجوان تین اسکرینوں کے درمیان گھرا ہوا تھا۔ ایک موبائل پر مختصر ویڈیوز بہہ رہی تھیں، لیپ ٹاپ پر مصنوعی ذہانت اُس کا اسائنمنٹ لکھ رہی تھی، جب کہ ٹیبلٹ پر کوئی الگورتھم اُس کے اگلے ’’دلچسپ خیال‘‘کا انتخاب کر رہا تھا۔کمرے میں مکمل خاموشی تھی، مگر اُس کے ذہن میں ایک ہجوم آباد تھا۔ہزاروں آوازیں، لاکھوں تصویریں، کروڑوں خیالات۔اور اُن سب کے درمیان ایک عجیب سا خلا۔اُس نے اچانک موبائل بند کیا اور کھڑکی سے باہر دیکھنے لگا۔ نیچے سڑک پر لوگ بارش میں بھیگ رہے تھے۔ ایک فقیر سگنل پر کھڑا تھا، ایک باپ اپنے بچے کو موٹر سائیکل پر سنبھال رہا تھا، ایک بوڑھا شخص چائے کے ہوٹل میں تنہا بیٹھا تھا۔زندگی باہر تھی،مگر انسان اندر قید ہو چکا تھا۔ شاید ہماری صدی کا سب سے بڑا المیہ یہ ہی ہے کہ انسان نے دنیا کو اپنی ہتھیلی میں قید کرتے کرتے خود کو اسکرین کے اندر دفن کر لیا۔یہ جو ہم’’ ڈیجیٹل دنیا ‘‘کہتے ہیں، یہ محض ٹیکنالوجی نہیں، یہ طاقت کا ایک نیا تصور ہے۔ایسی طاقت جو بندوق کے بغیر حکم دیتی ہے، جیل کے بغیر قید کرتی ہے اور نظریے کے بغیر ذہن تشکیل دیتی ہے۔ تاریخ میں سلطنتیں ہمیشہ زمین پر قائم ہوتی تھیں۔روم کے پاس لشکر تھے، برطانیہ کے پاس بحری بیڑے، سوویت یونین کے پاس نظریاتی ریاست،مگر اکیسویں صدی کی سب سے طاقتور سلطنت کا کوئی جغرافیہ نہیں۔اُس کی سرحدیں فائبر آپٹک کیبلز میں دوڑتی ہیں، اُس کے سپاہی الگورتھمز ہیں اور اُس کا اصل سرمایہ انسانی توجہ ہے۔آج دنیا کی سب سے قیمتی شے سونا یا تیل نہیں،’’ انسانی توجہ ‘‘ہے۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق اوسط انسان روزانہ 7 گھنٹے سے زیادہ اسکرینوں پر گزارتا ہے۔ نوجوان نسل میں یہ دورانیہ 9 گھنٹے تک پہنچ چکا ہے۔ ہر منٹ میں یوٹیوب پر 500 گھنٹے سے زیادہ ویڈیو اپ لوڈ ہوتی ہے، گوگل پر تقریباً 6.5 ملین سرچز ہوتی ہیں، جب کہ ٹک ٹاک کا الگورتھم چند سیکنڈز میں انسان کی نفسیاتی کمزوریوں کا نقشہ بنا لیتا ہے۔ یہ سب مفت نہیں۔ہم سمجھتے ہیں کہ ہم ایپس استعمال کر رہے ہیں، حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ ایپس ہمیں استعمال کر رہی ہیں۔سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کا پورا معاشی ڈھانچہ انسانی کمزوریوں پر کھڑا ہے۔ خوف، غصہ، خواہش، حسد اور تنہائی ۔ یہ سب اُن کی معیشت کا ایندھن ہیں۔جتنی زیادہ بے چینی، اتنی زیادہ اسکرین ٹائم۔جتنا زیادہ اسکرین ٹائم، اتنا زیادہ منافع۔اسی لیے الگورتھم کبھی سکون پیدا نہیں کرتے۔وہ اضطراب پیدا کرتے ہیں،یہ ایک خاموش نفسیاتی انجینئرنگ ہے۔انسان کو مسلسل اس کیفیت میں رکھنا کہ وہ کچھ ’’ مس‘‘کر رہا ہے۔کوئی خبر، کوئی تصویر، کوئی رجحان، کوئی نئی خواہش۔یوں انسان پہلی بار جسمانی نہیں بلکہ ذہنی نوآبادیات کا شکار ہوا ہے۔یہ استعمار توپوں کے ذریعے نہیں آتا۔یہ نوٹیفکیشن کے ذریعے آتا ہے۔پہلے طاقتور قوتیں زمینوں پر قبضہ کرتی تھیں، اب وہ شعور پر قبضہ کرتی ہیں۔پہلے غلامی زنجیر میں نظر آتی تھی، اب آزادی کے لباس میں چھپی ہوئی ہے۔اسی لیے آج کا انسان بہ ظاہر پہلے سے زیادہ آزاد ہے، مگر اندر سے پہلے سے زیادہ تنہا۔ عالمی ادارہ صحت مسلسل خبردار کر رہا ہے کہ نوجوانوں میں ڈپریشن، اینزائٹی اور سماجی تنہائی کی شرح خطرناک حد تک بڑھ رہی ہے۔ امریکا اور یورپ میں’’لونلی نیس ایپیڈیمک‘‘ایک مستقل سماجی بحران بن چکی ہے،مگر دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ سب اُس دور میں ہو رہا ہے جب انسان تاریخ میں پہلی بار مسلسل ’’کنیکٹڈ‘‘ہے۔یہ کیسا تعلق ہے جو انسان کو مزید تنہا کر رہا ہے؟شاید اس لیے کہ ڈیجیٹل دنیا رابطہ تو دیتی ہے، رفاقت نہیں۔آواز دیتی ہے، لمس نہیں۔نمائش دیتی ہے، تعلق نہیں۔انسانی روح محض معلومات سے زندہ نہیں رہتی۔اُسے خاموشی، معنی اور قربت بھی چاہیے،مگر جدید ڈیجیٹل تہذیب خاموشی سے خوفزدہ ہے۔وہ چاہتی ہے کہ انسان ہر لمحہ مصروف رہے، تاکہ وہ کبھی اپنے اندر جھانک نہ سکے، اسی لیے اب تنہائی بھی ختم ہو چکی ہے۔انسان اکیلا ضرور ہوتا ہے، مگر تنہا نہیں رہتا، کیونکہ اسکرین فوراً اُس کے ذہن میں داخل ہو جاتی ہے۔یہ وہ مقام ہے جہاں مصنوعی ذہانت ایک نئے مرحلے میں داخل ہوتی ہے۔اب الگورتھم صرف ہماری پسند نہیں جانتے، وہ ہمارے فیصلوں پر اثرانداز بھی ہوتے ہیں۔وہ جانتے ہیں کہ ہمیں کس خبر پر غصہ آئے گا، کس تصویر پر ہم رک جائیں گے، کس جملے سے ہماری خواہش بیدار ہوگی۔کیمبرج اینالیٹیکا اسکینڈل نے پہلی بار دنیا کو بتایا کہ ڈیٹا محض معلومات نہیں، سیاسی ہتھیار بھی ہے۔ کروڑوں افراد کی نفسیاتی پروفائلنگ کرکے انتخابات تک متاثر کیے گئے۔یعنی جمہوریت کے عہد میں بھی انسان کے فیصلے اُس کے اپنے نہیں رہے۔یہاں سوال صرف پرائیویسی کا نہیں۔سوال انسان کی آزادیِ ارادہ کا ہے،اگر ایک مشین آپ کے خوف، خواہش، کمزوری اور عادت کو آپ سے بہتر جاننے لگے تو پھر اصل حاکم کون ہے؟ یہ ہی وہ مقام ہے جہاں ڈیجیٹل دنیا ایک نئی ’’ غیر مرئی سلطنت‘‘ محسوس ہونے لگتی ہے۔ایسی سلطنت جس کا بادشاہ کوئی فرد نہیں بلکہ ایک خودکار نظام ہے،جس کے قوانین پارلیمنٹ میں نہیں بلکہ کوڈ میں لکھے جاتے ہیں۔ جہاں عدالتیں نہیں، الگورتھمز فیصلے کرتے ہیں۔جہاں رعایا خوشی خوشی اپنی نگرانی قبول کرتی ہے اور شاید اس پوری کہانی کا سب سے خطرناک پہلو یہ ہے کہ ہم نے سہولت کو آزادی سمجھ لیا ہے۔ہم راستہ یاد رکھنے کے بجائے جی پی ایس پر منحصر ہو گئے۔ہم سوچنے کے بجائے سرچ کرنے لگے۔ہم یاد رکھنے کے بجائے کلاؤڈ پر جینے لگے،یوں آہستہ آہستہ انسان کی داخلی صلاحیتیں مشینوں کے حوالے ہوتی گئیں۔  کیا ٹیکنالوجی بذاتِ خود مسئلہ ہے؟ میرا خیال ہے اِس کا جواب اِس میں پنہاں ہے کہ،کیا جدید ٹیکنالوجی ویلیو نیوٹرل ہے؟اگر آپ نے اِس سوال کا درست جواب جان لیا تو گویا درست سمت طے ہوگئی۔اِس موضوع پر پھر کبھی بات ہوگی، یہاں مسئلہ اُس تہذیبی تصور کا ہے جس میں انسان کو صرف’’ ڈیٹا یونٹ‘‘سمجھا جاتا ہے۔ایک ایسا صارف جس کی توجہ خریدی اور بیچی جا سکتی ہے،یہی وجہ ہے کہ جدید دنیا میں سب کچھ تیز ہوا، مگر انسان اندر سے خالی ہوتا گیا۔رفتار بڑھی، معنی کم ہوئے۔معلومات بڑھیں، حکمت گھٹ گئی۔رابطے بڑھے، تعلق مر گیااور شاید یہی ہماری صدی کا اصل بحران ہے۔مشینیں ذہین ہو رہی ہیں، انسان سطحی۔  بارش اب رک چکی تھی۔نوجوان دوبارہ کھڑکی کے پاس آیا۔ نیچے سڑک پر وہی فقیر اب بھی کھڑا تھا، مگر اُس کے موبائل کی بیٹری ختم ہو چکی تھی،کمرے میں پہلی بار مکمل خاموشی تھی۔اُسے اچانک احساس ہوا کہ خاموشی کتنی اجنبی چیز بن چکی ہے،وہ کرسی پر بیٹھ گیا۔اسکرین بند تھی،کمرے میں اندھیرا تھااور شاید کئی برسوں بعد پہلی بار وہ اپنے ساتھ اکیلا تھا۔یہ ہی وہ لمحہ تھا جہاں انسان دوبارہ انسان بن سکتا تھا،کیونکہ آنے والے زمانوں میں اصل جنگ شاید زمینوں، معیشتوں یا سرحدوں کی نہیں ہوگی۔اصل جنگ انسان کے شعور پر ہوگی اور اُس دن سب سے بڑا باغی وہ ہوگا جو اسکرین بند کرکے اپنے اندر اترنے کی ہمت کرے گا۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل