Wednesday, May 13, 2026
 

اسلام آباد کے غریب

 



اسلا م آباد واحد بڑا شہر ہے جو ملک آزاد ہونے کے بعد آباد ہوا۔ اسلام آباد، آباد ہونے سے پہلے کچھ آبادیاں پہلے سے وہاں موجود تھیں۔ اسلام آباد کے مختلف سیکٹرز آباد ہوئے تو ہزاروں لاکھوں افراد اسلام آباد کے مختلف سیکٹرز میں منتقل ہوئے۔ اب اسلام آباد کے آباد ہونے والے مکانات اور تعمیر ہونے والے دفاتر کی صفائی اور سیوریج کے نظام کو فعال کرنے کے لیے سینیٹری ورکرز کی ضرورت پیدا ہوئی۔ ان لاکھوں گھروں میں کام کرنے کے لیے نوکروں اور عورتوں کی ضرورت بہت بڑھ گئی۔ دکانوں، بازاروں اور سرکاری و نجی دفاتر میں صفائی ستھرائی اور دیگر کاموں کے لیے نوکروں اور گھریلو ملازماؤں کی مانگ بڑھ گئی۔ یہ سینیٹری ورکرز ،مختلف نوعیت کے کام کرنے والے نوکر اور ملازمائیں پنجاب، خیبر پختون خوا اور گلگت و بلتستان سے آکر مختلف نوعیت کے فرائض انجام دینے لگے۔ ان لوگوں نے نئے تعمیر شدہ سیکٹرز کے قریب کچے مکانات تعمیر کرنا شروع کیے یا لینڈ مافیا نے انھیں کیپیٹل ڈولپمنٹ اتھارٹی (C.D.A) کے اہلکاروں کی ملی بھگت سے اسلام آباد کے مختلف سیکٹرز میں آباد کرنا شروع کیا۔ تو جیسے جیسے اسلام آباد کے مختلف سیکٹرز آباد ہونے لگے چھوٹے ملازمین کی ضرورت زیادہ ہونے لگی، اسی طرح کچی آبادیوں کی تعداد بڑھنے لگی۔ گزشتہ 26 برسوں میں اسلام آباد کی آبادی 1.33 ملین تک پہنچ گئی۔ ایک سروے کے مطابق پورے اسلام آباد میں 50 سے 60 کچی آبادیاں اس عرصے میں وجود میں آئیں۔ ان کچی آبادیوں میں ایک اندازے کے مطابق ایک لاکھ سے زیادہ نفوس آباد ہیں۔ ایک اور سروے سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس سال اسلام آباد کی کل آبادی 1,335,550 تک پہنچ جائے گی۔ راولپنڈی اور اسلام آباد کی مجموعی آبادی 4.5 ملین تک پہنچ گئی ہے۔ اس موضوع پر آسانی سے دستیاب ہونے والے مواد سے ظاہر ہوتا ہے کہ سی ڈی اے نے 2002ء سے کچی آبادیوں اور غیر رسمی بستیوں کا کوئی جامع سروے کا اہتمام نہیں کیا۔ یہ بھی بتایا جاتا ہے کہ سی ڈی اے کے ریکارڈ کے مطابق صرف 6کچی آبادیاں رجسٹرڈ ہیں۔ سی ڈی اے باقی کچی آبادیوں کو اپنے ریکارڈ کے مطابق تسلیم نہیں کرتا، مگر نیشنل ہاؤسنگ پالیسی 2025ء کی دستاویزات سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس وقت اسلام آباد میں 6 سے زیادہ کچی آبادیاں ہیں۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ ان کچی آبادیوں میں رہنے والے افراد کی تعداد 5 لاکھ تک پہنچ گئی ہے۔ درگاہ بری امام کے قریب قدیم مقامی آبادی ہے بعض جگہوں پر وہ لوگ آباد ہو گئے جو اسلام آباد کی تعمیر کے لیے بطور مزدور لائے گئے تھے۔ یہ مزدور اپنے آبائی علاقے چھوڑ کر آئے تھے۔ سی ڈی اے نے جرائم کے خاتمے اور دیگر وجوہات کی بناء پرغیرقانونی آبادیوں کو مسمار کرنا شروع کیا۔ اس پالیسی سے ہزاروں افراد بے گھر ہوئے۔ ان لوگوں کے پاس رہائش کا کوئی متبادل انتظام نہیں تھا۔ بائیں بازو کی سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں کے احتجاج کے باوجود انتظامیہ ان آبادیوں کو مسمار کرنے کے لیے اپنی پالیسی سے پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں تھی۔ اسی دوران اسلام آباد میں قائم ایک کثیر المنزلہ عمارت مسمار کرنے کی بات سننے میں آئی۔ اس عمارت کو اسلام آباد ہائی کورٹ نے غیر قانونی قرار دیدیا۔ سپریم کورٹ کے سابق چیف جسٹس گلزار احمد نے کراچی کی سندھ مسلم سوسائٹی میں قائم ایک ملٹی اسٹوری ٹاور کی عمارت کو قواعد کی خلاف ورزی پر مسمار کرنے کا حکم دیا تھا اور اس فیصلہ پر مکمل طور پر عملدرآمد ہوگیا ،البتہ اسلام آباد والی لگژری بلڈنگ میں سابق وزرائے اعظم، سیاست دانوں، ریٹائرڈ ججوں، بیوروکریٹس، سو ل و ریٹائرڈ فوجی افسروں اور بعض صحافیوں کی رہائش ہے، جس کی وجہ سے اس عمارت کو بچانے کی مہم شروع ہوگئی۔ یہاں ان لوگوں کے فلیٹ ہیں جو ماضی میں فیصلہ سازی میں شریک تھے ۔یہی وجہ ہے کہ یہاں کے مکینوں کی آوازیں بہت مختصر عرصہ میں وزیر اعظم ہاؤس اور ایوانِ صدر تک پہنچ گئیں۔  وزیر اعظم نے اس مسئلہ کے حل کے لیے ایک اعلیٰ سطح کمیٹی بنائی ہے جو اس تنازع کو ضرور حل کرے گی۔ تاہم وزیر داخلہ محسن نقوی نے اعلان کر رکھا ہے کہ اسلام آباد میں سرکاری زمینوں پر جو عمارتیں تعمیر کی گئیں ان سب کو مسمار کردیا جائے گا۔ اس فیصلے کا سرکاری دفاتر پر بھی اطلاق ہوگا۔بہرحال کچی آبادیوں کو مسمار کرنے کا آپریشن شروع ہے۔ اصولی طور پر کچی آبادیاں اسی طرح آباد ہوئیں جس طرح سرکاری ملازمین کے لیے مکانات تعمیر ہوئے تھے۔ فرق صرف یہ ہے کہ سرکار نے سرکاری مکانات تعمیر کیے جب کہ ان غریبوں نے مقامی انتظامیہ کے اہلکاروں کی مدد سے کچے مکانات تعمیر کیے، یوں یہ آبادیاں بن گئیں۔ حکومت کا فرض ہے کہ ان آبادیوں کو مسمار کرنے کے بجائے انھیں ریگولرائز کرے اور جدید سہولتیں فراہم کرنے پر توجہ دی جائے۔ اسلام آباد کے غریب پھر زیر عتاب ہیں۔ شدید مہنگائی، پیٹرول و گیس کی قیمتوں میں اضافہ، سی این جی کی نایابی اور نوجوانوں میں بڑھتی ہوئی بے روزگاری کے ساتھ اسلام آباد کی کچی آبادیوں کے مکینوں کے گھروں پر بلڈوزر چلائے جا رہے ہیں۔ شدید گرمی اور اس گرمی میں ان کچی آبادیوں کے لاکھوں مکینوں کے پاس کوئی متبادل جگہ نہیں ہے۔ یہی وہ لوگ ہیں جو 1960 سے اسلام آباد میں آباد ہونے والے ملازمین اور ان کے اہل ِ خانہ کو بنیادی سہولتیں فراہم کرتے رہے ہیں۔ 60ء کی دہائی سے اسلام آباد میں آباد ہونے والے ان غریبوں کی کئی نسلیں ان کچی آبادیوں میں آباد تھیں۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل