Thursday, May 14, 2026
 

اب فیصلے ایوان میں نہیں میدان میں ہوں گے، مولانا فضل الرحمان کا ملگ گیر احتجاج کا اعلان

 



جمعیت علمائے اسلام نے مہنگائی کے خلاف ملگ گیر احتجاج کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ اب فیصلے ایوان میں نہیں میدان میں ہوں گے اور اس سلسلے میں 22 مئی کو ملک بھر میں مظاہرے ہوں گے۔ کراچی میں جمعیت علمائے اسلام کی وحدت امت کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ امت مسلمہ کئی دہائیوں سے عالمی بربریت اور ظلم کا شکار ہے، امریکا اور مغرب کےبارود کی بارش امت مسلمہ پر ہو رہی ہے، انہوں نے اپنی طاقت افغانستان، عراق اور لیبیا پر چڑھائی کی۔ انہوں نے کہا کہ فلسطین غزہ  کے مسلمانوں پر جو بیتی، اس سے ساری دنیا دیکھتی رہی، افسوس کہ امت مسلمہ بھی تماشائی بن کر رہی، امت مسلمہ کا ضمیر سویا رہا اور اب مسئلہ قبلہ اول سے ایران تک پہنچ گیا۔ مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ ایران کو اسرائیل نے سرکرلیا تو اسرائیل پاکستان کے دروازے پر ہوگا، یہ امت مسلمہ پر قبضہ کرنا چاہتے ہیں، ان کی نظریں حرمین الشریفین پر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عرب ممالک سے کہتا ہوں یہ ایک ہونے کا وقت ہے، آئیں ایک دفاعی قوت بن کر امت کا دفاع کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان قومی یکجہتی سے محروم ہے، جمعیت علامائے اسلام قومی یک جہتی کی مثال ہے، ہم نفرت تعصب کے قائل نہیں ہیں، اختلاف پر بات کریں مگر سلیقے اور شائستگی کے ساتھ کریں، ہم نفرتوں کی سیاست کو دفن کرتے ہیں، ہم پاکستان میں شدت کی نہیں محبت کی سیاست کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم آئین کے وفادار ہیں، آئین توڑتے ہیں تو ملک کی تباہی کے ذمہ دار آپ ہیں، دفاعی اداروں کا احترام کرتا ہوں، جمعیت علمائے اسلام کو مدمقابل لانےکی کوشش کی تو اپنی ہلاکت کا اعلان کروگے، جمعیت علمائے اسلام مؤثر قوت ہے۔ مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ جمعیت علمائے اسلام کی برکت سے پاکستان بچا ہوا ہے، ہم نے خون کی قربانی دی ہوئی ہے، ہمارے علما، کارکنان اور عہدیدار نشانہ بنے، جمیعت علمائے اسلام کا گناہ بتائیں، ہمیں قتل کرنے والوں کو پتا ہے، جمعیت علمائے اسلام ان کو ملک توڑنے نہیں دے رہی، ہم جمہوری نظام سے وابستہ الیکشن لڑتے ہیں لیکن ہمیں دھاندلی کے ذریعے باہر کیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک طرف کچھ قوتیں ہم پر کفر کے فتوے لگاتی ہیں، ایک طرف ہمیں پارلیمنٹ سے باہر کیا جاتا ہے، ہم پگڈنڈی پر سفر کر رہے ہیں، ہم نے باجوڑ میں ایک جنازے میں 80 لاشیں اٹھائیں، کرم، وزیرستان اور مہمند میں علما ہی کیوں نشانے پر ہیں، ہم نے اپنی تاریخ سےکسی کے سامنے سرجھکانا نہیں سیکھا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مجھے جو بھی قتل کرےگا اس کا بدلہ نہیں لوں گا، میرے قتل کی ذمہ دار ریاست ہوگی، فون کرکے کہتے ہیں کہ آپ نہ جائیں، یہاں بھی روک رہے تھے لیکن میں نےکہا جاؤں گا۔ سربراہ جمعیت علمائے اسلام نے کہا کہ حکمران اپنی خارجہ پالیسی ٹھیک کریں، پاکستان کی مشرقی مغربی سرحدیں ہیں، چین پاکستان پر اعتماد کھو رہا ہے، وہاں سےخیر کی توقع نہیں، آبنائے ہرمز بند ہوا ہمارے حکمرانوں کے سارے آبنائے ہرمز بند ہوگئے۔ حکومتی اقدامات پر تنقید کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بنگلہ دیش میں پیٹرول 16فیصد اور پاکستان میں 61 فیصد مہنگا ہوا، ایران سے تیل برآمد کرنے کا معاہدہ کرو۔ ان کا کہنا تھا کہ سندھ ویسے ہی ڈاکووں کے ہاتھ میں ہے، صدر پاکستان مستثنیٰ ہیں، زندگی بھر اس کے خلاف مقدمہ نہیں ہوسکتا۔ انہوں نے کہا کہ آج ملک میں اداروں کی نجکاری کی جا رہی ہے، مدارس پر قدغن لگائی جا رہی ہے، مدارس کی قانون سازی پر عمل درآمد نہیں ہو رہا ہے، ملک میں امن چاہیے، روزگار اور تعلیم چاہیے، مہنگائی کم کی جائے۔۔ مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ جمعیت علمائے اسلام نے امریکا اور ایران مذاکرات کے سبب مظاہرے ملتوی کیے تھے لیکن 22 مئی کو ملک بھر میں مہنگائی کے خلاف مظاہرے ہوں گے۔ ملک گیر احتجاج کا اعلان کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ عوام کے دکھ درد میں ساتھ ہیں، تمام ضلعی ہیڈکوارٹرز میں مہنگائی کے خلاف مظاہرے ہوں گے، 4 جون کو پشین میں جلسہ کریں گے۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل