Loading
پنجاب کے گورنر سردار سلیم حیدر خان نے کہا ہے کہ پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) نے 26 ویں ترمیم کی شق پراعتراض کرتے ہوئے ٹھیک کروایا تھا اور اب 28 ویں ترمیم آئی تو اس کو دیکھ کر ہی حمایت کا فیصلہ ہوگا۔
گورنر پنجاب سردار سلیم حیدر خان نے بطور گورنر پنجاب تعیناتی کے دو سال مکمل ہونے پر اپنی کارگردگی رپورٹ پیش کرتے ہوئے عوامی مفادات میں کیے گئے کاموں پر خصوصی ڈاکومنٹری بھی دکھائی۔
انہوں نے کہا کہ ترامیم قومی مفادات کے لیے ہوتی ہیں، پیپلز پارٹی نے 26ویں ترمیم کی شق پر اعتراض اٹھاتے ہوئے ٹھیک کروایا، کوئی اور ترمیم آتی ہے تو اس کو دیکھ کر ہی حمایت کا فیصلہ ہوگا۔
ان کا کہنا تھا کہ پنجاب میں بلدیاتی انتخابات ہوتے نظر نہیں آرہے ہیں، ہمیشہ ایک عہدے پر رہنے کا خدائی دعویٰ طاقت ور بھی نہیں کر سکتا۔
صوبائی حکومت کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ حکومت پنجاب سے اختلافات گھر کا معاملہ ہے، اتحادی حکومت میں ہیں، اختلافات نہیں چاہتے۔
گورنر پنجاب نے کہا کہ سیاسی آدمی ہوں جلسوں کے بغیر نہیں رہ سکتا مگر سرکاری کام ٹمٹانےکے لیے رات گئے تک بھی کام کرتا ہوں، گزشتہ 3 برسوں سے تاخیر کی شکار اپیل کو بھی سنا ہے اور اب کوئی ایک فائل پنڈنگ نہیں ہے۔
سردار سلیم حیدر خان کا کہنا تھا کہ 28ویں ترمیم آتی ہے تو اس کو دیکھ کر ہی حمایت کا فیصلہ ہوگا۔
گورنر پنجاب نے تجویز دی کہ یورنیورسٹی میں فیصلوں کے تمام اختیارات گورنر ہاؤس کے پاس ہونے چاہئیں، ہائیر ایجوکیشن ڈپارٹمنٹ اور وزیراعلیٰ ہاؤس کی مداخلت سے فیصلوں میں تاخیر ہوتی ہے۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل