Loading
ایران نے اعلان کیا ہے کہ اب دشمن ممالک کے فوجی ہتھیاروں اور عسکری سازوسامان کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
ایران کے پہلے نائب صدر محمد رضا عارف نے اپنے بیان میں کہا کہ ماضی میں ایران نے آبنائے ہرمز پر اپنی خودمختاری کے حق میں نرمی اختیار کی تھی اور ایسے فوجی سامان کو گزرنے دیا جاتا تھا جو بعد میں ایران کے خلاف استعمال ہوتا تھا، تاہم اب ایسا دوبارہ نہیں ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ ایران اب اپنی قومی سلامتی اور علاقائی مفادات کے تحفظ کیلئے سخت اقدامات کرے گا اور کسی بھی ایسے فوجی سامان کی ترسیل برداشت نہیں کی جائے گی جو دشمن قوتوں کے مفاد میں ہو۔
ایرانی نائب صدر کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے میں کشیدگی بدستور برقرار ہے اور آبنائے ہرمز عالمی توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے۔
ماہرین کے مطابق آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین بحری گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے، جہاں سے عالمی تیل تجارت کا بڑا حصہ گزرتا ہے۔ اس لیے ایران کی جانب سے فوجی سامان کی نقل و حرکت محدود کرنے کے اعلان سے عالمی سلامتی اور توانائی کی منڈیوں پر اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
یاد رہے کہ حالیہ مہینوں میں ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی، خلیجی پانیوں میں عسکری سرگرمیوں اور بحری راستوں کی نگرانی کے معاملات میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل