Loading
راولپنڈی میں میٹرو بس سروس کے ملازمین نے برطرفیوں اور تنخواہوں کی عدم ادائیگی کے خلاف شدید احتجاج کیا، جس کے باعث جڑواں شہروں کے درمیان میٹرو بس سروس معطل ہوگئی اور لاکھوں مسافروں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔
مظاہرین کے مطابق میٹرو بس انتظامیہ نے 150 سے 200 ملازمین کو بغیر کسی نوٹس کے ملازمتوں سے فارغ کر دیا، جبکہ برطرف ملازمین کی گزشتہ دو ماہ کی تنخواہیں بھی ادا نہیں کی گئیں۔ احتجاجی ملازمین کا کہنا تھا کہ برطرفیوں کا سلسلہ یکم مئی سے جاری ہے۔
برطرف ملازمین آئی جی پی میٹرو بس اسٹیشن پر جمع ہوئے اور بعد ازاں میٹرو بس ٹریک پر آ کر نعرے بازی کی، جس کے نتیجے میں بس سروس بند ہوگئی۔ احتجاج میں خواتین ملازمین نے بھی شرکت کی۔
مظاہرین کا کہنا تھا کہ میٹرو بس سروس کا ٹھیکہ نئی کمپنی کو دیا گیا ہے، جس نے پرانے ملازمین کو نکال کر نئے افراد کو بھرتی کیا، حالانکہ موجودہ ملازمین کے کنٹریکٹ 2027 تک موجود ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ کئی ملازمین گزشتہ 8 سے 10 سال سے میٹرو بس سروس میں خدمات انجام دے رہے تھے۔
احتجاج کے باعث آئی جے پی اسٹیشن اور نائنتھ ایونیو پر اسلام آباد پولیس کی بھاری نفری تعینات کی گئی جبکہ متعدد بسیں آئی جے پی اسٹیشن کے قریب کھڑی کر دی گئیں۔
مظاہرین نے وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف سے معاملے کا فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ مہنگائی اور بے روزگاری کے اس دور میں اچانک برطرفیاں ملازمین کے لیے شدید مشکلات کا باعث بن رہی ہیں۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل