Loading
اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے دعویٰ کیا ہے کہ 7 اکتوبر 2023 کے حملے میں ملوث تمام ’ماسٹر مائنڈز‘ کو ختم کرنے کے قریب پہنچ چکے ہیں۔ یہ بیان انہوں نے کابینہ کے ہفتہ وار اجلاس میں دیا۔
نیتن یاہو نے کہا کہ ان کی حکومت نے پہلے ہی عزم کیا تھا کہ حملے اور یرغمالیوں کے اغوا میں شامل تمام افراد کو ایک ایک کرکے نشانہ بنایا جائے گا، اور اب یہ مشن اپنے آخری مراحل میں داخل ہو چکا ہے۔
ان کے مطابق اسرائیلی فوج نے حماس کے عسکری ونگ کے اہم کمانڈر کو مارنے کا بھی اعلان کیا ہے۔
اسرائیلی وزیر اعظم نے ایک بار پھر دعویٰ کیا کہ اسرائیلی افواج غزہ کے تقریباً 60 فیصد علاقے پر کنٹرول رکھتی ہیں۔
ان کے مطابق فوجی کارروائیاں مسلسل وسعت اختیار کر رہی ہیں اور مقصد یہ ہے کہ غزہ مستقبل میں اسرائیل کے لیے خطرہ نہ بن سکے۔
دوسری جانب غزہ میں انسانی صورتحال بدترین ہوتی جا رہی ہے۔ فلسطینی حکام کے مطابق اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر جانی نقصان ہوا ہے اور ہزاروں افراد متاثر ہوئے ہیں۔
علاقے میں جنگ بندی کے باوجود جھڑپیں اور حملے جاری رہنے کی رپورٹس بھی سامنے آ رہی ہیں۔
رپورٹ کے مطابق 7 اکتوبر کے حملوں کے بعد اسرائیل نے حماس کی قیادت اور کمانڈرز کو غزہ کے اندر اور باہر مسلسل نشانہ بنایا ہے، جس میں متعدد اعلیٰ رہنما مارے جا چکے ہیں۔
جنگ بندی کے معاہدے کے باوجود دونوں فریقین کے درمیان کشیدگی برقرار ہے اور خطے میں صورتحال مسلسل غیر مستحکم ہے۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل