Loading
پاکستان نے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ(آئی ایما یف)کو پاکستان کے قرضے میں کمی کا فریم ورک پیش کر دیا ہے جس کے تحت تک جی ڈی پی کے لحاظ سے قرضے کی کی شرح (دیبٹ ٹو جی ڈی پی) 55.7 فیصد تک لائی جائے گی۔
ذرائع کے مطابق پاکستان کی جانب سے آئی ایم ایف کو پیش کردہ فریم ورک کے مطابق اگلے سال قرض جی ڈی پی کے 67.4 فیصد پر لایا جائے گا جبکہ 2034 تک قرض ٹو جی ڈی پی 55.7 فیصد کرنے کا فریم ورک ہے 2028 میں قرض ٹو جی ڈی پی شرح 64.7 فیصد اور 2029 میں 61.6 فیصد تک لائی جائے گی۔
2033 میں 56.8 فیصد اور 2034 میں قرضے جی ڈی پی کا 55.7 فیصد ہوں گے آئی ایم ایف کے مطابق قرض میں کمی کے لیے ٹیکس اصلاحات ضروری ہیں، اخراجات پر کنٹرول نہ کیا تو قرضوں کا بوجھ کم نہیں ہوگا۔
قرض میں کمی کے لیے ایف بی آر اور توانائی شعبے میں اصلاحات ناگزیر ہیں، اصلاحات کے بغیر قرضوں میں کمی کے فریم ورک پر عمل درآمد نہیں ہو سکے گا۔
ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف کا کہنا ہے کہ قرض میں کمی کے لیے ٹیکس نیٹ وسیع کرنا اور ریاستی اداروں کے نقصانات کم کرنا ہوں گے، توانائی شعبے کا گردشی قرض کنٹرول کر کے بیرونی فنانسنگ ذرائع مستحکم بنانا ہوں گے۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل