Friday, May 22, 2026
 

پنکی کے 16 بینک اکاؤنٹ ملے، معاملہ منی لانڈرنگ کی طرف جارہا ہے، سندھ پولیس کی سینیٹ کمیٹی کو بریفنگ

 



آئی جی سندھ پولیس نے سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کو بتایا ہے کہ ابھی تک پنکی کے 16 بینک اکاؤنٹس ملے ہیں، اس کے ایک اکاؤنٹ سے 90 لاکھ روپے نکلے، اس کا معاملہ منی لانڈرنگ کی طرف بھی جارہا ہے۔ اسلام آباد میں سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کا اجلاس ہوا، ایڈیشنل آئی جی سندھ پولیس نے انمول پنکی کے معاملے پر کمیٹی کو بریفنگ دی۔ ایڈیشنل آئی جی سندھ پولیس نے بتایا کہ یہ 2008ء میں لاہور آئی جہاں یہ ماڈلنگ کرنا چاہتی تھی، پہلا شوہر رانا ناصر تھا جو کہ ڈرگ ڈیلر تھا، پھر اس نے طلاق لے کر سی آئی اے کے افسر سے شادی کرلی، یہ خاتون اور اس کے بھائی منشیات فروش ہیں، یہ لاہور سے سیٹ اپ چلاتی تھی، خواتین کے ذریعے منشیات سپلائی کرتی تھی،2021ء سے 2026ء تک اس کے خلاف 17 کیسز بنے، پنجاب میں اس پر پانچ کیسز ہیں، اس کے پرانے گھر سے بھی کوکین برآمد ہوئی، یہ معاملہ کافی پھیل رہا ہے، 2019ء میں ایک کیس میں اس کا پاسپورٹ بلاک ہوگیا تھا اس نے بعد میں دوسرا پاسپورٹ بنوانے کی کوشش کی۔ ایڈیشنل آئی جی نے کہا کہ انمول پنکی کے خلاف سندھ پولیس اور وفاقی ادارہ کام کررہے تھے، انمول کو 12 مئی کو آپریشن کے دوران گارڈن کے علاقے سے گرفتار کیا گیا، گرفتاری کے دوران کوکین اور اسلحہ برآمد ہوا، ملزمہ کو عدالت میں پیش کیا گیا جیسے اس کی پیشی ہوئی وہ ہائی لائٹ ہوا، عدالت پیشی پر ہمیں ریمانڈ نہیں ملا، کراچی میں منشیات کا عادی شخص مر گیا، اس سے برآمد ہونی والی ڈبی پر انمول پنکی برانڈ اس کی تصویر تھی، اس معاملے میں ایس ایچ او اور تفتیشی افسر کو معطل کیا۔ ایڈیشنل آئی جی سندھ پولیس بتایا کہ ابھی تک پنکی کے 16 بینک اکاؤنٹس ملے ہیں، اس کے ایک اکاؤنٹ سے 90 لاکھ روپے نکلے، اس کا معاملہ منی لانڈرنگ کی طرف بھی جارہا ہے، اس کے کانٹیکٹس اسلام آباد میں بھی ہیں، ہم پنجاب پولیس کے ساتھ تعاون کررہے ہیں، این سی سی آئی اے اور ایف آئی اے کے ساتھ مل کر بھی اس معاملے پر بات کریں گے۔ چئیرمین کمیٹی سینیٹر سیف اللہ ابڑو نے پوچھا کہ پنکی  خام مال کہاں سے خرید رہی تھی؟ کہاں بیٹھ کر بنا رہی تھی اور کن کن لوگوں کو سپلائی کررہی تھی؟ وہ اے این ایف کے پرچے میں 2019ء سے مطلوب تھی تو آپ نے اس کو گرفتار کیوں نہیں کیا؟ میں پورے ملک میں صرف سرکار کو بدمعاش سمجھتا ہوں، جو بدمعاشی کرے گا تو سرکاری مشینیری حرکت میں آئے گی۔ اے این ایف حکام نے کہا کہ ہمارے پاس انمول کا کیس 2019ء میں بنا تھا ان کا شناختی کارڈ اور پاسپورٹ بلاک تھا، ابھی یہ سندھ پولیس کی تحویل میں ہے۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل